طالبان حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک

افغانستان میں طالبان کے سڑک کنارے بم حملے سے 2 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق نیٹو کے ریزولوٹ سپورٹ مشن برائے افغانستان کے مطابق صوبہ قندھار میں ہونے والے حملے میں 2 فوجی شدید زخمی بھی ہوئے جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔مشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے نام ابھی سامنے نہیں لائے گئے ہیں۔صوبائی پولیس ترجمان جمال ناصر بارکزئی کا کہنا تھا کہ ‘امریکی فوجی قندھار ایئرپورٹ کے نزدیک پیٹرولنگ پر مامور تھے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے سے گاڑی تباہ ہوئی اور اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔
واضح رہے کہ کامبیٹ آپریشنز کے 2014 میں ختم ہونے کے بعد گزشتہ سال امریکی افواج کے لیے طالبان سے سب سے خطرناک ثابت ہوا۔2001 میں امریکا کی قیادت میں افغانستان میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک تقریباً 2 ہزار 400 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
خیال رہے کہ جنگ بندی پر رضامندی کی صورت میں طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔اس معاہدے میں امریکا طالبان کی جانب سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گرد گروہ کے لیے بیس کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس تنازع میں دونوں طرف کے افغانوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات انتہائی اہم ستون ہے جس کے لیے ایک سال سے امریکا اور طالبان کے درمیان ادھیڑ بن جاری ہے۔
امریکا اور طالبان کے مابین معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد 2 ہفتوں میں بین الافغان مذاکرات ہونے کی توقع ہے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ جنگ کے بعد افغانستان کا مننظر نامہ کیسا ہوگا اور طالبان اس میں کیا کردار ادا کریں گے۔ان مذاکرات میں متعدد پہلوؤں پر بات کی جائے گی جن میں خواتین کے حقوق، آزادی اظہار رائے اور ہزاروں طالبان قیدی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے دولت اور طاقت کا غلط استعمال کرنے والی مسلح ملیشیا کا مستقبل شامل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button