کیا عمران اسمبلیاں توڑنے کے اعلان پر یوٹرن لینے والے ہیں؟

عمران خان کی جانب سے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کے اعلان کے باوجود اس بات کا قوی امکان پیدا ہو چکا ہے کہ سابق وزیر اعظم اپنے وزرائے اعلیٰ کی مخالفت کی آڑ میں اسمبلیاں توڑنے کے معاملے پر بھی یو ٹرن لے جائیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے علاوہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی کپتان کو اسمبلیاں توڑنے میں جلدی نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ خان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اس وقت پنجاب اور کے پی کی صورت میں عملی طور پر تحریک انصاف کی 75 فیصد پاکستان پر حکمرانی ہے جسے ختم کرنا دانشمندی نہیں ہو گی۔ کپتان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان تب کیا جائے جب وفاقی حکومت کے خاتمے کا یقین ہو جائے، جس کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا خصوصاً جنرل باجوہ کے جانےاور جنرل عاصم منیر کے آنے کے بعد۔
جہاں عمران کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان کو کئی سیاسی تجزیہ کار ماسٹر سٹروک قرار دیتے ہیں وہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم کسی بھی صورت ایسا نہیں کریں گے اور اس اعلان کا واحد مقصد لانگ مارچ ختم کرتے وقت خود کو فیس سیونگ فراہم کرنا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران وفاقی حکومت کے خوف سے پچھلے ایک ماہ سے بنی گالہ نہیں گئے کیونکہ وہاں پی ڈی ایم کی حکومت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ زمان پارک لاہور میں اس لیے قیام پذیر ہیں کہ یہاں ان کی اپنی حکومت ہے اور وہ خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ ایسے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی پنجاب حکومت ختم کرنے کی بے وقوفی نہیں کریں گے اور اپنے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے اسمبلیاں توڑنے کے اعلان کی مخالفت کو جواز بناتے ہوئے بالآخر یو ٹرن لے جائیں گے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے جمعے کو خیبر پختونخوا جب کہ پیر کو پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے جس کے بعد عمران خان اسمبلیاں تحلیل کرنے سے متعلق اعلان کریں گے۔ لیکن پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق ‘موجودہ صورتحال میں بظاہر لگتا ہے کہ تحریک انصاف اسمبلیاں تحلیل نہیں کرے گی بلکہ اس معاملے سے فوری انتخابات کے لیے دباؤ بڑھایا جائے گا۔‘
وفاقی حکومت کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل رکوانے کی منصوبہ بندی شروع کیا جا چکی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کو تحلیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے لیکن خیبرپختونخوا کی اسمبلی بچانا مشکل نظر آتا کیونکہ وہاں اپوزیشن کی تعداد کافی کم ہے۔ پنجاب میں صورتِ حال ویسے ہی دلچسپ ہے کیوں کہ حکمراں اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان عددی فرق بہت کم ہے۔ پنجاب اسمبلی میں 371 اراکین اسمبلی ہیں جن میں سے 178 کا تعلق پاکستان تحریکِ انصاف سے ہےجب کہ 10 اراکین مسلم لیگ (ق) کے ہیں۔ لہذا حکمراں اتحاد کے اراکین کی تعداد 188 ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کی تعداد 168 ہے جب کہ اس کی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کی سات نشستیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو چار آزاد اراکین اور راہِ حق پارٹی کے ایک رُکن اسمبلی کی بھی حمایت حاصل ہے۔ یوں مجموعی طور پر اپوزیشن اتحاد کے 179 اراکین اسمبلی ہیں۔ تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے اپوزیشن اتحاد کو پنجاب اسمبلی میں 186 اراکین کی حمایت ثابت کرنا ضروری ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی بچانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں پرویز الٰہی کو اپنا وزیر اعلیٰ بنانے پر آمادگی ظاہر کر دیں۔ ویسے بھی پرویز الٰہی نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کی سیاست کی ہے اور اگر فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد انہیں واضح اشارہ مل جاتا ہے تو وہ کوئی چوں چراں کیے بغیر سائیڈ تبدیل کر لیں گے۔ اس سے پہلے عمران خان نے راولپنڈی کے جلسہ میں جب اسمبلیوں سے باہر ہونے کا اعلان کیا، تو ساتھ ہی ان کی حمایت میں مونس الٰہی کا ٹویٹ آگیا اور پرویزالٰہی نے بھی بیان داغ دیا کہ جیسے ہی عمران کا حکم آئے گا، وہ اسمبلی توڑنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائیں گے۔ تاہم قاف لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ پرویز الٰہی نے ایک سیاسی بیان دیا تھا جسکا مطالبہ عمران کی جانب سے آیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔
