کیا لاک ڈاؤن سے ہی کرونا سے بچا جا سکتا ہے؟

کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے بعد جہاں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے سخت لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا جا رہا ہے وہیں پر طبی ماہرین بھی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں 23 مارچ کو عائد کردہ لاک ڈاؤن اور بعد ازاں رمضان کے آخری ہفتوں میں لاک ڈاؤن نرم کرنے کے بعد عوام کی طرف سےسماجی فاصلوں کے احکامات ہوا میں اڑانے کی وجہ سےاب کرونا وائرس کی وبا بلا تفریق سب کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ اب صورتِ حال اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ ختم ہو رہی ہے۔ اسپتال کرونا کے بڑھتے مریضوں کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں جب کہ معالجین کی جانیں بھی وائرس کی نذر ہو رہی ہیں۔
پاکستان میں 11جون تک کرونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ ملک میں کرونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 2300 سے بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کرونا سے متاثرہ دنیا کے 15 بڑے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ کرونا وائرس بارے پاکستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتی صورتحال کے پیش نظر ڈبلیو ایچ او یعنی عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ اونے پاکستان کے صوبہ پنجاب اور سندھ کو لکھے گئے خطوط میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے وقفوں کے ساتھ سخت لاک ڈاؤن کی تجویز دی، صوبائی حکومتوں کی طرف سے عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پر عملدرآمد کا عندیہ دیا گیا۔ تاہم مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی تجاویز پر عمل کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی ملک میں لاک ڈاؤن کی کوئی تجویز زیر غور ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس کی وبا پاکستان کے تمام شہروں میں پہنچ چکی ہے۔ بڑے شہروں میں کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں اوسطاً ایک ہزار کیسز سامنے آرہے تھے۔ لاک ڈاؤن کو جزوی طور پر ہٹانے سے یومیہ کیسز کی تعداد اوسطاً دو ہزار تک جا پہنچی تھی۔ لاک ڈاؤن کے مکمل خاتمے کے بعد یہ تعداد چار ہزار یومیہ پر جا پہنچی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت پاکستان میں کرونا وائرس کے مثبت آنے والے ٹیسٹس کی شرح 24 فی صد ہے جو 5 فی صد سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری طرف ڈاکٹرز کی ملک گیر تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اس سے قبل ڈاکٹرز کی جانب سے دی گئی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا۔ اب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لاک ڈاؤن کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی سفارشات کو حکومت نے سنا اور نہ ہی عدالت نے۔ عوام کی جانب سے بھی احتیاطی تدابیر کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا جس کا نتیجہ اس وقت سب کے سامنے ہے۔
ڈاکٹرز نے تجویز دی کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے والوں کو بھاری جرمانوں کے لیے قانون سازی کی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا جائے تبھی اس سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔
جناح اسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمالی کہتی ہیں کہ جو لاک ڈاؤن پہلے ہوا تھا، وہ بھی کچھ زیادہ مؤثر نہیں تھا۔ ان کے بقول کچھ مخصوص علاقوں میں سختیوں اور پابندیوں کا اطلاق کیا گیا لیکن اس کے باوجود لوگ آپس میں ملتے رہے۔ ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ اُس دوران بھی کرونا کے کیسز متواتر سامنے آ رہے تھے اور پھر جب وائرس کا پھیلاؤ تیز ہونا شروع ہوا تو بجائے سختی کے، لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کر دی گئی۔ بازار کھلتے ہی عوام بے احتیاطی کرتے دکھائی دیے۔ یہی وجہ ہے کہ عید کے بعد کیسز میں ہوشرُبا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
سول اسپتال کے ڈاکٹر خادم حسین بھی لاک ڈاؤن کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ لاک ڈاؤن تو ان کی سمجھ سے باہر تھا جس میں کاروبار تو بند تھا لیکن لوگوں کی نقل و حرکت پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ اب حالات یہ ہیں کہ بزرگوں کے ساتھ جوان بھی کرونا کا شکار ہو کر اسپتال آ رہے ہیں اور اب ہونے والی اموات میں صرف بڑی عمر کے لوگ نہیں، بلکہ ہر عمر کے افراد شامل ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر کاشف شازلی کے مطابق کرونا وائرس کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد تو سب کے سامنے ہے لیکن ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو کرونا کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود سامنے نہیں آ رہے۔ ان کے بقول بے بنیاد خبروں اور جھوٹی افواہوں پر دھیان دیتے ہوئے بہت سے لوگ اسپتال نہیں آ رہے اور نہ ہی ٹیسٹ کرا رہے ہیں۔ وہ اس صورت میں اسپتال آتے ہیں جب ان کی حالت بگڑ چکی ہوتی ہے۔ تب انہیں بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔ڈاکٹرز نے تجویز دی کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے والوں کو بھاری جرمانوں کے لیے قانون سازی کی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا جائے تبھی اس سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر عذرا کے مطابق عالمی ادارۂ صحت نے لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں جب تک تمام صوبے ایک پیج پر نہیں ہوتے اور وفاقی حکومت ان کا ساتھ نہیں دیتی تب تک ہم اکیلے کچھ نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کے مطابق لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد ہم مریضوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ دیکھ رہے ہیں، ہم کتنی ہی سہولیات فراہم کر دیں لیکن اس صورتِ حال پر قابو نہیں پا سکیں گے۔ ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ جب ہمارے پاس بیڈز نہیں ہوں گے، وینٹی لیٹرز نہیں ہوں گے تو کیا ہم اس وقت یہ فیصلہ کریں گے کہ بوڑھے مریض اور جوان میں سے وینٹی لیٹر کسے ملنا چاہیے؟
