کیا عمران خان ‘ایبسلوٹلی ناٹ” پر بھی یوٹرن لے سکتے ہیں؟

بین الاقوامی محاذ پر امریکا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی سے پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے ‘ایبسلوٹلی ناٹ’ کا نعرہ دینے والے وزیراعظم عمران خان کسی بھی وقت قومی مفاد میں کوئی بڑا یوٹرن لے سکتے ہیں۔

عالمی منظر نامے پر گہری نظر رکھنے والے سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد امریکی انتظامیہ کو اب وہاں القاعدہ اور داعش خراسان کی ممکنہ دہشت گردی روکنے کے لئے زمینی مخبر اور انٹیلی جنیس کی سہولت میسر نہیں رہی اور براہ راست طالبان سے تعلق رکھنا بھی امریکی ترجحات میں شامل نہیں لہذا اب ان معاملات پر امریکہ پاکستان سے تعاون کی درخواست کر سکتا یے جس سے سردمہری کی آخری حدوں کو چھونے والے پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر بحال ہو سکتے ہیں۔

کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے امریکا اور پاکستان کے مابین باہمی عدم اعتماد کی دراڑیں انتہائی گہری ہو چکی ہیں لیکن مستقبل کے ممکنہ منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو دونوں ممالک کو ب بھی کسی حد تک ایکدوسرے کی ضرورت ہے۔ جو بائیڈن انتظامیہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات کو روکنے کے نئے طریقے ڈھونڈ رہی ہے اور ایسا کرتے ہوئے واشنگٹن کو ممکنہ طور پر دوبارہ اسلام آباد حکومت کا ہی دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت سے قریبی رابطوں کی وجہ سے پاکستان امریکی انٹیلی جنس اور قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ افغانستان کی دو عشروں پر محیط جنگ میں امریکی حکام اکثر پاکستان پر ڈبل گیم کے الزامات عائد کرتے رہے، ان کا الزام تھا کہ طالبان قیادت پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب پاکستان امریکہ سے یہ شکوہ کرتا رہا کہ ملک بھر میں دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار پاکستانی طالبان افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انکے خلاف کارروائی کی جانی چاہیئے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے مابین بداعتمادی میں اضافہ ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ طالبان نے پورے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔

لیکن دفاعی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ امریکا اب بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستانی تعاون چاہتا ہے۔ واشنگٹن ممکنہ طور پر پاکستان سے یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ اسے افغانستان میں نگرانی کے لیے پروازیں اڑانے کی اجازت فراہم کی جائے یا پھر وہ افغانستان کے حوالے سے دیگر انٹیلی جنس تعاون مانگ سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان امریکا سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر اب بھی امریکا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے امریکی اثرورسوخ سے بھی آگاہ ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان امریکی فوجی مدد حاصل کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ لہٰذا پاکستان بھی امریکہ کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات نارمل کرنے کا خواہاں ہوگا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے خیال میں بائیڈن انتظامیہ ایک نئے پروگرام کے تحت دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیزی سے اپنی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن امریکا کے لیے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے تعاون کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

اگر ہمسایہ ممالک تعاون نہیں کرتے تو امریکی ڈرونز کو طویل فاصلہ طے کرنا پڑے گا، اس طرح وہ افغانستان کی فضا میں زیادہ دیر تک نگرانی کا عمل سرانجام نہیں دے سکتے۔ دوسری جانب امریکا نے افغانستان میں اپنا بیشتر انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی کھو دیا ہے۔ اب امریکا کے زمین پر موجود مخبر اور انٹیلی جنس شراکت دار نہیں رہے جبکہ نئی افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ مفادات تلاش کرنا واشنگٹن حکومت کے لیے ایک مشکل کام ہے۔ لہذا تجزیہ کاروں کے خیال میں ایسے حالات میں امریکا کے لیے اس مشکل مرحلے میں فقط پاکستان ہی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان خلیج فارس سے اڑنے والے امریکی جاسوس طیاروں کے ”اوور فلائٹ یا اپنی فضائی حدود کے استعمال‘‘ کے حقوق دے سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ افغان سرحد کے قریب امریکی فوجیوں کو ایک بیس فراہم کر دی جائے، جہاں سے وہ دہشت گردی کے خطرات پر نظر رکھ سکیں۔ دفاعی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے حوالے سے امریکا کے پاس دیگر ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایران امریکا کے خلاف ہے جبکہ وسطی ایشیائی ریاستیں روس کے زیر اثر ہیں۔

تاہم ابھی تک اس حوالے سے امریکا یا پاکستان کے مابین کوئی باقاعدہ مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ وزیراعطم عمران خان ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو پاکستان میں کوئی فوجی بیس فراہم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس بیان کے بعد امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات کی تھی۔ بعدازاں جنرل فیض حمید اور ولیم برنز نے کابل میں طالبان لیڈروں سے بھی ملاقات کی۔ تاہم سی آئی اے نے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی ڈرونز کو فضائی راستہ فراہم کرنے یا بیس کی فراہمی کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ایک سوال کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کا براہ راست جواب دینے کی بجائے کہا تھا، ”خفیہ معلومات کے اشتراک کے لیے ان کا وہاں جسمانی طور پر ہونا ضروری نہیں ہے۔ ایسا کرنے کے لیے کئی بہتر راستے بھی موجود ہیں۔ لہذا اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ بہتر راستے پاکستان کی مدد سے ہی نکل پائیں گے اور اپنے لیے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ دینے والے وزیراعظم کسی بھی وقت قومی مفاد میں کوئی بڑا یوٹرن لے سکتے ہیں۔

Back to top button