کیا ملٹری کورٹس پر تنازعہ عمران کے جرائم بھلا دے گا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یہ عمران کے وارے میں ہے کیوں کہ وہ ایک انتہائی خود غرض اور منتقم المزاج شخص ہے. خدشہ ہے کہ ملٹری کورٹس کے اوپر تنازعہ بڑھا تو عمران خان کے جرائم پس پردہ چلے جائیں گے ۔ عمران خان اس وقت بند گلی میں پھنس چکا ہے اس سے اُس کی شرائط پر نہیں بلکہ آرمی چیف فہم و فراست کیساتھ اپنی شرائط پر نبٹیں ۔ عمران خان کو گمان ہے کہ اُسکی مقبولیت اپنی دھاک بٹھا چُکی ہے۔ کاش! کوئی سمجھا پاتا ” ایسی مقبولیت” ایک دھوکہ اور فریب ہے جب کہ مقبولیت کو اپنی سلامتی کا لائسنس سمجھ بیٹھنا اس سے بھی بڑا دھوکہ ہے۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ ملکی سیاست کا محور اس وقت اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ عمران خان ہے آج دونوں فریقین بند گلی میں پھنس چُکے ہیں ۔ ملک کے طول عرض میں سوال ایک ہی ہے ” سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے کو ہے”۔ عمران خان کی سیاست کو کسی قسم کا ٹھکانہ مل پائیگا؟ یا ٹھکانے لگا دیا جائے گا؟ سانحہ یہ ہےکہ قوم ، سیاسی جماعتوں ، قومی اداروں میں تقسیم ہے عمران خان کو گمان ہے کہ اُن کی مقبولیت اپنی دھاک بٹھا چُکی ہے۔ کاش! کوئی اسے سمجھا پاتا کہ ” ایسی مقبولیت” ایک دھوکہ اور فریب ہے۔ مقبولیت کو اپنی عافیت ، عاقبت اور سلامتی کا لائسنس سمجھ بیٹھنا اس سے بھی بڑا دھوکہ ہے۔ دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کو یہ غیر ضروری اعتماد ہے کہ عمران خان کا مکو ٹھپا جانا ہے ،وہ چند ہفتوں کی مار ہے اور اس کا خاتمہ بالخیر ہونے کو ہے۔ فریقین کے ایک دوسرے کے بارےمیں تصورات نامکمل ہیں اور یہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران دونوں کیلئے نقصان دہ ہے ۔ حفیظ الله نیازی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی کنفیوژن یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر سر نگوں ہونے کیلئے تیار نہیں۔ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کے کرتا دھرتائوں سے رابطوں کی سر توڑ کوششیں اور منت ترلے کر رہے ہیں تو دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ماننے والوں کو سڑکوں پر نکلنے ، مرنے مارنے کیلئےاُکسا رہے ہیں۔ مقبولیت کے بخار اور جھوٹ کے استعمال نے خود فریبی کی سہولت دے رکھی ہے۔ ۔اسٹیبلشمنٹ کا عزم صمیم ہے کہ عمران خان کو اپنے کئے کو بھگتنا ہو گا۔ عمران خان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے آپشنز کیا ہیں؟ ایسے مقدمات میں گرفتاری کہ ضمانت نہ ہو پائے یا نااہلی ایسے کہ پکا کام ہو ،کرپشن کے ایسے کیسز کہ بچ نکلنا ناممکن ہو۔ اس تناظر میں عدلیہ کا رول انتہائی اہم ہے ، حال ہی میں اوپر کی سطح پر عدلیہ میں ہواؤں کا رُخ بدل رہا ہے۔اسٹیبلشمنٹ کی پہلی ترجیح تو ملٹری کورٹس ہی ہیں ،جن سے سزائے موت یا عمر قید دونوں ممکن اور قابل عمل ہیں ۔ ملٹری کورٹس پرجسٹس جواد خواجہ کی درخواست نے نتیجہ خیز رہنا ہے۔ اَز راہ تفنن، عزت مآب چیف جسٹس نے کمال فراخدلی سے کھڈے لائن جسٹس لگے قاضی فائز کو 5 سال بعد کسی اہم بینچ کا حصہ بنایا ہے۔
ملٹری کورٹس پر قاضی فائزعیسیٰ کی شمولیت ضروری سمجھی گئی۔ مجھے یقین تھا کہ فائزعیسیٰ بینچ سے علیحدہ ہو جائیں گے اور وہ ہو گئے۔اسٹیبلشمنٹ کیلئے ملٹری کورٹس کی ساری افادیت موجود ہے مگر سو فیصد مطلوبہ نتائج کی گارنٹی کے باوجود ، سول سوسائٹی ، میڈیا اور وکلاء نے اس کے خلاف متحدہ محاذ بنانا ہے۔ ملٹری کورٹس ٹرائل بلاوجہ عمران کے حق میں جائیگا ۔خدشہ یہ بھی ملٹری کورٹس کے اوپر تنازعہ بڑھا تو عمران خان کے جرائم نے پس پردہ چلے جاناہے۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے، عمران خان اپنے منطقی انجام کوپہنچنے والے تھے۔ دسمبر 2021 وہ زمانہ تھا جب عمران خان اپنی غیر مقبولیت کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ زن تھا جبکہ نواز شریف مقبولیت کے ساتویں آسماں پرتھے۔ایسے وقت میں جنرل باجوہ اور ساتھیوں نے انگڑائی لی اور عمران خان کو ٹھکانے لگانے کا سوچا، ملکی مفاد میں نہیں اپنے ذاتی مفاد میں۔” پروجیکٹ باجوہ” تشکیل پایا، آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب ” پروجیکٹ باجوہ” کا شاخسانہ ہے۔جنرل باجوہ اپنے پیشرو کی سُنت کے عین مطابق ، قیادت آخری سانس تک اپنے پاس رکھنے کے امکانات دیکھ رہے تھے۔ منتخب نمائندوں کو گھر بھیج کر لمبے عرصہ تک نگران حکومت کاقیام ، اصل مدعا تھا . عمران خان کو اقتدار سے ہٹانا ، نئی حکومت قائم کر کے اس کو گھر بھیجنا اور نگران حکومت کا قیام تا کہ دائمی اقتدار بالآخرجنرل باجوہ کے قدموں میں آن پڑے۔ جنوری تا مئی 2022 تک عمران خان کوصفحہ ہستی سے مٹانا ہر طرح سے ممکن تھا ،جنرل باجوہ کی خود غرضی اور بد نیتی کہ عمران خان کو مٹنے نہ دیا جائے. 25 مئی سے پہلے لانگ مارچ ہو یا جلسے جلوس، سپریم کورٹ کا حمزہ شہباز کی حکومت ختم کر کے آئین میں ترمیم کرنایا جولائی اگست کے قومی و صوبائی ضمنی انتخابات کے نتائج ، ارشد شریف قتل کیس یا عمران خان پر قاتلانہ حملہ، جنرل عاصم منیر کی تعیناتی رکوانے کیلئے راولپنڈی لانگ مارچ یاعدالتی تعاون ، غیر مرئی قوتوں کے نقش پا قدم بقدم موجود تھے۔ 29نومبر کو جب تک جنرل باجوہ رُخصت ہوئے تو عمران خان ایک عفریت بن چُکا تھا۔ حفیظ الله نیازی بتاتےھیں کہ جنرل عاصم منیر نے چارج لیا تو خرابیاں جڑ پکڑ چُکی تھیں۔آج عمران سے کیسے نبٹا جائے؟”ارادہ باندھتا ہوں توڑ دیتا ہوں” ۔ وطن عزیز دلدل میں پھنس چُکا ہے ۔ اگر پاکستان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو عمران کے وارے میں ہے کہ وہ ایک انتہائی خود غرض اور منتقم المزاج شخص ہے۔جنرل عاصم منیر کی ایک ضرورت اور بھی ہے وہ یہ کہ ایک مستحکم اور دیر پا سیاسی نظام حکومت وجود میں آئے۔ اس کیلئے زمینی حقائق کا احاطہ کئے بغیر عاصم منیر کا کوئی لائحہ عمل سود مند نہیں ہو گا ۔عمران خان سے اُس کی شرائط پر نہیں اپنی شرائط پر نبٹیں مگر فہم و فراست کیساتھ ۔ اس وقت وہ بند گلی میں پھنس چکا ہے، ۔ اگر تدبرکے بغیر اندھا دھند آگے بڑھا گیا تو پھرنتیجہ ٹن ٹن گوپال ہی ہو گا ۔

Back to top button