کیا نواز لیگ صرف پنجاب کی جماعت بنتی جا رہی ہے؟

ملک بھر میں ہونے والے حالیہ کنٹونمنٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی مجموعی نشستیں تحریک انصاف سے کچھ کم تو رہیں، مگر مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کی اندرونی جنگ کا شکار جماعت کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اس نے پنجاب میں واضح طور پر اپنی برتری برقرار رکھی جس کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے نتائج پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ تاہم نواز لیگ کے لئے بری خبر یہ ہے کہ یہ اب صرف پنجاب کی جماعت بنتی جا رہی ہے۔
کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ملک کے اکثریتی صوبے پنجاب میں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) چھائی رہی جبکہ عمران خان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف خاصی پیچھے رہی جس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنا دی ہے جو انہیں پی ٹی آئی کی شکست کی وجوہات سے آگاہ کرے گی۔ تاہم تحریک انصاف کے ناراض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی ناقص پرفارمنس کی بنیادی وجہ وزیراعلی عثمان بزدار ہیں جو پچھلے تین برس سے صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہونے کے باوجود پارٹی کا کوئی تاثر قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق حالیہ کنٹونمنٹ الیکشن میں پنجاب میں تحریک انصاف نے 28؍ نشستیں جیتیں جبکہ 51؍ پر مسلم لیگ (ن) کامیاب رہی۔ ملک کی ہر سیاسی جماعت کے لئے پنجاب نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ قومی اسمبلی کی تقریباً نصف نشستیں اسی صوبے سے ہیں جن کا وفاق میں حکومت تشکیل دینے میں نمایاں کردار ہوتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے مشکل حالات کا سامنا کرنے کے باوجود ن لیگ نے پنجاب پر اپنی گرفت ثابت کردی ہے حالانکہ گلگت اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد پارٹی کارکنان کا مورال ڈاون ہوتا لگتا تھا۔
یاد رہے کہ ن لیگ کی مرکزی لیڈرشپ اور صف دوم کی قیادت اس وقت سخت دباﺅ میں ہے، انہیں نیب مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نواز شریف ملک سے باہر ہیں اور شہباز شریف ان کے مزاحمتی بیانیے کے برعکس مفاہمتی بیانیہ لے کر چلنے پر مصر ہیں۔ لہازا تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے برے حالات میں ن لیگ کی جانب سے حالیہ الیکشن میں اتنی اچھی کارکردگی دکھانا حوصلہ افزا ہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ الیکشن کے نتائج نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان اور ان کے حامی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود ن لیگ کو پنجاب میں توڑ نہیں سکے۔ لندن میں نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنٹونمنٹ الیکشن کے نتائج ان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی جیت ہیں اور وہ اس بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
تاہم ان اچھی خبروں کے علاوہ نواز لیگ کے لیے کچھ بری خبریں بھی ہیں۔ نواز شریف کی جماعت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے گڑھ اور گیریژن ٹاؤن کہلانے والے راولپنڈی میں بہت اچھی کارکردگی دکھا کر بونس پوائنٹ حاصل کیے تاہم اپنے مضبوط ترین گڑھ گوجرانوالہ میں الیکشن نتائج اس کے لیے اچھے نہیں رہے۔ کھاریاں میں نواز لیگ کو بہت ہی بری شکست ہوئی جس کی توقع نہیں تھی۔
کنٹونمنٹ الیکشن کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ کہ مسلم لیگ نواز مجموعی طور پر یہ پنجاب کی جماعت بنتی جا رہی ہے اور اسے اپنا قومی جماعت کا تشخص برقرار رکھنے کے لیے کے پی کے اور سندھ میں محنت کرنا ہوگی۔ دوسری جانب پنجاب کی حد تک پیپلزپارٹی کے لئے کنٹونمنٹ الیکشن مایوس کن ثابت ہوئے ۔ بلاول بھٹو چونکہ اس دوران پنجاب کے دورے کرتے رہے، اس لیے انہیں امید تھی کہ شائد کوئی بات بن جائے گی۔ انہوں نے جنوبی پنجاب میں خاصی محنت کی، مگر نتائج خاطر خواہ نہیں نکلے۔ اس حوالے سے عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کی پرفارمنس سے ثابت ہوا کہ نئے بیانیے کے بغیر گھسی پٹی پرانی اور جذباتی تقریروں سے عوام موم نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نواز لیگ پنجاب کی جماعت بنتی جا رہی ہے تو پیپلزپارٹی صرف سندھ کی جماعت بنتی جا رہی ہے اور اگلے عام انتخابات سے پہلے اسکی قیادت کو قومی سطح پر تاثر جمانے کے لئے بہت محنت کرنا ہوگی۔
عامر خاکوانی کے مطابق جے یوآئی کےلئے یہ الیکشن بہت ہی برا رہا۔ وہ بلوچستان سے بھی ہار گئی اور کے پی کے جنوبی اضلاع بنوں وغیرہ سے بھی۔ یوں لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے ساتھ اپنی جماعت کی کشش بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ ان کے پچیس امیدوار بری طرح شکست کھا گئے اور کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔ ڈی آئی خان سے انکے امیدواروں کی شکست نے ثابت کیا کہ عام انتخابات میں مولانا کا ہارنا بھی حقیقی تھا۔ خاکوانی کے خیال میں مولانا کو اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا چاہیے، وہ قومی سیاست کے چکر میں مقامی سطح پر کارکنوں اور عوام سے دور ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب اے این پی نے اس الیکشن میں محنت کی اور پشاور شہر میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ لیکن آنے والے بلدیاتی انتخابات میں دیکھنا ہوگا کہ اے این پی کہاں کھڑی ہے؟
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں سب سے حیران جماعت اسلامی نے کیا۔ طویل عرصے بعد اس نے کراچی میں اچھا پرفارم کیا۔ جماعت اسلامی نے کراچی سے پانچ نشستیں جیتیں، چکلالہ پنڈی سے دو سیٹیں جیت لیں جبکہ مردان اور نوشہرہ سے بھی ایک ایک لی۔ چکلالہ راولپنڈی میں بھی اچھی کارکردگی دکھانا ایک نیا عنصر رہا۔ کراچی میں جماعت تیسرے نمبر پر رہی اور اس کے ووٹوں کی شرح بہت اچھی ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں ایم کیو ایم، ن لیگ اور مصطفی کمال کی پی ایس پی کے مجموعی ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کے۔ کراچی جماعت کے امیر حافظ نعیم کی جارحانہ عوامی سیاست رنگ لائی ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ جماعت اسلامی بعض نشستوں پر تھوڑے مارجن سے دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہی۔ جماعت کی قیادت کا دعوی ہے کہ اگر کچھ مزید محنت کی جائے تو جماعت اسلامی کراچی میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔
