کیا عامر لیاقت پی ٹی آئی چھوڑ رہے ہیں یا ڈرامہ بازی ہے؟

کراچی سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت نے وزیراعظم عمران خان کو دھمکی دی ہے کہ اگران کے حلقے میں ترقیاتی کام نہ کروائے گئے تو بہت جلد وہ اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو جائیں گے۔

عامر لیاقت نے اس دھمکی کے ساتھ اپنی سابق جماعت ایم کیو ایم کے تعاون کی تعریف بھی کی جس سے لگتا ہے کہ شاید وہ تحریک انصاف چھوڑ کر دوبارہ ایم کیو ایم میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں کراچی کے علاقے بہادر آباد این اے 245 سے منتخب رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے اپنی ہی حکومت کو نشانے پر رکھ لیا۔ وزیراعظم اور وفاقی وزراء پر کھل کر تنقید کی۔

WhatsApp Image 2020 01 12 at 10.22.18 AM 1 e1578812527303

ایک ٹویٹ میں لکھا کہ مجھ سے حلقے کے عوام سوال کرتے ہیں کہ مسائل کے حل کے لئے کہاں جائیں، میں کھل کر بتانا چاہتا ہوں کوئی وفاقی وزیر قومی اسمبلی کے رکن کے فون تک کا جواب نہیں دیتا۔ حالات یہی رہے تو کم از کم میں اپنی نشست سے استعفی دینے میں زرا بھی دیر نہیں کروں گا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت کراچی کے علاقہ بہادرآباد سے منتخب رکن قومی اسمبلی ہیں جن کی طرف سے آج سے نہیں، مگر کئی مواقعوں پر حکومت کی بے جا طرف داری کے ساتھ ساتھ اپنی ہی جماعت کی مرکزی حکومت پر تنقید کے نشتر بھی چلاتے رہتے ہیں بلکہ کئی مرتبہ مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت حسین وزارت حاصل کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں کیونکہ کراچی سے منتخب فیصل واڈا علی زیدی وفاقی وزیر بن چکے ہیں جبکہ کہ عمران اسماعیل کو گورنر سندھ لگایا گیا ہے یہی نہیں بلکہ کراچی سے منتخب ڈاکٹر عارف علوی بھی اس وقت صدر پاکستان جیسے سب سے بڑے آئینی عہدے پر فائز ہیں ایسے میں عامر لیاقت اور شکور جیسے وہ منتخب اراکین جنہوں نے ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی پارٹی قیادت کی جانب سے نظر انداز کئے جانے پر سخت نالاں ہیں اور گاہے بگاہے اپنی ناراضی کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔
اپنے حلقے کے عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے عامر لیاقت نے لکھا کہ میں انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ‏اٹھارہ مہینے سے کوارٹرز کی لیز کا معاملہ اٹکا ہوا ہے۔ ترقیاتی کام شروع نہیں ہوسکے، حلقے کے لوگوں کے چھوٹے چھوئے مسائل حل ہوسکتے ہیں اگر بعض وزرا سنجیدہ ہوجائیں۔ عامر لیاقت نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ کئی ترقیاتی منصوبوں کےپی سی ون بنے ہوئے ہیں لیکن وفاقی حکومت فنڈز جاری نہیں کررہی۔ ایسے برے حالات تو 2002 کی اسمبلی میں نہیں تھے۔

تحریک انصاف حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ تو ہمیں ترقیستی فنڈز جاری کئے جاتے ہیں او ر نہ ہی ہمارے علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام کروایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ‏کسی ایم این اے کو فنڈز ذاتی طور پر نہ تو کبھی ملتے تھے اور نہ ہی ملنے چاہییں مگر ترقیاتی کام تو شروع ہوں.. ہم سے اسکیمز مانگی گئیں، ہم نے دے دیں مگر ان منصوبوں پر عملدرامد قومی اسمبلی کے رکن کا کام نہیں۔انہوں نے گلہ کیا کہ اتحادیوں یعنی ایم کیو ایم کے حلقوں کے لیے فنڈز جاری کر دیے گئے مگر ہمیں محروم رکھا گیا۔ ایسے میں مجھ جیسا پی ٹی آئی کا ایم این اے حلقے کے عوام کو کیا جواب دے۔

WhatsApp Image 2020 01 12 at 10.22.18 AM 2 e1578812550305

تحریک انصاف کے وزراء پر لفظی وار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں تو یہ حال ہے کہ کوئی بھی وفاقی وزیر کسی ایم این اے کی فون کال تک نہیں سنتا۔ ساتھ ہی انتہائی قدم اٹھانے کی دھمکی بھی دی اور کہا ‏میں ایک بار پھر واضح کردوں کہ حکومتی سطح پر ‏لاپرواہی، غیرذمے داری اور بے اعتنائی کی حد ہے۔ جب آپ اپنے اراکین قومی اسمبلی کو جواب دینے کے روادار نہیں تو عوام کو کیا خاک ریلیف دیں گے؟ ایک حد تک صبر ہوتا ہے وزراء صاحبان! زمین پر انسان بن کر رہیے، انسانوں کو اپنے در کا محتاج مت سمجھیے!
تحریک انصاف کے وفاقی وزراء کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد ایک ٹویٹ میں لکھا کہ مجھے وزارت کی تمنا ہے نہ خواہش۔ وزارت مجھے دی بھی جائے گی تو شکریے کے ساتھ واپس کردوں گا لیکن حلقے کے عوام ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہیں۔ میں اچھا نہیں لگتا تو کسی اور کو لاکر عوام کو لیز دلوا دیں۔ سڑکیں بنوادیں، آر او پلانٹس لگوادیں لیکن مسائل حل کردیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button