کیا سیاست دانوں کی کرپشن کا سراغ لگانا آئی ایس آئی کی ذمہ داری ہے؟

پاکستانی آئین اور قانون کے تحت تو آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلی جینس کا بنیادی فرض دشمن ممالک کی سازشوں کا سراغ لگا کر انہیں کاؤنٹر کرنا ہے، لیکن پاکستان میں بقول وزیراعظم عمران خان آئی ایس آئی سیاستدانوں کی کرپشن کا سراغ لگانے کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔
ملکی دفاع کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے تشکیل کردہ آئی ایس آئی وزیراعظم عمران خان کے بقول سیاستدانوں کو مانیٹر کرتی ہے اور جانتی ہے کہ کونسے اپوزیشن رہنما کتنے کرپٹ ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آئی ایس آئی اچھی طرح جانتی ہے کہ میرے ہاتھ صاف ہیں۔ یعنی سلیکٹڈ وزیر اعظم کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آئی ایس آئی پاکستان میں سیاست دانوں کو داغ دار اور بے داغ ہونے کے سرٹیفکیٹ بھی دیتی ہے۔ لیکن وزیراعظم شاید بھول گئے کہ اس ایجنسی کے کئی سربراہوں کا اپنا ماضی کافی داغدار یے جنہوں نے الیکشن جتوانے اور ہرانے کے لئے سیاسی اتحاد بنوائے اور سیاستدانوں میں بھاری رقوم تقسیم کیں۔
دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے دفاع کی ذمہ دار یہ اہم ترین ایجنسی اپنا بنیادی فرض بھول کر سیاست میں غرق ہو چکی ہے۔ آیئن کے تحت آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلی جنس تینوں سروسز یا مسلح افواج کے لیے ہے اور اس کے مختلف شعبوں میں بحریہ اور فضائیہ کے افسر بھی ڈیپوٹیشن پر آتے ہیں مگر اس ایجنسی کے پہلے انچارج کرنل شاہد حامد سے لے کر آج تک اس ادارے کا سربراہ بری فوج ہی کا کوئی افسر رہا ہے۔
دیگر ممالک میں کلیدی قومی سراغرساں ایجنسیوں کی سربراہی عموماً کسی سویلین یا ریٹائرڈ فوجی افسر کو سونپی جاتی ہے کیونکہ یہ ایجنسیاں کسی مخصوص ادارے کو نہیں بلکہ براہِ راست حکومتِ وقت کے اعلیٰ ترین آئینی عہدیداروں کو جوابدہ ہوتی ہیں۔ مگر پاکستان جیسے ممالک میں حساس اداروں میں خصوصی تقرریوں کی روایت سے کوئی معمولی سوجھ بوجھ کا آدمی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اصل فیصلہ ساز اور سیاسی قوت کس کے پاس ہے۔ بھٹو دور تک ایک عام پاکستانی صرف سی آئی ڈی اور انٹیلی جینس بیورو سے واقف تھا۔ اگر آپ ضیا دور سے پہلے کے کسی ڈی جی آئی ایس آئی کا نام کسی بھاری بھرکم سیاسی تجزیہ کار سے بھی پوچھیں تو بمشکل ایک آدھ نام ہی بتا پائے گا لیکن 1980 میں جب جنرل اختر عبدالرحمان کا نام دائیں بازو کے میڈیا میں بطور معمارِ جہادِ افغانستان آنا شروع ہوا تب سے ایک عام پاکستانی کے لیے آئی ایس آئی ہاؤس ہولڈ برانڈ ہوگیا۔
اسلامائزیشن کے ٹھیکیدار ضیا کے آمرانہ دور ہی میں اس تاثر کو بھی فروغ ملا کہ پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا اگر کوئی نگہبان ہے تو وہ آئی ایس آئی ہے جو اپنی حیرت انگیز سمعی صلاحیت، غیر معمولی قوتِ شامہ اور ہمہ وقت کھلی آنکھوں سے ملک کو نہ صرف بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ اندرونِ ملک بھی سیاسی قبلہ درست کرواتے رہنا اس کے مقدس فرائض کا حصہ ہے۔ اسی غیر اعلانیہ ذمہ داری کا پاس کرتے ہوئے جنرل اختر عبدالرحمان کے جانشین لیفٹیننٹ جنرل حمید گل نے اسلامی جمہوری اتحاد بنوا کر 1988 کے انتخابی نتائج کا قبلہ سیت کیا۔ مگر بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے حمیدگل کے ڈیزائن کردہ جلال آباد آپریشن کی ناکامی کے بعد آئی ایس آئی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ریٹائرڈ جنرل شمس الرّحمان کلو کو ڈی جی بنایا۔ اور پھر لگ بھگ ایک برس بعد بے نظیر حکومت اور ان کے ڈی جی ایک ساتھ گھر گئے۔
اگلے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی نے بقولِ خود اپنے باس کے کہنے پر 1990 کے انتخابات سے مثبت نتائج پیدا کرنے کے لیے بذریعہ مہران بینک اصلی حب الوطنی کی سکہ بند تشریح پر پورے اترنے والے سیاست دانوں پر رقومات خرچ کیں۔ اسی طرح 2002 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو پیچھے دھکیل کر پیراشوٹ سے مسلم لیگ ق کو میدان میں اتارا گیا۔ ساتھ ہی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مذہبی سیاسی جماعتیں متحدہِ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر ایک موثر سیاسی قوت کے طور پر ابھریں۔ اس وقت جنرل احسان الحق ڈی جی آئی ایس آئی تھے مگر انتخابات کی فریمنگ کے سلسلے میں ان کے ایک نائب میجر جنرل احتشام ضمیر کا نام ذرائع ابلاغ کی زینت بڑھاتا رہا۔
جنرل احسان الحق کے بعد آنے والے ڈی جی اشفاق پرویز کیانی نے بھی اپنی ذمہ داریاں تندہی سے نبھانے کی کوشش کی مگر ان کا دور اس اعتبار سے عجیب و غریب رہا کہ ایک ساتھ بہت کچھ یکے بعد دیگرے ہوتا چلا گیا: ڈاکٹر قدیر ایٹمی سکینڈل، چیف جسٹس کی برطرفی کا بحران، لال مسجد کا واقعہ، بلوچستان میں شورش اور کالے کو گورا کرنے والا این آر او فارمولا۔
مگر جنرل کیانی واحد ڈی جی آئی ایس آئی گزرے ہیں جنھیں بری فوج کی سربراہی عطا ہوئی اور پھر میمو گیٹ سکینڈل کی وجہ سے انہیں ایک اضافی مدت بھی ملی۔ عبوری دور میں جنرل ندیم تاج ڈی جی آئی ایس آئی رہے اور ان کے ہوتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی شہادت کا واقعہ پیش آیا جس کی تحقیقات آج بھی نامکمل ہیں۔ البتہ کیانی کے بعد اگر کوئی زمانہ یاد رہے گا تو وہ دورِ پاشا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی تقرری سے ذرا پہلے زرداری حکومت نے آئی ایس آئی کو وزراتِ داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا مگر پانچ گھنٹے کے اندر ہی یہ حکم نامہ واپس لے لیا گیا۔اس کے بعد سے فریقین میں بدظنی سی ہوگئی۔ نومبر 2008 میں ممبئی حملوں کے نتیجے میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ بڑھ گیا تو زرداری حکومت نے تحقیقات میں مدد کے لیے جنرل پاشا کو دہلی جانے کو کہا مگر کچھ ہی گھنٹے بعد یہ تجویز بھی واپس لے لی گئی۔ جنرل شجاع پاشا کے دور میں ہی اسامہ بن لادن امریکی مرینز کے ہاتھوں ایبٹ آباد میں ہلاک ہوئے اور آئی ایس آئی پر اسامہ کو پناہ دینے کا الزام عائد ہوا۔ چنانچہ فوجی قیادت اور آئی ایس آئی پر ہر طرف سے تنقید شروع ہوگئی۔
جنرل پاشا نے پارلیمنٹ کے رو برو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر ان کے اس بڑے پن سے پارلیمنٹ ایسی متاثر ہوئی کہ سب نے ان کی خواہش پرنم آنکھوں سے مسترد کر دی۔
ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن بھی بنا مگر رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی۔ پاشا کے ہی دور میں میمو گیٹ سکینڈل بھی اٹھا لیکن مطلوبہ مقاصد حاصل ہونے کے بعد اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی عدالتی کوششوں کو بھی زنگ لگ گیا۔ ویسے تو جنرل کیانی کے دور سے ہی بلوچستان میں لاپتہ افراد اور مسخ لاشوں کا مسئلہ شروع ہوگیا تھا تاہم جنرل پاشا کے دور میں یہ مسئلہ شدید تر ہو گیا۔ ان کے دور میں طالبان دہشت گردی میں خاصا اضافہ ہوا اور اہم فوجی تنصیبات بھی نشانہ بنیں۔ انھی کے دور میں مہران بیس کراچی پر دہشت گرد حملے میں اندر کے کچھ لوگوں کی ملی بھگت کے شبے پر مبنی رپورٹ شائع ہونے کے بعد صحافی سلیم شہزاد کی لاش منڈی بہاؤ الدین کی ایک نہر میں اٹکی ملی۔
اس بابت ایک تحقیقاتی ٹریبیونل بھی بنا جو اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قتل میں یقیناً کسی قاتل کا ہاتھ ہے جو نامعلوم ہے۔ جنرل پاشا کئی برس بعد ایسے ڈی جی آئی ایس آئی ثابت ہوئے جنھیں ان کے باس نے ایک سال کی توسیع دے دی اور جب وہ مارچ 2012 میں ریٹائر ہوئے تو لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام ان کے جانشین بنے۔ 2013 میں بین الاقوامی رسالے فوربز نے جنرل ظہیر کو دنیا کے سو طاقتور افراد میں 52ویں نمبر پر رکھا۔ ان کے دور میں مئی 2013 کے انتخابات ہوئے جو بظاہر 2008 کے انتخابات کی طرح شفاف تھے۔ لیکن نواز شریف کے تیسری بار برسرِ اقتدار آتے ہی ان کی فوج سے کشیدگی کی اطلاعات ملنے لگیں۔ ناقدین کا خیال تھا کہ دراصل نواز شریف عادت سے مجبور ہیں، وہ جب بھی وزیرِ اعظم بنے ان کی کسی چیف آف آرمی سٹاف سے نہیں بنی۔ مگر نواز شریف کے اقتدار میں آنے کے چھ ماہ بعد ہی ان کی ممکنہ سبکدوشی کی افواہیں گردش کرنے لگیں اور پھر یہ گردش جھکڑ میں بدلنے لگی۔
اپریل 2014 میں معروف صحافی حامد میر پر کراچی میں ہونے والے خون آشام قاتلانہ حملے کا الزام تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد ہونے کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور نواز حکومت میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ کچھ مذہبی گروہوں اور انجمنِ اہلیانِ سمہ سٹہ ٹائپ تنظیموں نے ظہیر السلام کے حق میں نہ صرف جلوس نکالے بلکہ تصویری پوسٹر بھی چسپاں کیے۔ غالباً یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی انٹیلی جنیس ایجنسی کے حاضر سروس سربراہ کے حق میں جلسے جلوس منعقد ہوئے۔ ساتھ ہی ساتھ جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان اور ظہیر الاسلام پر قاتلانہ حملے کی سازش کا الزام لگانے والے کے خلاف غداری اور بغاوت کے مقدمات درج ہوئے۔ ظہیر کے دور میں ہی عمران خان نے ڈی چوک میں دھرنا دے دیا اور بقول نواز شریف ایک رات جنرل ظہیر نے ان سے استعفیٰ مانگتے ہوئے مارشل لاء لگائے جانے کی دھمکی دی۔ بعد ازاں نواز شریف کو اقامہ رکھنے پر نااہل قرار دے کر وزارت عظمی سے رخصت کر دیا گیا۔
لیفٹینینٹ جنرل ظہیر السلام نے افغانستان، بھارت اور بلوچستان کے تناظر میں اپنے پیشروؤں کی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی۔ اس دوران بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی میں اور دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کے بعد رضوان اختر آئی ایس آئی کے سربراہ بنے تو ڈان لیکس کا شوشا چھوڑ دیا گیا جس پر آج کل کپتان حکومت فوج کی مدد سے بڑی خضوع و خشوع کے ساتھ عمل درآمد کر رہی ہے۔ فیض آباد دھرنا فیم والے فیض حمید کے آئی ایس آئی چیف بننے کے بعد سے تو یہ تاثر عام ہے کہ عمران خان کوئی بھی حکومتی یا سیاسی فیصلہ ان کے مشورے اور مرضی کے بغیر نہیں کرتے۔
سچ تو یہ ہے کہ فوج ہو یا کہ اس کے ماتحت ادارے اور ان کے سربراہ، جو بھی پالیسیاں اور حکمتِ عملی طے ہوتی ہے وہ کسی ایک ذاتِ شریف کے سبب نہیں بلکہ ادارتی و اجتماعی انداز میں طے ہوتی ہے۔ اور انٹیلی جینس ادارے تو بالخصوص دنیا بھر میں اپنے حلقہِ اثر اور خود سے وابستہ عہدیداروں اور افراد کا پورا تحفظ کرتے ہیں۔ یہ ادارے اور ان سے منسلک لوگ کتنے اور کسے جوابدہ ہیں اس کا فیصلہ توازنِ طاقت کا نظام خودکار طریقے سے کرتا ہے۔ اسی سبب پاکستان کی کوئی بھی سویلین حکومت ہو کہ عدلیہ، انٹیلی جینس ایجنسیوں کا دائرہ اور طریق ِکار جلی حروف میں طے کرنے میں ناکام رہیں۔ چنانچہ آئی جے آئی سکینڈل ہو کہ مہران گیٹ کہ غائب لوگوں کا معاملہت ثبوت اور اقبال کے باوجود کسی ایجنسی کے کسی حاضر چھوڑ سابق عہدیدار پر گرفت کجا، جواب دہی تک نہ ہو سکی اور نہ ہی کوئی فوری امکان ہے۔
بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت نے انٹیلی جینس ایجنسیوں کے کردار کو مربوط بنانے کے لیے ایئرچیف مارشل ریٹائرڈ ذوالفقار علی خان کی سربراہی میں جو کمیشن بٹھایا اس کی سفارشات کے مطابق ایک مشترکہ انٹیلی جینس کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی تاکہ تمام ایجنسیوں کی سرگرمیاں مربوط ہو جائیں۔ یہ بھی تجویز کیا گیا کہ ان کے درمیان پیشہ ورانہ رقابت کے بجائے اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ہم آہنگی اور رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ ذوالفقار کمیشن نے یہ سفارش بھی کی کہ آئی ایس آئی کو محض دفاعی اور بیرونی ذمہ داریاں سونپی جائیں اور داخلی سکیورٹی کی ذمہ داری ایک توسیع شدہ جدید انٹیلی جینس بیورو کو دی جائے۔ اسکے علاوہ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ہر ایجنسی کا ایک تحریری چارٹر ہو جس میں وضاحت سے لکھا ہو کہ وہ کیا کر سکتی ہے اعر کیا نہیں۔
تاہم ان سفارسات کو آئے بھی 30 برس گزر گے۔ ذوالفقار کمیشن رپورٹ اپنے مصنف سمیت آسودۂ خاک ہے۔ ظہیر الاسلام چلا گیا اور اس کی جگہ رضوان اختر آ گیا۔ رضوان اختر کو بھی بھیج دیا گیا اور اس کی جگہ فیض حمید آگئے. فیض کی جگہ بھی جلد ہی کوئی اور ڈی جی آ جائے گا۔ مگر جب تک یہ بنیادی مسئلہ طے نہیں ہو جاتا کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی، ایٹمی پروگرام، دفاعی بجٹ اور داخلی امور کے حوالے سے فیصلہ سازی فوج کرے گی یا عوام کی منتخب حکومت، تب تک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین یہ کشمکش یوں ہی جاری رہے گی، بھلے چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا حق وزیرِ اعظم کے پاس تاقیامت رہے۔ اگر کوئی اصولین حکومت اس مخمصے سے نکلنا چاہے تو اسے ذوالفقار کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرنا ہوگا۔
