کیا طالبان دوبارہ سے افغانستان پر قابض ہونے والے ہیں؟

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد اس کے مستقبل کے بارے میں عالمی سطح پر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا افغان طالبان دوبارہ وہاں قابض ہونے والے ہیں اور کیا وہاں دوبارہ نوے کی دہائی والے حالات پیدا ہونے جا رہے ہیں؟
یاد رہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ستمبر میں مکمل ہونا ہے لیکن اس سے پہلے ہی یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مختلف صوبوں میں افغان فوج اور پولیس کے یونیفارم میں ملبوس سرکاری دستے طالبان کمانڈروں کے سامنے ہتھیار پھینک کر انکے ساتھ ملنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانستان سے افغان طالبان کے مختلف صوبوں کا کنٹرول لینے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ ان حالات میں متائثرین کے ذہنوں میں مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں اور پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ایک مرتبہ پھر افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے؟ کیا ایک مرتبہ پھر افغانستان میں بیس سال کی ترقی تباہ ہو جائے گی؟ کیا بد امنی کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر افغانستان سے بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی ہونے والی ہے، اور اگر افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو اس کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بے یقینی بھی پائی جاتی ہے کہ غیر ملکی فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں اقتدار کس کے پاس رہے گا، کیا طالبان اور افغان حکومت مفاہمت کے تحت معاملات حال کرلیں گے یا یہ خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کریں گے؟
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ماضی کی مثالیں سامنے ہیں جب روس کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد حالات کسی کے قابو میں نہیں رہے تھے اور مجاہدین آپس میں لڑنے لگے تھے۔ ایسے حالات میں عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جانی نقصان زیادہ ہوتا ہے اور ملک کا انفرا سٹرکچر بھی تباہ ہوتا ہے۔غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کیا ہو سکتا ہے اور اس کے افغانستان اور پڑوسی ممالک پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں، یہ جانچنے کے لیے پہلے افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے امریکی فوج کے 11 ستمبر کے انخلا کے اعلان کے بعد انخلا کا آغاز اس سال یکم مئی سے ہو چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق گیارہ ستمبر کا اعلان امریکہ نے نائین الیون کی مناسبت سے کیا ہے۔ اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
افغانستان میں موجودہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے صحافی انیس الرحمان نے بتایا کہ ملک میں کشیدگی ضرور ہے اور افغان طالبان کی پیش رفت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے مختلف صوبوں میں اضلاع کے دیہی علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے اور ان میں بیشتر وہ علاقے ہیں جہاں طالبان پہلے سے موجود تھے۔ افغان حکومت کے فوجی بعض علاقوں میں پیچھے ہٹے ہیں اور انیوں نے ہتھیار بھی ڈالے ہیں جس سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مفاہمت کے تحت فوجیوں نے کچھ علاقے طالبان کے آنے پر خالی کیے ہیں تاکہ انسانی جانوں کا نقصان نہ ہو۔ انیس الرحمان نے بتایا کہ افغان فورسز کے پاس فضائی حملوں کی صلاحیت ہے لیکن موجودہ صورتحال میں منصوبہ سازوں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ اس وقت طالبان کے ساتھ جنگ کرنے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں اور حکومت اپنے شہریوں اور فوجیوں کا نقصان نہیں چاہتی، اس لیے اب تک کسی بھی علاقے سے کسی بڑے حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ افغانستان میں ایک خوف کی فضا بھی پائی جاتی ہے۔ انخلا سے پہلے افغانستان میں کسی حد تک سیاسی سطح پراستحکام پیدا ہو گیا تھا، ترقیاتی کام جاری تھے اور ملک کو ایک سمت کا تعین ہو گیا تھا، لیکن اب مبصرین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ پھر سے نوے کی دہائی جانب جاتا ہوا نظر آ رہا ہے جب افغانستان میں مختلف دھڑوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ قطر کے شہر دوحہ میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے نمائندگان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کے مطابق ان مذاکرات کے لیے وقت کا تعین ان کے فوکل پرسنز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ان مذاکرات کی تفصیل سامنے نہیں لائی جا رہی۔ایک طرف یہ مذاکرات ہو رہے ہیں تو دوسری جانب افغانستان میں افغان طالبان اور افغان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
افغانستان کے بارے میں عالمی سطح پر جیسی بھی پالیسی سامنے آتی ہے اس کے اثرات ہمسایہ ممالک خاص طور پر پاکستان پر ضرورت پڑتے ہیں۔ادھر پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے مذاکرات کار ‘امن عمل میں سہولت کاری’ کے لیے پاکستان آتے ہیں اور پاکستان اُن کے ساتھ اسی مقصد کے لیے مل کر کام کر رہا ہے۔افغان ٹی وی چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا کہ یہ تاثر عام ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی توجہ صرف ایک مخصوص دھڑے پر ہے لیکن ایسا نہیں ہے، بلکہ پاکستان سب کے ساتھ دوستی چاہتا ہے۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ طالبان مذاکرات کار نے عوامی طور پر یہ کہا کہ وہ مشاورت کے لیے پاکستان جا رہے ہیں، ملّا عبدالغنی برادر کئی مرتبہ پاکستان آئے ہیں اور وہ کوئٹہ بھی جاتے رہے ہیں، تو اس پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایسا ‘امن عمل میں سہولت کاری’ کے لیے ہوا ہے۔’وہ افغانستان میں ہیں۔ آپ کو اُن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہم مدد کرنے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’ تاہم اس دوران پاکستان میں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت واپس آنے سے پاکستانی طالبان بھی واپس آ کر مضبوط ہوں گے جس سے دہشت گردی میں اضافہ ہوجائے گا۔
یاد رہے کہ 2001 میں افغانستان پر قبضے کی جنگ میں امریکہ طالبان کو ہرانے میں ناکام رہا جس کے بعد دونوں فریقین میں ایک امن معاہدہ ہوگیا۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان یہ امن معاہدہ فروری 2020 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے ہوا تھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کا فیصلہ بھی ہوگیا تھا کہ کب کب کیا کچھ کیا جائے گا، یعنی قیدیوں کی رہائی، بین الافغان مذاکرات، افغانستان کے بارے میں کسی یورپی ملک میں مذاکرات اور غیر ملکی افواج کے انخلا کا ٹائم فریم تک طے کر دیا گیا تھا۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو جب امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات جاری تھے تو اس کے بعد پاکستان کی سطح پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشنز اور قائدین کی ہلاکت کی وجہ سے تنظیم مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی لیکن پھر ان دھڑوں کو یکجا کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ اگست 2020 میں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار نے تحریک طالبان پاکستان میں ضم ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔یہ دھڑے اپنے اپنے طور پر شدت پسندی کی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس انضمام کے موقع پر بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ ‘جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی اور حزب الاحرار کے امیر عمر خراسانی نے تحریک طالبان پاکستان کے امیر ابو عاصم منصور کے ساتھ ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتے ہوئے اپنی سابقہ جماعتوں (جماعت الاحرار اور حزب الاحرار) کے خاتمے کا اعلان کیا اور اس بات کا عہد کیا کہ ان کی جماعتیں تحریک طالبان پاکستان کے شرعی اصولوں کی پابند ہوں گی۔اس انضمام کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا جن میں سیکیورٹی فورسز پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات زیادہ ہوئے ہیں۔
ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ افغانستان میں حالات جب بھی کسی کڑوٹ لیتے ہیں اس کے اثرات پاکستان پر ضرور مرتب ہوتے ہیں۔
موجودہ حالات میں بھی بیشتر مبصرین اور تجزیہ کار اس بارے میں تو متفق ہیں کہ غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پاکستان پر بھی اس کے اثرات ہوں گے لیکن ان کی شدت کیا ہوگی اور کتنی حد تک کتنے علاقے متاثر ہو سکیں گے اس بارے میں متضاد رائے سامنے آ رہی ہے۔
پاکستان میں دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد امکان ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو اور اس کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں مختلف گروہ اپنی اپنی پوزیشن بھی مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کے مطابق افغانستان میں سب سے بڑا گروہ افغان طالبان کا ہے اور اب اس وقت طالبان کابل کے قریب اپنی پوزیشن مستحکم کر رہے ہیں لیکن بظاہر ایسا نظر نہیں آتا کہ طالبان کابل پر حملہ کر سکیں گے۔افغان طالبان کے علاوہ دیگر گروہ جیسے القاعدہ اور داعش سے تعلق رکھنے والے شدت پسند بھی انھی علاقوں میں متحرک ہیں۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا تھا جہاں تک پاکستان پر اس کے اثرات کا تعلق ہے تو پاکستان حکومت کی کوشش ہوگی کہ اس کے اثرات کم سے کم سامنے آئیں اور اس کے لیے گذشتہ پانچ سال سے اس کی تیاری کی جا رہی ہے جس میں پاک افغان سرحد پر خار دار تار لگائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے قوانین ختم کرکے ان علاقوں کا انضمام صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ کر دیا گیا ہے جس کے بعد ملک کا قانون وہاں نافذ ہوگیا ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوگی۔ ان سے جب پوچھا کہ افغان طالبان کے تعلقات پاکستان طالبان سے بہتر رہے ہیں اور یہ ایک دوسرے کی حمایت کر سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان افغانستان میں اقتدار میں آتے ہیں یا نہیں یہ ابھی واضح نہیں ہے لیکن یہ بات معلوم ہے کہ افغان طالبان افغانستان کے ان علاقوں میں مضبوط ہیں جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان پاکستانی طالبان کی ان پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے جس کے تحت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہےاور بار بار افغان طالبان نے پاکستان طالبان کو تشدد کی کارروائیوں سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ بریگیڈئیر محمود شاہ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے اندر تشدد کے جو واقعات پیش آتے ہیں ان میں بیشتر کے پیچھے مبینہ طور پر افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارت ملوث ہوتے ہیں۔ لہازا اگر ‘افغان طالبان مضبوط ہوتے ہیں تو یہ کارروائیاں نہیں ہو سکیں گی۔’
