کیا سوشل میڈیا کا گلا دبانے سے حکومت بچ جائے گی؟

جب کالے قوانین کے ذریعے میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کی بات ہو تو وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حکمران جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو آزاد میڈیا کو پسند کرتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو اسی سے نفرت کرنی شروع کر دیتے ہیں کیونکہ آزاد میڈیا آئینے میں ان کو انہی کا چہرہ دکھانا شروع کر دیتا ہے جو کہ اقتدار میں آکر کافی بھیانک ہو جاتا ہے۔
کپتان حکومت کی جانب سے ’خفیہ ریگولیشنز‘ کے ذریعے سوشل میڈیا پر حالیہ پابندیاں عائد کرنے کا مقصد دراصل ان اختلافی آوازوں کو دبانا ہے جن پر پہلے ہی غیرسرکاری طور پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں پابندی عائد ہے۔ ʼسوشل میڈیاʼ کو پابند کرنے کے لیے نافذ کردہ قواعد و ضوابط کو خاموشی سے اور پھر پارلیمنٹ سے بالا بالا لانا بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ان پابندیوں کے نافذ ہونے سے صرف چند ہفتے پیشتر وزیراعظم نے اپنی رہائشگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ گلہ کیا تھا کہ سوشل میڈیا ان کی اہلیہ بشری بی بی کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ خبریں چلاتا ہے حالانکہ وہ تو مریم نواز کی طرح سیاست میں بھی نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اس چیز کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے۔
اس سے پہلے وزیراعظم نے لوگوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اخبارات نہ پڑھیں اور پرائم ٹائم ٹی وی ٹاک شوز نہ دیکھیں کیونکہ مین سٹریم میڈیا جھوٹا پروپیگنڈا کرتا ہے.
اب حال ہی میں وزیراعظم نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ میڈیا والے جان بوجھ کر شہریوں کے آگے مائیک کرکے مہنگائی پر حکومت مخالف تبصرہ اگلوانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مہنگائی کو روکنے میں اپنی حکومت کی ناکامی تسلیم کرنے والے بھی وزیراعظم عمران خان ہی ہیں۔ وزیراعظم مین سٹریم اور سوشل میڈیا دونوں پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ ان کے خلاف جھوٹی خبریں چلاتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے برطانیہ کی مثال دی جہاں میڈیا کو مضبوط ہتک عزت کے کیس کاسامناکرناپڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہےکہ وزیراعظم کو کس نے روکاہے کہ وہ مضبوط ’ڈی فیمیشن لاز‘نہ بنائیں، جہاں فیصلہ سالوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں آنا چاہیئے۔ یہ قانون سب کیلئے ہوناچاہیئےکہ کوئی بھی کسی کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد نہ کرسکے اور یہ صرف میڈیاتک محدود نہیں ہونا چاہیئے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کس نے وزیراعظم اور حکومت کو میڈیا کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے سے روکا ہےجو سپریم کورٹ نے 2012میں تشکیل دیاتھا اور جس کی رپورٹ وزیراعظم کے آفس اور وزارتِ اطلاعات کے پاس پڑی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل یہ وعدہ کیاتھا وہ وزارتِ اطلاعات ختم کردیں گے اور پی ٹی وی اور ریڈیوپاکستان کوبی بی سی کی طرز پر ایک خودمختارباڈی بنائیں گے. انھوں نے فریڈم آف پریس کے دفاع کا بھی وعدہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اب وزارت اطلاعات کے ذریعے ہی میڈیا کا گلا گھونٹنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ وزیراعظم اقتدار میں آنے سے پہلے بطور اپوزیش لیڈر خود کو آزاد میڈیا کی پیداوار قرار دیتے رہے ہیں۔’’میں اس مقام پر کبھی نہ ہوتا جس پرآج ہوں اگر آپ لوگ میرےساتھ نہ ہوتے۔‘‘ ایسا انھوں نے ایک جلسےمیں کہا تھا اور کئی مواقع پر یہ فقرہ دہرایا تھا۔ تاہم جب سے عمران خان اقتدار میں آئے وہ میڈیا کے سخت ناقد ہو چکے ہیں۔ مین سٹریم میڈیا کی کمر توڑنے کے لئے وزیراعظم کی حکومت نے بڑے پیمانے پر سرکاری اشتہارات ختم کیے، جس سے سخت مالی بحران آیا اور الیکٹرونک میڈیا مالکان نے حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اس کے نتیجے میں آزادی اظہار کی صورتحال اتنی خراب ہو گئی کہ مین سٹریم میڈیا کو آئی ایس پی آر نے ڈنڈا دے کر حکومت کا ماؤتھ پیس بنا دیا اور وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھا۔
اس صورتحال میں لوگوں نے سچ جاننے کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا رخ کرلیا اور حالت یہ ہوگئی کہ غیر ذمہ دار اور جھوٹی خبروں کے لیے بدنام سوشل میڈیا نے جلد ہی سچی خبروں اور پابندیوں کا شکار سیاست دانوں کا موقف دے کر اپنی ساکھ بنالی۔ چونکہ حکومتی جبر کی وجہ سے مین سٹریم میڈیا کیلئے حکومت پر کھل کر تنقید کرنا ممکن نہ تھا اس لیے سوشل میڈیا نے یہ ذمہ داری ادا کی اور اب اسی جرم کی پاداش میں وزیراعظم نے سوشل میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لیے نئے قوانین کا نفاذ کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ میں میڈیا جیتتا ہے یا حکومت۔
