کیا طالبان امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ استعمال کرنا جانتے ہیں؟

15 اگست کو کابل پر قبضے کے بعد امریکہ اور اتحادی افواج کا چھوڑا ہوا 85 ارب ڈالر مالیت کا جدید جنگی ساز و سامان بشمول جنگی جہاز بھی طالبان کے قبضے میں آگئے ہیں لیکن ماہرین طالبان کی فضائی طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بعض ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ طالبان صرف روسی ساختہ جہاز اڑانے کی صلاحیت حاصل کرسکے ہیں البتہ انھیں جدید ترین بندوقیں، رائفلیں اور گاڑیاں سنبھالنے کا خاصا تجربہ ہے جس سے طالبان کی عسکری قوت میں بے پناہ اضافہ ہوگا مگر ہمسایہ ممالک کے لئے خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔
امریکی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کو اس طرح کے جدید ہتھیاروں تک رسائی ایک ’بڑی ناکامی‘ ہے، جس کے اثرات افغانستان تک ہی محدود نہیں ہوں گے اور خدشات ہیں کہ چھوٹے ہتھیار بلیک مارکیٹ میں بکنا شروع ہو سکتے ہیں جو دنیا بھر میں دیگر شورشوں کو ہوا دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوری خطرہ تو نہیں ہے لیکن آنے والے مہینوں میں اس کی سپلائی چین ظاہر ہو سکتی ہے اور اسے روکنے کی ذمہ داری ہمسایہ ممالک جیسے پاکستان، چین اور روس پر ہو گی۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح طالبان جنگجوؤں نے قندھار ایئرپورٹ پر امریکی ہیلی کاپٹر بلیک ہاک کی ایک نمائشی پرواز کی۔اس ویڈیو نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اب طالبان کوئی گنوار سپاہیوں کا گروہ نہیں جو ٹوٹے پھوٹے پک اپ ٹرکوں پر کلاشنکوف اور رائفلیں لے کر گھوم رہے ہوں۔ خیال رہے کہ 2003 اور 2016 کے درمیان امریکہ نے افغان فورسز کے لیے بھاری مقدار میں فوجی سازوسامان بھیجا جو ان کے ساتھ لڑائی میں شریک تھے۔ امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سامان میں مختلف ساخت کی تین لاکھ 58 ہزار 530 رائفلیں، 64 ہزار سے زیادہ مشین گن، 25،327 گرینیڈ لانچر اور 22،174 ہمویز یعنی تمام اقسام کی سطحوں پر چلنے والی گاڑیاں شامل تھیں۔امریکہ نے صرف 2017 میں تقریبا 20 ہزار ایم-16 رائفلیں فراہم کیں۔ اس کے بعد کے برسوں میں اس نے 2017 اور 2021 کے درمیان افغان سکیورٹی فورسز کو کم از کم تین ہزار 598 ایم-4 رائفلیں اور 3،012 ہمویز گاڑیاں فراہم کیں۔افغان فوج کے پاس موبائل سٹرائیک فورس گاڑیاں بھی تھیں جو شارٹ نوٹس پر استعمال کے لیے تھیں۔ یہ 4×4 ورک ہارسز گاڑیاں لوگوں یا سامان لے جانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
امریکہ میں قائم سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن یا سگار کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان فضائیہ کے پاس جون کے آخر میں 167 طیارے تھے جن میں حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور دوسرے جنگی طیارے شامل تھے۔لیکن یہ واضح نہیں کہ ان 167 طیاروں میں سے کتنے طالبان نے اپنے قبضے لیے۔ قندھار ایئرپورٹ کی سیٹلائٹ تصاویر جو کہ بی بی سی کو پلینٹ لیبز سے حاصل ہوئی ہے اس کے مطابق ٹارمیک پر افغان فوجی طیاروں کی ایک بڑی تعداد کھڑی نظر آتی ہے۔ دلی میں قائم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے فوجی ہوا بازی کے ماہر انگد سنگھ کے مطابق طالبان کے شہر پر قبضے کے چھ دن بعد کی ایک تصویر میں پانچ طیارے ایئرپورٹ پر کھڑے نظر آتے ہیں جن میں کم از کم دو ایم آئی-17، دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور ایک تیسرا ہیلی کاپٹر جسے یو ایچ-60 کہا جا سکتا ہے، شامل ہیں۔ اس کے برعکس 16 جولائی کو لی گئی ایک اور سیٹلائٹ تصویر میں وہاں 16 طیارے، بشمول نو بلیک ہاکس اور دو ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر اور پانچ فکسڈ ونگ طیارے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کچھ طیارے یا تو ملک سے باہر لے جائے گئے یا انھیں دوسرے ایئربیس پر منتقل کر دیا گیا۔طالبان نے باقی نو افغان فضائی اڈوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ جس میں ہرات، خوست، قندوز اور مزار شریف کے ایئر بیس شامل ہیں لیکن یہ واضح نہیں کہ انھوں نے وہاں کتنے طیاروں کو اپنے قبضے میں لیا کیونکہ ان ہوائی اڈوں کی سیٹلائٹ تصاویر دستیاب نہیں۔سی این اے کنسلٹنگ گروپ کے ڈائریکٹر اور افغانستان میں امریکی افواج کے سابق مشیر ڈاکٹر جوناتھن شروڈن کا کہنا ہے کہ طیاروں پر قبضہ کرنا شاید طالبان کے لیے آسان تھا لیکن ان کے لیے ان کا استعمال اور ان کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہو گا۔ ان کے پرزوں کو اکثر سروس کی اور بعض اوقات انھیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی فضائیہ اپنے تکنیکی ماہرین کی ٹیم پر انحصار کرتی ہے جو ہر طیارے کی فضائی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرتی ہے کہ وہ ضرورت کے وقت پرواز کے لیے تیار ہو۔ دفاعی ماہرین کے خیال میں مکنہ طور پر طالبان روسی ساختہ ایم آئی-17 طیارے کو چلانے کے قابل ہوں گے کیونکہ اس ساخت کے طیارے کئی دہائیوں سے ملک میں موجود ہیں۔ باقیوں کی دیکھ بھال اور تربیت کے لیے وہ ہمدرد ممالک کی طرف امید کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ دیگر ہتھیاروں سے طالبان کا ہم آہنگ ہونا بہت آسان ہو گا۔ یہاں تک کہ طالبان پیدل فوجی بھی زمینی سطح پر استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں جنھیں انھوں نے اپنے قبضے میں لیا۔
