کیا نواز شریف کی تا حیات نا اہلی ختم ہونے والی ہے؟

حکومتی قانون سازی سے لیول پلیئنگ فیلڈ کی راہ ہموار ہو گئی، عدالتی اصلاحات سے نواز شریف و دیگر کی تاحیات نااہلی ختم ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تا حیات نا اہل قرار دئیے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت دیگر  متاثرین کو قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل کے تحت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق مل گیا ہے۔

نااہلی کے حوالے سے یہ ترمیم محسن داوڑ کی جانب سے پیش کی گئی تھی جو بل میں شامل کرلی گئی جس سے نواز شریف کے علاوہ یوسف رضا گیلانی، جہانگیر ترین اور از خود نوٹس کیسز کے فیصلوں کے دیگر متاثرین بھی مستفید ہوسکیں گے۔ ایسے افراد کو اب 30 روز میں ون ٹائم اپیل کا حق حاصل ہوگا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز بل 2023 میں محسن داوڑ کی ترمیم شامل کر لینے کے بعد سپریم کورٹ سے تاحیات نااہل نوازشریف کو سزا کے خلاف اپیل کا حق مل گیا۔

محسن داوڑ نے کہا کہ کراچی کا نسلہ ٹاور بھی ازخود نوٹس کی وجہ سے گرایا گیا، ماضی میں184/3 یعنی از خود نوٹسز کے متاثرین کو 30 دن میں اپیل کا حق دیا جائے۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایک بار کی قانون سازی ہے اس سے کوئی پنڈورا باکس نہیں کھلے گا۔محسن داوڑ نے کہا کہ پرانے احساسات ہیں اس ترمیم پر کیوں ہچکچا رہے ہیں؟ اس دوران پیپلزپارٹی نے محسن داوڑ کی ترمیم کی حمایت کر دی اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے تحفظات ہوتے ہیں مگر ہم محسن داوڑ کی ترمیم کی مخالفت واپس لیتے ہیں۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ہی وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی مشاورت ہوئی جس کے بعد محسن داوڑ کی مجوزہ ترمیم منظور کرلی گئی۔محسن داوڑ نے کہا کہ یہ قانون اب بن رہا ہے لیکن لوگ سو موٹو کیسز کے باعث ماضی میں بھی متاثر ہو چکے ہیں، ان لوگوں کو بھی ریلیف ملنا چاہیے، سابق وزیراعظم نواز شریف ، یوسف رضا گیلانی اور جہانگیر ترین بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو اپیل کا حق نہیں دیا گیا اور ایسے تمام لوگوں کو جو اس سے متاثر ہوئے انہیں 30 دن میں اپیل کرنے کا حق دینا چاہیے۔

بعد ازاں قومی اسمبلی نے عدالتی اصلاحات کا بل سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ترمیمی بل 2023 کی متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کی ایک شق کے مطابق بینچوں کی تشکیل اور از خود نوٹس کا فیصلہ اب کوئی فرد واحد نہیں بلکہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین ججز شامل ہوں گے۔

عدالتی اصلاحات سے متعلق بل بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا جہاں حزب اختلاف اور حکومتی اراکین نے اس بل کی بھرپور حمایت کی جبکہ چند آزاد اراکین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے عدلیہ پر قدغن قرار دیا۔اصلاحاتی بل کی ایک شق 184 (3) کے تحت عدالت کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کے فیصلے کے خلاف 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جا سکتی ہے جس کے بعد 14 دنوں میں سپریم کورٹ اس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا پابند ہو گی۔بل میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اپیل کرنے کا حق اس متاثرہ فرد کو کوبھی دستیاب ہوگا جس کے خلاف حکم اس ایکٹ سے پہلے 184 (3) کے تحت جاری کیا گیا ہو۔‘بل کے مطابق اس ایکٹ کے قانون بننے کے 30 دن کے اندر وہ افراد بھی فیصلوں کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں جو ماضی میں متاثر ہوئے ہوں۔

’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجز ایکٹ 2023‘ قومی اسمبلی سے تو منظور ہو چکا ہے لیکن اسے قانون بنانے کے لیے حکومت کو اسے سینیٹ سے بھی منظور کروانا ہوگا۔اس بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بل کو منظور کروانے کا مقصد سابق وزیراعظم نواز شریف اور عدالت کی طرف سے نااہل قرار دیے گئے دیگر سیاستدانوں کو اپیل کا حق دینا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما فواد چوہدری نے اس حوالے سے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس بل کو منظور کروانا نواز شریف کو ’نا اہلی کے خلاف ریلیف‘ دینے کی کوشش ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف کی نا اہلی آرٹیکل 184 (3) کے تحت ہوئی۔ عام قانون سے آپ اس کو کیسے بدل سکتے ہیں۔

خیال رہے سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر ترین سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت لیے گئے سو موٹو یعنی ازخود نوٹس کے ذریعے نا اہل ہوئے تھے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس میں جولائی 2017 کواپنے بیٹے کی کمپنی سے قابل وصول تںخواہ کو ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا تھا۔

اسی طرح پی ٹی آئی کے سابق رہنما جہانگیر ترین کو بھی سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا تھا،پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے آصف زرداری کے خلاف کرپشن کیس کی تحقیقات پر عدالتی حکم نہ ماننے پر توہین عدالت کے الزام میں جون 2012 کو پاکستان کے وزیراعظم کی مسند سے ہٹا دیا تھا۔

کیا ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجز ایکٹ 2023‘ کی منظوری کے بعد نواز شریف، جہانگیر ترین اور یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہوجائے گا؟سپریم کورٹ کے وکیل حیدر وحید سمجھتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجز ایکٹ 2023‘ کے قانون بن جانے کے بعد نواز شریف، جہانگیر ترین اور دیگر افراد کو بھی اپنے ماضی کے مقدمات میں فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہوجائے گا۔‘ان کے مطابق ’قانون بن جانے کے بعد 30 دن کے اندر نواز شریف سمیت دیگر افراد اپنے خلاف آنے والے فیصلوں کے خلاف اپیل کر سکیں گے۔

سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’نواز شریف دیگر افراد کے کیسز پر نئے قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا کیونکہ اس قانون کا اطلاق مؤثر ماضی نہیں ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ تمام فیصلے ہو چکے اور ان پر عمل درآمد بھی ہوچکا۔‘ سابق جج نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عدالتی قوانین میں ترامیم کا مقصد تو اچھا ہے لیکن ’طریقہ کار درست نہیں۔‘ ان کے مطابق ایک قانون کے ذریعے آئین میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی بلکہ آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ موجودہ حکومت کے پاس موجود نہیں۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اکرام چوہدری بھی جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عدالتی پروسیجر میں تبدیلی ہونے کے بعد بھی نواز شریف، جہانگیر ترین اور یوسف رضا گیلانی کو اپنے کیسز میں کیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’نئے قوانین کا اطلاق نواز شریف، جہانگیر ترین اور یوسف رضا گیلانی کے کیسز پر نہیں ہوگا کیونکہ نئے بننے والے قوانین کا اطلاق ماضی کے کیسز پر نہیں ہوتا۔

سینیئر قانون دان سروپ اعجاز کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ ہی جائے گا کیونکہ ’لگتا یہ ہے کہ حکومت کا ارادہ ماضی کے کیسز میں بھی لوگوں کو اپیل کا حق دینے کا ہے۔‘انہوں نے بتایا کہ ’میرے خیال میں ان عدالتی اصلاحات کے معاملے کو بھی کوئی سپریم کورٹ لے جائے گا اور وہاں سے اس کی تشریح کروائی جائے گی کہ کیا اس قانون کے تحت ماضی میں بھی لوگوں کو سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

Back to top button