پراسکیوشن کا انمول عرف پنکی کی بریت چیلنج کرنے کا فیصلہ

کراچی کی سٹی کورٹ میں منشیات کے مقدمات میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کی بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
پراسکیوشن نے عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقول حاصل کرنے کےلیے متعلقہ عدالت میں درخواست جمع کرادی ہے،جس کے بعد قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔
پراسکیوشن ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کی تین منشیات کے مقدمات میں بریت کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے، کیوں کہ مقدمات میں نہ تو ملزمہ پر فردِ جرم عائد کی گئی اور نہ ہی کسی گواہ کا بیان ریکارڈ کیاگیا۔ پراسکیوشن کا مؤقف ہےکہ مقدمات کے قانونی اور عدالتی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر بریت کے فیصلے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں،تاہم ابتدائی طور پر فیصلہ غیرمعمولی معلوم ہوتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ پراسکیوشن کی جانب سے عدالتی فیصلے کی تصدیق شدہ نقول حاصل کرنے کےلیے درخواست دائر کردی گئی ہے۔مصدقہ نقول ملنے کےبعد فیصلے میں دی گئی وجوہات،عدالتی کارروائی اور مقدمات کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
9 مئی مقدمات: شیخ رشید عدالت میں پیش، سماعت 29 اگست تک ملتوی
پراسکیوشن کے مطابق اگر قانونی و عدالتی ریکارڈ کے جائزے کےبعد یہ بات سامنے آئی کہ بریت کا فیصلہ قانون اور دستیاب شواہد کے مطابق نہیں تھا تو اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائےگا۔ اس سلسلے میں قانونی ماہرین سے بھی رائے لی جائے گی تاکہ آئندہ کی کارروائی قانون کے مطابق کی جاسکے۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے منشیات کے تین مقدمات میں نامزد ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کردیا تھا۔ پراسکیوشن اب بریت کے فیصلے کی مصدقہ نقول حاصل کرکے اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جس کےبعد فیصلہ چیلنج کرنے سے متعلق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
