کیا عمران کسی منصوبے کے بغیر پاکستان چلا رہے ہیں؟


پاکستان کی معیشت ہو یا سیاست، گورننس ہو یا فوجی قیادت اور وزیراعظم کے تعلقات، ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت ایک فیصلہ کن دوراہے پر پہنچ چکی ہے۔ اس دوراہے پر کابینہ اور دیگر ذمہ داران بھی مخمصے میں ہیں۔ اس فیصلہ کن گھڑی میں سب وزیراعظم عمران کی طرف دیکھ رہے ہیں اور یہی سوال کر رہے ہیں کہ واٹس دی پلان خان صاحب؟ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کے پاس بھی اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔
معروف اینکر پرسن ماریہ میمن اردو نیوز کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ دارالحکومت اسلام آباد خصوصی اور باقی ملک عمومی طور پر اضطراب میں ہے۔ اس اضطراب کی وجوہات سیاسی بھی ہیں اور غیر سیاسی بھی، معاشی بھی ہیں اور انتظامی بھی۔ اور ہر خاص و عام کی زبان پر ایک ہی سوال ہے، واٹس دا پلان خان صاحب! یہ سوال ساری حکومت، پارٹی یا کابینہ سے بھی کیا جا سکتا ہے مگر پچھلے چند ہفتوں نے خصوصاً یہ ثابت کیا ہے کہ پارٹی یا کابینہ یا پھر اتحادی یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ آگے پلان کیا ہے۔ حکومت کے ترجمان اسی اعتماد اور جارحیت کے ساتھ میڈیا پر اپوزیشن پر لفظوں کے تیر برسا رہے ہیں، مگر جب بات آگے کے پلان کی ہو تو ان کی طرف سے بھی کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آتی جس کو حتمی کہا جا سکے۔
بقول ماریہ میمن، میدان چاہے سیاسی ہو یا اقتصادی، حکومت کے اتحادی اور ٹیکنوکریٹس وزرا بھی اِتنے ہی بے خبر ہیں۔ اسی لیے براہ راست یہ سوال پوچھنا ضروری ہو گیا ہے کہ واٹس دا پلان خان صاحب؟ معاشی اور معاشرتی حالات کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ معیشت معاشرت کو متاثر کرتی ہے اور معاشرت سیاست کو۔ اس میں تو اب کسی کو بھی شک نہیں کہ ہر حوالے سے مہنگائی کی سطح حالیہ تاریخ میں بلند ترین ہے۔ اس کے واضح اشاریے تیل اور ڈالر کی قیمت میں ظاہر ہو رہے ہیں مگر اشیائے خوردونوش کو بھی پر لگ چکے ہیں۔
آگے بجلی اور گیس کے مہنگا ہونے کی بھی شنید ہے۔ عالمی منڈی کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر کب اور کیسے قیمتیں واپس آئیں گی اس کا کوئی اندازہ یا وقت نہیں بتایا جا رہا۔ یہ تو عوام کے مسائل ہیں دوسری طرف حکومت کے اپنے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔
ماریہ میمن کہتی ہیں کہ آئی ایم ایف کی طرف سے اب تک۔پاکستان کے لیے منفی خبریں ہیں۔ دوسری طرف فیٹف کی طرف سے بھی ایک بار پھر پاکستان کو ریلیف نہیں مل سکا۔ پاکستان کی معاشی پالیسی کا تعلق اسکی خارجہ پالیسی سے ہے، وہاں پر علیحدہ کنفیوژن ہے۔ سوال یہنیے کہ کیا حکومت کے پاس اگلے دو سال میں حالات میں بہتری لانے کا کوئی عملی پلان ہے؟ اسکا جواب صرف وزیراعظم ہی دے سکتے ہیں۔ معاشی حالات کا براہ راست اثر سیاست پہ ہے۔ اگر آج فوری انتخابات ہوں تو شاید حکومت کے لیے مشکل ترین حالات ہوں۔ مہنگائی اور کارگردگی پر بھی سوال ہی سوال ہیں۔ پھر سیاست کا تعلق گورننس سے ہے۔ مقامی حکومتوں پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔
ماریہ میمن کے مطابق پنجاب میں کوئی بھی مسئلہ ہو تو کمک وفاق سے بھیجی جاتی ہے۔ بلوچستان میں حکومت کے اپنے اتحادی ایک دوسرے پر عدم اعتماد کر رہے ہیں اور وفاق کی طرف سے کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آ رہی۔ دوسری طرف وفاق میں سول ملٹری تعلقات پر چہ مگوئیاں ختم ہونے میں نہیں آ رہیں اور اس میں بھی کابینہ اور حکومتی زعما اندھیرے میں نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کیا اگلے دو سال بھی یہی بے یقینی کا سلسلہ چلے گا؟ سیاست میں اپوزیشن کا بیانیہ کافی عرصے سے بیک فٹ پر تھا مگر ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف حکومت کا اپنا پیدا کردہ اضطراب، اپوزیشن کی صفوں اور لہجے دونوں میں جان پڑتی نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ کے دو دھڑے تو نمایاں ہیں مگر دونوں اپنی اپنی جگہ متحرک ہیں۔ اگر دونوں دھڑے اسی طرح گڈ اور بیڈ کھیلتے کھیلتے اپنا ووٹ بینک مستحکم کرتے رہے اور آخر میں ایک ہو گئے تو پنجاب میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم ملنے میں شک نہیں رہے گا۔
بقول ماریہ میمن، سیاست کو پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان نے احتساب سے جوڑ رکھا تھا مگر اب نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد کوئی نیا سیاسی کیس بنتا نظر نہیں آ رہا اور موجودہ کیسز کا مستقبل قریب میں فیصلہ ہونا مشکل ہے۔ ان حالات میں جہاں اپوزیشن ابھی تک اپنی طاقت کو سنبھالے ہوئے ہے اور اس کے اتحادی بھی نئے انتخابات سے اتفاق کر رہے ہیں جبکہ پنجاب میں اکثریت چند ووٹوں کی محتاج ہو، وہاں پی ٹی آئی کا سیاسی پلان ہے کیا اس کا جواب خان صاحب ہی دے سکتے ہیں۔
ماریہ میمن کہتی ہیں کہ ملکی معیشت ہو یا سیاست، گورننس ہو یا وزیراعظم کے اداروں کے ساتھ تعلقات، ایسا لگتا ہے کہ حکومت ایک فیصلہ کن دوراہے پر پہنچ چکی ہے۔ اس دوراہے پر کابینہ اور دیگر ذمہ داران بھی مخمصے میں ہیں۔ اس فیصلہ کن گھڑی میں سب وزیراعظم کی طرف دیکھ رہے ہیں اور یہی سوال کر رہے ہیں کہ واٹس دی پلان خان صاحب؟

Back to top button