حکومت کا کرونا ایس اور پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث آئندہ چند روز کے دوران پاکستان میں اموات بڑھیں گ. ‘اپوزیشن والے چاہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث معیشت بیٹھ جائے اور زیادہ اموات ہوں، اب میں پرائم منسٹر ہاؤس سے ایس او پیز کا جائزہ لوں گا،ایس او پیز پر عمل نہیں ہوگا تومتعلقہ مارکیٹیں، دکانیں اور علاقے بند کر دینگے. بدقسمتی سے پاکستان میں ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اموات بڑھ رہی ہیں‘۔
اسلام آباد میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہی واحد حل ہے کیونکہ بھارت نے سخت لاک ڈاؤن لگایا لیکن اب وہ بتدریج نرمی کرتے ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف بڑھ رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس تیزی سے نہیں پھیلا، آج پاکستان کیوں بچا کیونکہ ہم نے پوری طرح لاک ڈاؤن نہیں کیا اور جلدی سے تعمیراتی شعبے کو فعال کردیا۔
وزیراعظم عمران خان نے مختلف سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سخت لاک ڈاؤن کے نتیجے میں اب بھارت میں 34 فیصد گھرانوں کو دو ہفتوں میں امداد نہ دی گئی تو ان گزارا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 3 کروڑ نوجوان ملازمت سے محروم ہوگئے لیکن امیرطبقے کو لاک ڈاؤن سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’جولائی کے مہینے میں کورونا وائرس کے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا‘۔
عمران خان نے کہا کہ ’ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بدقسمت سے اب پاکستان میں اموات بڑھ رہی ہے، کیسز کی شرح اوپر کی جانب ہے‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک مشکل وقت ہے، جو قومیں وائرس کا مل کر مقابلہ کریں گی ان کے لیے مشکلات کم ہوں گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’جو لوگ کہتے تھے کہ بھارت نے اچھا اور سخت لاک ڈاؤن لگایا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں غریب طبقہ پس گیا اور کیسز اور اموات میں اضافہ ہورہا ہے، بھارت اب اسی سوچ پر آرہا ہے جہاں میں اور میری ٹیم تھی اور وہ ہے اسمارٹ لاک ڈاؤن۔انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر چل کر لوگوں کی جانیں بچانی چاہیے، امید ہے کہ اب سے احتیاط کریں تو وہ مشکل وقت نہیں آئے گا جو دیگر ممالک پر آرہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’ایس او پیز پر سختی سے مل کرنے کے لیے ایڈمنسٹریشن اور ٹائیکر فورس کے ساتھ مل کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت متعلقہ علاقے کو سیل کردیا جائے گا۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکز کے لیے اسپیشل پیکجز تیار کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن والے چاہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث معیشت بیٹھ جائے اور زیادہ اموات ہوں،یہ لندن سے بھاگے بھاگے آئے ماسک پہنا اور لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ گئے کہ میں بتاؤں گا، تاثر یہ ملا کہ ملک مشکل میں ہے اور یہ ان حالات کو کیش کرنے کی کوشش میں ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ہمیں لوگوں کو کورونا سے بچانا ہے اور دوسری طرف غربت سے بھی بچانا ہے،ہمارے آج وہ حالات نہیں جو بھارت میں ہیں، بھارت میں ایک طرف غریب طبقہ پس گیا دوسری طرف وائرس بھی نہیں رکا اور اسپتالوں پر دباؤ بڑھا۔
انہوں نے کہاکہ کورونا سے پاکستان میں اموات دیگر ممالک سے کم ہیں، بد قسمتی سے آئندہ دنوں میں کورونا سے اموات بڑھیں گی،ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس 10 لاکھ نوجوانوں کی ٹائیگر فورس ہے،ڈاکٹرز، طبی عملے کو کہناچاہتا ہوں مشکل وقت ہے یہ آپ آج اللہ کا کام کررہے ہیں، اس کام کو آپ نے جہاد سمجھنا ہے۔کورونا کے حوالے سے ضابطہ کار (ایس او پیز) پر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایس او پیز پر کتنا عمل کیا جارہا ہے اس کی رپورٹ آرہی ہے،جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہوگا اور وبا پھیل رہی ہے اس جگہ کو بند کیا جائےگا، تاجروں اور دکانداروں سے کہ رہا ہوں احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہوگا تومارکیٹ اور دکان بند کی جائےگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں سب کو تاکید کررہا ہوں کہ ایس او پیز پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھیں،اگر احتیاط نہیں کریں گے تو مریضوں اور معمر افراد کی زندگیاں خطرے میں آجائیں گی۔
عمران خان نے طبی عملے کو مخاطب کرکے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ آپ کو وائرس کا خطرہ زیادہ لاحق ہے، حکومت کی جانب سے ہرمدد کی جائے گی‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ڈیٹا منیجر ہوں گے تاکہ معلومات یا متعلقہ ڈیٹا جمع کیا جاسکے جس کی بنیاد پر اہم فیصلے ہوں گے‘۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جب وائرس شروع ہوا تب صرف 2 ٹیسٹنگ لیبارٹری تھیں اور آج 107 ہیں، تب صرف 500 ٹیسٹ کی صلاحیت تھی اور آج ہم 4 گھنٹے میں 25 ہزار ٹیسٹ کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کے پاس 12 لاکھ طبی نمونوں کو ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وائرس سے لوگ متاثر ہونے لگے تو تب پاکستان میں 28 سو وینٹی لیٹرز تھے لیکن اب 4 ہزار 800 وینٹی لیٹر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں وینٹی لیٹرز کی قلت ہے جبکہ پاکستان میں وینٹی لیٹر کی تیاری پر زور دیا جارہا ہے لیکن تاحال کوئی کامیابی نہیں ملی۔عمران خان نے مزید بتایا کہ آئی سی یو بیڈز 600 سے تھے اب 13 سو ہیں جبکہ آئی سی یو بیڈز کے لیے درکار تجربہ کار طبی عملے کا فقدان ہے جسے جلد از جلد دور کرنے کے لیے خصوصی کورسز کرائے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت جلد آکسیجن بیڈز کی تعداد 2 ہزار کا ضافہ کریں، ایک ہزار بیڈز جون تک تیار کرلیں گے جبکہ جولائی میں ایک ہزار آکسیجن والے بیڈز تیار ہوجائیں گے‘۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہماری ٹیمیں روزانہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر کورونا سے متعلق بے پرواہی دیکھ رہا ہوں، لوگوں سے پوچھو تو کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی کورونا وائرس کا مریض نہیں دیکھا، یہ عوام کا مایوس کن رویہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button