کیا مزاحمتی سیاست کرکے مریم نواز وزیر اعظم بن پائیں گی؟

خود کو اپنے والد نواز شریف کی طاقت اور سیاسی وارث ثابت کرنے والی مریم نواز اگرچہ 28 اکتوبر 2020 کو 47 برس کی ہوگئیں لیکن ان کا جارحانہ طرز سیاست نوجوان نسل کے دلوں میں گھر کرچکا ہے۔ اپنے والد کی تین حکومتوں کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بر طرف ہوتے اور پھر انکے ہمراہ ناکردہ جیل بھگتنے والی مریم بنا کوئی لگی لپٹی رکھے دو ٹوک اور بے لاگ بات کرنے کی سیاست پروان چڑھا رہی ہیں، انہوں نے مفاہمت کی سیاست کرنے والوں کا انجام دیکھا ہے لہذا وہ اپنے چچا شہباز شریف کے برعکس مصلحت کی بجائے مقابلے مزاحمت کی سیاست کو ترجیح دیتی ہیں۔ لہذا سیاست پنڈت متفق ہیں کہ اگر مریم پارٹی کو متحد رکھنے اور طالع آزما قوتوں کے ساتھ چومکھی لڑائی میں کامیاب رہیں تو بنظیر بھٹو کے بعد وہ ملک کی دوسری خاتون وزیراعظم بن سکتی ہیں۔
پاکستان میں پچھلے اٹھارہ سال میں ایک نسل جوان ہوئی ہے جو لولی لنگڑی ہی سہی مگر جمہوری دور میں پروان چڑھی۔ یہ نوجوان جمہوری روایات کو ماضی کی نسل سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔عمران خان، نواز شریف، آصف زرداری، شہباز شریف اور کئی دوسرے 70 کی دھائی کو پہنچنے والے ہیں مگر اب بھی اپنی اپنی جماعتوں کے کرتا دھرتا ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو نہ صرف ایک نئی جمہوریہ کی ضرورت ہے بلکہ اب اس ملک کی باگ ڈور نوجوان رہنماؤں کو لینی چاہیے۔ شاید آصف زرداری اور نواز شریف نے نئے دور کے ان تقاضوں کو اچھی طرح سجھ لیا ہے۔ پچھلے دو برسوں میں حقیقی تبدیلی یہی آئی ہے کہ پیپلز پارٹی نے بلاول اور ن لیگ نے مریم نواز کی صورت میں اپنی نئی نسل کو میدان سیاست کے کارزار میں اتار دیا ہے اور اب یہی دو رہنما ملک و قوم کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں۔
مریم نواز 28 اکتوبر 1971 کو لاہور کے بڑے سیاسی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ مریم نواز کے دو بھائی، حسین اور حسن نواز اور ایک بہن، عاصمہ ہے۔ ان کے دادا، میاں محمد شریف، ایک صنعت کار اور اتفاق گروپ کے بانی تھے جبکہ پرنانا، گاما پہلوان برصغیر کے ایک نامی گرامی پہلوان تھے۔مریم نواز نے ابتدای تعلیم لاہور سے حاصل کی اور انگریزی ادب میں جامعہ پنجاب سے ڈگری لی۔ مریم نے ابتدائی طور پر 2012ء میں خاندان کے رفاہی ونگ شریف میڈیکل سٹی میں کام کا آغاز کیا۔ مریم نواز کو مسلم لیگ نے عام انتخابات 2013ء کے دوران میں ضلع لاہور کی انتخابی مہم کا منتظم مقرر کیا۔ اپنے والد نواز شریف کی وزرات عظمی کے تیسرے دور میں مریم کو 22 نومبر 2013ء کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کی سربراہ مقرر کیاگيا، تاہم عدالت عالیہ لاہور میں اس فیصلے پر درخواست کے بعد مریم نواز نے 13 نومبر 2014ء کو استعفی دے دیا تھا۔
مریم نواز اس لحاظ سے پاکستان کی منفرد سیاستدان ہیں کہ ان کی سیاسی تربیت نہ صرف ان کے والد بلکہ ان کی والدہ کلثوم نواز شریف نے بھی کی۔ یہ بھی ایک عجب اتفاق یے کہ سیاست میں انکی اینٹری ہمیشہ دھماکہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ پہلی مرتبہ مریم نے اپنے والد کی نااہلی کے بعد لندن میں زیر علاج اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی انتخابی مہم چلائی اور بھونچال پیدا کردیا۔ پھر والدہ کے ہمراہ لندن سے واپس پاکستان گرفتاری دینے کے لئے آئیں تو ان کی جرات و ہمت دیکھ کر بڑے بڑے سیاسی پنڈت حیران رہ گئے۔ اس سے قبل اور مابعد احتساب عدالت میں مریم کی ہر پیشی ہنگامہ خیز رہی۔ پھر مریم نے گذشتہ برس خود کو اور اپنے والد کو سزائیں سنانے والے جج ارشد ملک کی خفیہ ویڈیوز منظر عام پر لا کر ایک نیا دھماکہ کیا جس کے اثرات سے پاکستان کی سیاست آج دن تک نہیں نکل سکی۔
تاہم ناقدین کو گلہ ہے کہ مریم نواز جب دل کرتا ہے چپ ہو بیٹھتی ہیں اور جب مخالفین کی نیندیں اڑانا مقصود ہو تو بول پڑتی ہیں۔ وہ مصلحتاً مہینوں خاموش رہنا بھی جانتی ہیں اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر منصوبہ سازوں کو براہ راست للکارتی بھی خوب ہیں۔ بلاشبہ مریم آج کل یہی کر رہی ہیں جس کی وجہ سے طالع آزما قوتوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور واجھ ہوگیا ہے کہ مریم اب خاموش نہیں ہوں گی۔ اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں کے لیے مریم تو پہلے ہی پریشانی کا باعث تھیں لیکن اب ان کے شوہر کیپٹن صفدر بھی سیاسی میدان میں بڑھ چڑھ کر سامنے آ رہے ہیں۔ کیپٹن صفدر کے خلاف بھی نواز شریف اور مریم کی طرح کئی کریمنل اور کرپشن کیسز بنائے گئے ہیں لیکن وہ نیب عدالت میں پیش ہوکر بھی نیب چیئرمین کو للکارنے سے باز نہیں آتے۔ انھیں نیب کے علاوہ دوسری عدالتوں میں بھی بلایا جائے تو وہ وہاں میڈیا ٹاک میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارا ضرور مار دیتے ہیں۔
ن لیگ کی اندرون خانہ سیاست کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نواز شریف کے بیٹوں حسن، حسین اور بیٹی اسما نے خود کو سیاست سے مکمل لا تعلق رکھا ہوا ہے۔ شہباز شریف کے بیٹوں میں بھی صرف حمزہ نے مرکزی دھارے کی سیاست کی لیکن قومی سیاست میں وہ مکمل طور پر غیر متعلقہ سمجھے جاتے ہیں۔ ویسے بھی حمزہ پچھلے ایک برس سے نیب کی تحویل میں ہیںم ان کے بھائی سلمان شہباز بھی حسن اور حسین کی طرح لندن میں کاروبار میں مصروف ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ کئی سال عملی سیاست میں رہنے کے باوجود حمزہ کی ایسی واہ واہ نہ ہوسکی جو عوامی مقبولیت مریم کے حصے میں آئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ حمزہ نے ہمیشہ سے اپنے والد کی طرح مصلحت کی سیاست کی ہے جبکہ مریم نے مذاحمتی بیانیہ اپنایا ہے۔
ویسے بھی سیاست تو کھیل ہی عوامی مقبولیت کا ہے اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فرام سے مریم کی باقاعدہ ری لانچنگ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ن لیگ کی قیادت کا تاج بطور ورثہ مریم کی جھولی میں آگرا ہے۔اگرچہ ن لیگ کی سیاست میں مریم سے ان کے چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ شہباز سنیئر ہیں لیکن یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پنجاب کی سیاست میں مسلسل موجود رہنے والے حمزہ شہباز نیب عدالت کے چکر لگاتے ہیں تو کوئی بڑی خبر نہیں بن پاتی۔ شہباز شریف اپوزیشن رہنماوں سے مل لیتے ہیں لیکن کسی کے سر کا درد نہیں بن پاتے لیکن ادھر مریم نواز کی چند ساعتوں کی عدالتی پیشی بھی سیاسی پاور شو بن جاتی ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مریم لگی لپٹی رکھے بغیر سب کچھ صاف صاف کہہ ڈالتی ہیں۔
سنیئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ کے بقول مریم نواز کی سیاست ان کے والد کے گرد گھومتی ہے۔ بلاشبہ مریم کی سیاست کا محور و مرکز ان کے والد ہیں۔ لیگی متوالوں کو مریم میں نواز شریف کی جھلک نظر آتی ہے کیونکہ مریم کی سیاست بھی ووٹ کو عزت دلوانے اور جمہور کو ان کا حق دلوانے کے لئے ہے۔ اس میں کوئی غیرفطری بات بھی نہیں کہ بیٹی کو باپ کی فکر ہو لیکن مریم پر ابو بچائو مہم کا الزام لگانے والوں کو ان کی مردانہ وار سیاست اور بے لاگ موقف کے باعث اب اپنی بقاکی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ ایک مردانہ سبقت پر یقین رکھنے والے معاشرے میں مریم نواز کا ترجیح بننا بھی کوئی معمولی بات نہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد مریم کو پہلی سیاست دان ہیں جنہیں ایک سیاسی قائد کی حیثیت ملنا شروع ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کی پہلی اور آخری وجہ مریم نواز کا جارحانہ مزاج ہے۔ انہوں نے ماضی کی طرح پاور پالیٹکس نہ کرنے اور اسٹریٹ پالیٹیکس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننے کے باوجود پاور پالیٹیکس کرنے میں مصروف ہیں۔
مریم نواز کے قریبی رفقاء بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ منافق نہیں۔ وہ نپے تُلے جواب دینے کی عادی نہیں۔ وہ مبہم پیغام دینے پر بھی یقین نہیں رکھتیں۔ وہ مقتدر حلقوں کو دو ٹوک مخاطب کرنے اور سیاست میں کھلم کھلا دشمن بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ دوستوں کا بھی پتہ ہو۔ دراصل وقت اور حالات نے بھی مریم نواز کو ایک جارح سیاست دان بننے کا بھرپور موقع دیا۔ مریم نے بھی وقت کی آواز پہ لبیک کہا اور پانامہ مقدمے کی ابتدا سے آج تک ہر طرح کے سخت ترین سیاسی حالات میں ابھر کر سامنے آئیں۔ سیاسی شطرنج کھیلنے والے پرانے کھلاڑیوں کو خوب اندازہ ہوگیا ہے کہ مریم صرف نواز شریف کی بیٹی ہی نہیں، بلکہ ایک سیریس چیلنج بن جانے والی سیاست دان بن رہی ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ن لیگی کہتے تھے کہ مریم کے سٹیکس بہت ہیں، اس کا باپ ملکی بقا و جمہوریت اور صحت کی جنگ لڑ رہا ہے، اس کا چچا جنگ لڑ رہا ہے، اس کے چچا زاد بھائی یوسف عباس اور حمزہ قید ہیں۔ جب آپ کا اتنا کچھ داؤ پہ لگا ہو کہ جائیدادیں چھن سکتی ہیں، والدہ کوچ کر جائے، قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں تو۔۔۔۔ لیکن کیا ہوا مریم کی کسی بھی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود کو ایک عوامی لیڈر ثابت کیا ہے۔ اپنے خاندانی کاروبار، جائیدادوں، نئے پرانے سچے جھوٹے مقدموں اور باپ چچا کی سیاسی غلطیوں کا بوجھ مریم کے کندھوں پر تھا لیکن مریم نے انہی کمزوریوں کو اپنی طاقت بنا کر سیاست کی اور کامیاب ٹھہری ہیں۔ سیاسی پنڈت تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مریم نواز کسی سیاسی انقلاب کا سبب بن جائیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ مریم نواز سیاسی کاروبار میں بھاؤ تاؤ کرنے کی بجائے طالع آزما قوتوں کے سامنے سیسیہ پلائی دیوار بن چکی ہیں جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ماضی قریب میں مریم نواز پر یہ الزام لگتا رہا کہ وہ کبھی تو جوش خطابت میں وقت کے فرعونوں کے اہرام ڈھا دینے کی دھمکی دیتی ہیں اور کبھی اپنے والد کے محل سرا کے کسی حرم خانے میں گم نام سی اداس خاموش شہزادی بن جاتی ہیں۔ مگر اس بار مریم کے تیور بدلے بدلے نظر آتے ہیں۔
مریم کے جارحانہ انداز سیاست کے حوالے سے شیخ رشید جیسے نام نہاد سیاست دان یہ الزام لگاتے تھے کہ ان ہی کی مشوروں کی وجہ سے نواز شریف کی حکومت گئی اور پھر انہیں جیل جانا پڑا۔ مگر اب کی بار تو لگتا ہے کہ اس جارح مزاح سیاست دان کے پھر سے متحرک ہونے کے بعد نہ جانے کتنوں کے دل ڈوبے جا رہے ہیں اور وہ اپنے والد کے لئے ایک بوجھ بننے کی بجائے ان کی طاقت اور سیاسی وارث بن کر ابھری ہیں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز پاکستان کی دوسری خاتون وزیراعظم بن پاتی ہیں یا نہیں۔
