عمران کس خوف سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہونے دے رہے؟

تحریک انصاف کے منحرف بانی رکن اور فارن فنڈنگ کیس کے مدعی اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ عمران خان جانتے ہیں کہ اس کیس میں نہ صرف وہ خود بطور وزیراعظم نا اہل ہو سکتے ہیں بلکہ ان کی تحریک انصاف پر بھی پابندی عائد ہوسکتی ہے لہذا وہ اس کا فیصلہ نہیں ہونے دے رہے۔
اکبر ایس بابر نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کیس کو لٹکانے کے لیے انکے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس پر وزیراعظم عمران خان کا بہت ذیادہ دبائو ہے۔ ایک انٹرویو میں اکبر ایس بابر نے بتایا کہ فارن فنڈنگ کیس میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف اب تک آٹھ مرتبہ اپنا وکیل تبدیل کرچکی ہے جبکہ اس کیس کو کالعدم قرار دلوانے کے لئے مختلف عدالتوں میں سات رٹ پٹیشنز بھی دائر کی گئی جو کہ مسترد ہو گئیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس کیس میں اب تک الیکشن کمیشن کے 21 احکامات کی حکم عدولی کی گئی اور سکروٹنی کمیٹی کی 80 سے زائد سماعتوں میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے۔
اکبر ایس بابر کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے فنڈز اور اکاوئنٹس کی تفصیلات مانگیں مگر پانچ سال تک معاملہ لٹکایا گیا تب کہیں جاکے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیٹا فراہم کیا جس میں تحریک انصاف کے پوشیدہ بینک اکائونٹس کی قلعی کھلی۔ یوں پتہ چلا کہ پارٹی کے عمران خان کی جماعت کے 23 اکائونٹس ہیں جن میں اسوقت کروڑوں ڈالرز موجود ہیں۔ ان میں سے کئی اکاونٹس میں ہمسایہ ممالک اور مشرق وسطیٰ سے پیسہ آیا۔ اکبر ایس بابر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ فارن فنڈنگ کے معاملے میں انکے تحفظات دور کرنے کے لئے عمران خان کے بہنوئی نے 2013 میں ان سے مل بیٹھ کر یہ قضیہ حل کرنے کو کہا تھاجس کے بعد ہم نے جماعت کی فارن فنڈنگ کے سپیشل آڈٹ پر اتفاق کیا رھا۔ بابر کے بقول اس آڈٹ میں ثابت ہوگیا تھا کہ میرے تمام تر الزامات درست ہیں اور فارن فنڈنگ کے معاملے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی کام کیے گے گئے۔ تاہم بعد ازاں پارٹی نے اس رپورٹ کی توثیق سے انکار کردیا۔ انکا کہنا تھا کہ یہی نہیں بلکہ ان غلط کاریوں کے ذمہ داران کے خلاف نہ تو کارروائی کی گئی اور نہ ہی یہ چلن بند ہوا۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا کیس تحریک انصاف کے بانی رکن اور 2011 تک مختلف عہدوں پر فائز رہنے والے اکبر ایس بابر نے اپنے وکلا سید احمد حسن شاہ اور بدر اقبال چوہدری کے ذریعے دائر کیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کے لیے موجود قانون پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی واضح خلاف ورزی کی ہے لہذا پارٹی کے چیئرمین عمران خان اور خلاف ورزیوں کے مرتکب دیگر پہ ٹی آئی قائدین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی درخواست میں کہا کیا تھا کہ تحریک انصاف سال نے2007 سے 2012 تک جو فنڈ غیر ممالک سے اکھٹا کیا اس کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائی گئی ہیں۔درخواست کے مطابق قانون کے تحت ہر سیاسی پارٹی کے لیے ہر سال حاصل کردہ فنڈ، اثاتے اور ان کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی بھی غیر ملکی سے کوئی بھی فنڈنگ حاصل نہیں کرسکتی۔ اسی طرح پاکستانی کمپنیوں، این جی او وغیرہ سے بھی فنڈنگ حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔
اکبر ایس بابر کے مطابق جب عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی وہ تب سے پارٹی کے ساتھ تھے۔ ان کے بقول وہ دس سال تک پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے معاملات دیکھتے رہے۔ ان کا استدلال ہے کہ جب ایک جماعت کو الیکشن جتوانے کے لئے بیرون ملک سے فنڈنگ کی جائے تو ضرور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بیرونی ایجنڈا ہوتا ہے۔ انہوں نے سابق امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ہلیری کو اس عہدے کے لئے نامزد کیا گیا تو امریکی اداروں نے پہلے اس بات کا کھوج لگایا کہ ہلیری کی سماجی اور فلاحی تنظیم کو کہاں کہاں سے عطیات موصول ہوتے رہے ہیں آیا مستقبل میں ہلری امریکی وزیرخارجہ بن کر اہنے ڈونرز کے لئے خارجہ پالیسی کے ساتھ کہیں چھیڑ چھاڑ تو نہیں کریں گے۔ لہذا مکمل چھان پھٹک کے بعد ان کے نام کی منظوری دی گئی۔
اکبر ایس بابر کے بقول امریکہ، ڈنمارک اور سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک سے تحریک انصاف کو فنڈنگ ہوئی ہے جس کے ثبوت وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سکروٹنی کمیٹی کو فراہم کرچکے ہیں۔ اکبر ایس بابر کے مطابق اس سارے معاملے میں کرپشن، منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی جیسے غیر قانونی کام بھی کئے گئے ہیں۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ میں ثبوت کے ساتھ کہہ رہا ہوں تحریک انصاف نے فنڈنگ قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں اور یہ سب عمران خان نے خود کیا جو کہ پارٹی کے سربراہ ہیں اور سارے اکاؤنٹس کو خود ہینڈل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا مقصد تحریک انصاف پر پابندی لگوانا نہیں بلکہ جو لوگ غکط۔کاموں اور غبن میں ملوث ہیں ان کو جوابدہ بنانا یے کیونکہ ہم نے تحریک انصاف کسی شخصیت کے لیے نہیں بنائی تھی۔ ہم نے تحریک انصاف اس لیے بنائی تھی کہ یہ لیڈر شپ کے لیے ایک ماڈل ادارہ بنے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 2011 میں مجھے کچھ ایسی چیزیں ملیں جو غیر قانونی تھیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا اور سمجھا وہ عمران خان کے کرپشن مخالف بیانیے کے خلاف تھا۔ یہ سب میرے جیسے سیاسی کارکن کے لیے یہ قابل قبول نہیں تھا۔ میرا ضمیر یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا چنانچہ میں نے عمران خان کو سات صحفات پر مشتمل ایک طویل خط لکھا جس میں سارے غیر قانونی کاموں کی نشاندہی کی گئی۔اس خط کے بعد میں خاموش ہو کر گھر بیٹھ گیا۔ مجھے یقین تھا کہ عمران اس پر ایکشن لیں گے۔ اس دوران میری عمران کے ایک قریبی عزیز سے ملاقات ہوئی تو ان کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ میں پارٹی میں دوبارہ متحرک ہو جاؤں اور یہ کہ میری تمام شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ پہلے عمران پارٹی میں کرپشن کا خاتمہ کریں اور غیر قانونی کاموں کے مرتکب افراد کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے۔ اکبر بابر کہتے ہیں کہ اسکے بعد میں انتظار کرتا رہا کہ ہماری آڈٹ رپورٹ پر عمران خان ایکشن لیں گے مگر انھوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا، جس پر 2014 میں تمام ثبوتوں کے ہمراہ میں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کئی برس گزر جانے کے باوجود عمران خان فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہونے دے رہے اور الیکشن کمیشن کے کام میں روڑے اٹکا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں اگر اس کیس کا فیصلہ ان کے خلاف آ گیا تو وہ نہ صرف وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوجائیں گے بلکہ ان کی جماعت پر بھی پابندی عائد ہو جائے گی۔
