کیا مہوش حیات اور فواد چودھری کا کوئی چکر چل رہا ہے؟

https://youtu.be/8s-Khr2XaUc
خوبصورت اداکارہ مہوش حیات اور وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کیا کوئی چکر چل رہا ہے۔ دراصل یہ سوال حالیہ کچھ عرصے میں ان دونوں کی اکٹھے مسلسل تصاویر مارکیٹ ہونے کے بعد اٹھنا شروع ہوا ہے۔ فواد چودھری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چکر کوئی بھی نہیں، بات صرف اتنی ہے کہ انکی اہلیہ نے لان کا ایک برانڈ لانچ کیا ہے اور مہوش حیات اس کی اسکی مارکیٹنگ ایمبیسیڈر ہیں لہذا اس حوالے سے مہوش سے میل ملاپ زیادہ ہو گیا ہے۔
فواد چوہدری کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ جب 2019 میں مہوش حیات کو پی ٹی آئی حکومت نے تمغہء امتیاز سے نوازا تھا تب بھی سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا گیا۔۔ جہاں بعض لوگ اسے شوبز انڈسٹری میں مہوش کی کنٹری بیوشن سے زیادہ صدر عارف علوی کی مہربانی قرار دے رہے تھے تو وہیں کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ مہوش کا نام فواد چودھری نے ریکمنڈ کیا ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں دراصل اصل میاں یوسف صلاح الدین کا ہاتھ تھا۔
بہرحال مہوش اپنی زندگی کا متنازعہ ترین ایوارڈ لینے اسلام آباد پہنچیں تو پی ٹی آئی کے منسٹرز نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا، اب اسے مہوش کی خوش قسمتی کہیں یا بدقسمتی کہ تقریب کے بعد آف وائیٹ ڈیزائنر پشواز میں مہوش کی سب سے زیادہ تصاویر جس منسٹر کے ساتھ وائرل ہوئیں وہ فواد چودھری تھے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں آپ کہاں جاتے ہیں، کیا کرتے ہیں، کس سے ملتے ہیں؟ کیمرے کی آنکھ ہر جگہ آپ کا پیچھا کرتی ہے اور اگر آپ کا تعلق شوبز سے ہے تو پھر تیار رہیں اور دیکھیں کہ آپ کی ہر بات بلکہ ہر ادا کیسے وائرل ہوتی ہے؟ اگرچہ خفیہ طور۔پر بنائی گئی اپنی ایک قابل اعتراض مارکیٹ ہونے کے بعد مہوش کافی عرصہ سے کہیں اکیلی موو نہیں کرتیں، اور ان کی والدہ یا بھائی ساتھ ہوتے ہیں لیکن ڈیجیٹل میڈیا کے کھلاڑی بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ اب بھلے وہ اپنی فیملی کے ساتھ ہی کیوں نہ موو کر رہی ہوں، وہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑنے والے۔۔
حال ہی میں مہوش لاہور میں تھیں مگر اکیلی نہیں، اپنے بھائی دانش حیات کے ساتھ۔۔ حسب معمول یوسف صلاح الدین نے ان کے اعزاز میں اپنے گھر حویلی بارود خانہ کھانے کا اہتمام کیا، میاں صلی سے مہوش کی پرانی دوستی ہے اور وہ صلی کی حویلی اکثر آتی رہتی ہیں۔ تاہم اب کی بار اس گیدرنگ میں رنگ بھرنے کے لئے کچھ اور ہستیاں بھی موجود تھیں یعنی انفارمیشن منسٹر فواد چودھری اور ان کی مسز حبا خان۔۔ تو پھر باتیں تو بننا ہی تھیں۔ دراصل حبا خان نے کچھ عرصہ پہلے برائیڈل فیشن ویک میں اپنی بیٹی نساء حسین کے نام سے اپنی کولیکشن لانچ کی جہاں چودھری فواد بھی اپنی مسز کی حوصلہ افزائی کے لئے موجود تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ فواد چودھری ہی کا آئیڈیا تھا کہ نئے لان برانڈ کی مارکیٹنگ کے لئے شوبز کا سب سے حسین چہرہ ساتھ ملایا جائے۔ ظاہر ہے قرعہ مہوش ہی کے نام کا نکلنا تھا۔ اگرچہ مہوش چند سال پہلے اداکار شان کے ساتھ ”اتحاد“ کے لئے ماڈلنگ کر چکی ہیں لیکن اس نئے پراجیکٹ کے لئے بھی ”فواد فیملی“ مہوش ہی کو بُک کرنا چاہتی تھی۔ ویسے اگر یہ کہا جائے کہ مہوش اس وقت انڈسٹری کا ”موسٹ فیورٹ“ چہرہ ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔
کراچی یونیورسٹی کی گریجوایٹ 38 سالہ مہوش حیات، کا ٹی وی پر پہلا بلاک بسٹر ڈرامہ ”میرے قاتل میرے دلدار“ تھا، جبکہ ان کی فلم ”میں پنجاب نہیں جاؤں گی“ نے کئی ریکارڈ توڑے۔ اب کچھ عرصہ سے وہ گا بھی رہی ہیں، یہاں تک کہ کوک سٹوڈیوز میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔ آخر مہوش کسی اور فیلڈ میں جانے کی بجائے اداکاری اور گلوکاری کی طرف ہی کیوں آئیں؟ اس میں صرف اور صرف ان کی فیملی کا ہاتھ ہے۔ ایک تو ان کی والدہ رخسار حیات ماضی میں ٹی وی ایکٹرس رہی ہیں، پھر ایک بہن افشین اور بھائی ذیشان سنگر ہیں۔ مہوش کے بعد ان کا چھوٹا بھائی دانش بھی اداکاری کے میدان میں اتر چکا ہے۔ تاہم بہت کم عرصہ میں مہوش کا شمار ٹی وی اور فلم کی لیڈنگ ایکٹرسز میں ہونے لگا ہے۔ ماڈلنگ کی دنیا میں بھی وہ اے پلس کیٹیگری میں سٹینڈ کرتی ہیں۔ شاید اسی لئے ان کی آمدنی کا تخمینہ ایک ارب سے زائد لگایا جاتا ہے اور تو اور تمغہء امتیاز حاصل کرنے کے بعد مہوش کا جو امیج سامنے آیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ انھیں ”سیکس سمبل“ بھی کہا جانے لگا ہے، ان کے نیم عریاں شوٹس دیکھیں تو ان پر ہالی ووڈ کی کسی ایکٹرس کا گمان ہوتا ہے۔۔ اپنی اسی فیم کو کیش کرواتے ہوئے کچھ عرصہ سے وہ فلم ہو یا ٹی وی، بڑے پراجیکٹس ہی پکڑ رہی ہیں۔ ماڈلنگ کے لئے بھی ملٹی نیشنل کمپنیز یا انٹرنیشنل برانڈز کے علاوہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں۔ ویسے بھی چونکہ ان کی اڑان حکومتی ایوانوں تک ہے، اس لئے ہر بڑی کمپنی ان کے پیچھے ہے اور کیوں نہ ہو، انتہائی متنازعہ ہونے کے باوجود آج بھی وہ جہاں قدم رکھ دیں، ایک دو نہیں بہت سے دل ایک ساتھ دھڑکنے لگتے ہیں!!

Back to top button