کیا ا انقلابی ایپ چیٹ ’’جی پی ٹی‘‘ کا مفت استعمال ممکن ہے؟

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے لیس دنیا کی غیرمعمولی ایپلی کیشن ’’چیٹ جی پی ٹی‘‘حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز میں سے ایک ہے۔
اس ایپ کو’اوپن اے آئی‘ کمپنی نے 30 نومبر 2022 کولانچ کیا تھا، اس کا بنیادی ہدف روایتی سرچ انجنوں سے ہٹ کر صارفین کو ان کی مطلوبہ معلومات فراہم کرنا ہے۔ اس حوالے سے عربی میگزین ’سیدتی‘ میں شائع ہونے والا معلوماتی مضمون پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ ایک طرح کا روبوٹ ہے جسے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام مختلف زبانوں میں صارفین کے سوالات کے جوابات چند سیکنڈ میں فراہم کرتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی نے بہت سے شعبوں کے امور کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کی مدد سے طالب علم اپنے ریاضی اورفزیکس کے مسائل بھی فوری طورپرحل کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ مکالمے لکھنے یا ناول نگاری کے لیے مضامین کی تحریر ہو یا کوئی ویب سائٹ ڈیزائن کرانے کے لیے کوڈنگ کا حصول چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے سیکنڈوں میں حل کیا جا سکتا ہے۔
جی پی ٹی کو صارفین کے ساتھ چیٹ کرنے اور ان کے سوالات کا تفصیلی جواب دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے یہاں تک کہ یہ پروگرام کی جانے والی چیٹ کو سیو رکھتا ہے، چیٹ جی پی ٹی کی ویب سائٹ پرلاگ ان کرنے کے بعد چیٹ کو کلک کریں، وم پیچ پر رجسٹریشن یا نیا اکاؤنٹ بنانے کی سہولت موجود ہے۔
اکاؤنٹ بنانے کے لیے مطلوبہ معلومات فیڈ کی جائیں جن میں نام ، ایڈریس، ای میل اورپاس ورڈ شامل ہے، اکاؤنٹ کنفرمیشن کے بعد یوزرکا اکاونٹ ایکیٹویٹ ہو جائے گا، اوپن اے آئی کمپنی نے ابتدائی طورلانچ کیا جانے والا تجرباتی ورژن مفت رکھا ہے تاہم ایڈوانس ورژن کی ماہانہ فیس بھی مقررکی گئی ہے جس میں بے شمارایسے فیچرز ہیں جو مفت ورژن میں نہیں۔
کمپنی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کا مالیاتی تخمینہ 29 بلین ڈالرلگایا ہے تاہم گوگل بھی میدان عمل میں اُتر چکی ہے جواس کی ایک بڑی حریف بن کر سامنے آئی ہے۔
اس پروگرام کے لانچ ہوتے ہی پہلے مہینے میں ایک کروڑ افراد نے اس پر اکاؤنٹ بنایا ہے، کہا جا رہا ہے کہ یہ نئی ایپ طالب علموں کو سست بنا سکتی ہے کیونکہ وہ انہیں تمام ریسرچ ورک اور دیگر کام فوری طور پر کر کے دے سکتی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی سے حاصل ہونے والے جوابات پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا بھی درست نہیں۔ آپ کو چاہئے کہ حاصل ہونے والے جوابات کے بارے میں خود بھی تحقیق کریں تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔ اس کے برعکس گوگل مختلف ذرائع کو بھی کوڈ کرتا ہے جہاں سے اس نے متعلقہ سوال کا جواب حاصل کیا ہے۔

Back to top button