توشہ خانہ ریفرنس: نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 3 کے جج سید اصغر علی نے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی، نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی ، تفتیشی افسر اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ نواز شریف اور آصف زرداری پیش نہیں ہوئے۔
اس موقع پر یوسف رضا گیلانی نے حاضری سے مستقل استثنا کی درخواست دائر کی جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ کرونا کی وجہ سے بار بار پیش ہونا مشکل ہے، کئی ارکان پارلیمنٹ کورونا کا شکار ہوچکے ہیں لہٰذا استثنا دیا جائے۔عدالت نے یوسف رضا گیلانی کی مستقل حاضری سے استثنا کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کردیے۔
فاروق ایچ نائیک نے آصف زرداری کی طرف سے وکالت نامہ جمع کراتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کراچی میں ہیں اور بیمار ہیں، انہیں ذاتی حیثیت میں طلب نہ کیا جائے، انہوں نے پہلے بھی مقدمات کا سامنے کیا ہے، وہ کہیں نہیں بھاگیں گے۔ عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کی آج کی حاضری سے استثنی ٰکی درخواست منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا اورانہیں بلاول ہاؤس کراچی کے پتے پر دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کردیے۔
دورانِ سماعت نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی اور تفتیشی افسر نے نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
عدالت نے دفترخارجہ کو برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانےکے ذریعے وارنٹس کی تعمیل کا بھی حکم دیا۔عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرلی
واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر آصف زرداری اور نواز شریف کو غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ اس ریفرنس میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب ریفرنس کے مطابق آصف زرداری اور نواز شریف نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد قیمت ادا کر کے توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کیں۔ یوسف رضا گیلانی نے اس سلسلے میں نواز شریف اور آصف زرداری کو سہولت فراہم کی اور تحائف کو قبول کرنے اور ضائع کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر نرم کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button