کیا عمران کی نا اہلی کا کیس اب نیا چیف جسٹس سنے گا؟


عمران خان کے وکلا کی جانب سے پی ٹی آئی چیئرمین کی نااہلی کا فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت سے پہلی ہی پیشی میں کالعدم قرار دلوانے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اب سابق وزیر اعظم کی قسمت کا فیصلہ نئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہاتھوں ہونے کا امکان ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ 24 اکتوبر کو جوڈیشل کونسل آف پاکستان کے اجلاس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ میں ترقی مل جانے کا واضح امکان ہے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج نئے چیف جسٹس بن جائیں گے۔

24 اکتوبر کو جسٹس اطہر من اللہ نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی چیئرمین 30 اکتوبر کو این اے-45 کرم ایجنسی کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل نہیں ہیں۔ عمران خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اس کیس میں آپکو جلدی کیا ہے۔ علی ظفر نے کہا کہ ہمیں نااہل کر دیا گیا ہے، اس دوران 30 اکتوبر کو کُرم ایجنسی کا ضمنی الیکشن ہو جائے گا، اس پر اطہرمن اللہ نے کہا اس الیکشن کے لیے تو عمران خان نااہل نہیں ہیں، وہ کرم الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اس پر علی ظفر نے کہا یہ بات عوام نہیں سمجھ سکیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت عوام کو سمجھانے کے لیے نہیں، یہ کبھی ہوا ہی نہیں، عدالت ایسی مثال قائم نہیں کر سکتی۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جس طرح کیس کا فیصلہ لٹکایا ہوا ہے ویسے پہلے کبھی نہیں ہوا، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ ہم بھی فیصلہ سنا کر کئی بار بعد میں تفصیلی فیصلہ لکھتے ہیں، عدالت امید کرتی ہے کہ تین روز میں فیصلے کی کاپی فراہم کر دی جائے گی، اگر تین دن میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ نہیں ملتا تو پھر اس کو دیکھ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لیے پیمانہ ایک ہونا چاہیے، مجھے اس درخواست میں جلدی کا کوئی عنصر نظر نہیں آ رہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اعتراضات دور کریں اسکے بعد درخواست کو سنیں گے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ تو ابھی جاری ہی نہیں ہوا، آپ فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کر رہے ہیں، لہٰذا یہ بتائیں کہ عدالت کس فیصلے کو معطل کرے؟

علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے جیل میں قیدیوں کو ریلیف دینے کے بارے میں بھی ایک ہی دن میں عملدرآمد کیلئے احکامات دیے، ہمارے کیس میں بھی عدالت آج ہی الیکشن کمیشن کو فیصلہ پیش کرنے کا حکم دے، کیونکہ عمران خان نے کہا کہ یہ جمہوریت کا مسئلہ ہے، اور الیکشن کمیشن فیصلے کو تبدیل کر سکتا ہے، اس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ نہیں، ایسا نہیں کہیں، ایسا نہیں ہوتا۔ اس کیس میں کوئی جلدی ہوتی تو عدالت سن لیتی۔علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی فیصلہ جاری کر کے پھر تبدیل کیا، اس فیصلے سے عمران خان پر ایک داغ لگا ہے اس کے ساتھ الیکشن میں نہیں جانا چاہتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے پہلے کتنے سیاستدان نااہل ہو چکے، کیا ان کی سیاست پر کوئی اثر پڑا؟ یہ عدالت کسی آئینی ادارے کو ڈائریکشن نہیں دیتی، ہم ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں، فیصلے کی کاپی نہ ملی تو دیکھیں گے۔ اس پر علی ظفر نے پھر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی الیکشن کمیشن کو درخواست دے چکے ہیں کہ کاپی نہیں دی جا رہی، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اس درخواست پر فیصلہ تو آ جانے دیں، یہ معمول کے کام ہیں، الیکشن کمیشن تاخیر نہیں کر رہا، عدالتی تاریخ میں عدالت ایسا آرڈر معطل نہیں کر سکتی جس پر دستخط ہی نہ ہوں۔

لیکن علی ظفر نے کہا کہ عمران کے خلاف فوجداری کارروائی کا بھی حکم ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ابھی سیشن عدالت میں جائے گی پھر سیشن جج ایک ماہ تک نوٹس جاری کرے گا، وہ ایک لمبا کام ہے درخواست میں کوئی جلدی والی بات موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ آج ہی جاری کرنے کا حکم دینے کی استدعا مسترد کرنے کے علاوہ عمران کی الیکشن کمیشن کا فیصلہ آج ہی معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انہیں درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات 3 روز میں دور کرنے کا حکم بھی دیا۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو جھوٹا بیان جمع کرانے پر آرٹیکل 63 (ون) (پی) کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے جہاں اس آرٹیکل کے مطابق وہ رکن فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کیے جانے یا چنے جانے کے لیے اہل نہیں ہوگا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں عمران خان کو عوامی نمائندگی کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے اپنے مالی اثاثوں سے متعلق حقائق چھپائے اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹا بیان جمع کرایا، جھوٹ بولنے پر عمران خان عوامی نمائندگی کے اہل نہیں رہے۔

Back to top button