کیا نواز لیگ نے ساجد میر کو سعودی عرب کے کھاتے میں سینیٹر بنوایا؟


جمعیت اہلِ حدیث کے 82 سالہ سربراہ پروفیسر ساجد میر کے نون لیگ کی ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ سینیٹر بننے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ میر صاحب کے اس نظر کرم کی بنیادی وجہ ساجد میر کے سعودی عرب سے قریبی تعلقات ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پروفیسر ساجد میر کو پانچویں مرتبہ سینیٹر بنوا کر جہاں ن لیگ نے اہل حدیث مسلک کا ووٹ بینک محفوظ کیا ہے وہیں سعودی حکام سے اپنے تعلقات مزید مستحکم کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں سینیٹ کی تمام 11 خالی نشستوں پر بلا مقابلہ منتخب ہونے والے امیدواروں میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر بھی شامل ہیں جنہیں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر پنجاب سے پانچویں مرتبہ سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ سینیٹر بننے کے بعد ساجد میر نے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے فیس بک پیج پرجاری کردہ اپنے ویڈیو بیان میں نواز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا پیپلز پارٹی سے وابستہ رضا ربانی کے علاوہ پاکستان میں کوئی ایسا سیاست دان نہیں جو پانچ مرتبہ سینیٹر منتخب ہوا ہو۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سینیٹ میں بین الاصوبائی تعلقات کو بہتر بنانے سمیت دیگر امور کے حوالے سے ماضی کی طرح اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں گے۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پانچ مرتبہ سینیٹر منتخب ہونے کے باوجود ایوان بالا کی کاروائی میں پروفیسر ساجد میر نے کبھی کوئی متحرک کردار ادا نہیں کیا اور ہمیشہ بیک بینچرز والا رویہ اپنایا ہے۔
واضح رہے کہ بیاسی سالہ ساجد میر مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے سربراہ ہیں جو اہلِ حدیث مسلک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ وہ اس مذہبی جماعت کی قیادت 1992 سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ساجد میر اپنی جماعت کی قیادت سنبھالنے سے قبل کچھ برس نائیجیریا میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے جہاں سے 1985 میں وہ پاکستان واپس آگئے۔ساجد میر اہلِ حدیث مسلک کے مدرسوں کے نمائندہ بورڈ ‘وفاق المدارس سلفیہ’ کے سربراہ بھی ہیں۔
یاد رہے کہ ساجد میر 2016 میں پاکستان میں خبروں کی زینت اس وقت بنے جب انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے لیے زیرِ غور افسران میں سے ایک افسر کا تعلق احمدی کمیونٹی سے ہے اور مطالبہ کیا کہ مذکورہ نام کو آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے زیرِ غور لائے جانے والے ناموں کی فہرست سے نکالا جائے۔ مرکزی جمیعت اہلِ حدیث میں مختلف مسالک اور فرقوں کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد ‘متحدہ مجلس عمل’ کا بھی حصہ ہے۔ البتہ اُن کی جماعت، عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی حمایت کرتی رہتی ہے اور خود اُنہوں نے بھی 2002 میں ایم ایم اے کے ٹکٹ کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پرسینیٹر بننے کو ترجیح دی تھی۔
مسلم لیگ (ن) نے 1994 میں پہلی مرتبہ ساجد میر کو اپنی جماعت کے ٹکٹ پر پنجاب سے سینیٹر منتخب کروایا تھا۔ بعد میں اپسی قربتیں اتنی بڑھیں کہ مسلم لیگ (ن) نے ساجد میر کے ساتھ ساتھ مرکزی جمیعت اہلِ حدیث کے ناظم اعلٰی حافظ عبدالکریم کو بھی 2018 میں پنجاب سے اپنے ٹکٹ پر ٹیکنو کریٹس کی نشست پر سینیٹر بنوایا۔ یوں ساجد میرکے بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے دو مرکزی رہنما سینیٹ میں موجود ہوں گے۔
خیال رہے کہ حافظ عبدالکریم 2013 کے عام انتخابات میں ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رُکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئے تھے جس کے بعد وزیرِ مملکت برائے مواصلات کا قلم دان بھی ان کے پاس رہا۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی کے مطابق پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی امیدواروں کی پارٹی سے وفاداری، پارلیمانی امور سے آگاہی، زندگی کے کسی بھی شعبے، مثلاً قانون، مذہبی امور، وغیرہ میں مہارت کو دیکھ کر سینیٹ کے لیے نامزدگی کرتی ہے۔ان کے بقول ساجد میر کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ہے جو ہمیشہ پارٹی کو درپیش مشکل حالات میں پارٹی قائدین کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور اسی لیے پارٹی انہیں سینیٹر بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ساجد میر ساتھ ہی ساتھ مذہبی امور کے ایک ماہر بھی ہیں۔ دوسری طرف جمعیت اہلِ حدیث ترجمان کے مطابق ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت ہے اور ہر مشکل دور میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے جبکہ ساجد میر یا مرکزی جمعیت اہلِ حدیث نے کبھی بھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو سینیٹ کی نشست کے لیے درخواست نہیں کی بلکہ ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے خود ساجد میر کو اپنے ٹکٹ پر سینیٹر کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان کے بقول مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے تمام انتظامی و سیاسی فیصلے کوئی فردِ واحد نہیں، بلکہ 100 رکنی مرکزی عاملہ کرتی ہے اور نواز شریف کا ساتھ دینے اور مسلم لیگ (ن) کے ساجد میر کے سینیٹر بننے کے فیصلے بھی مرکزی مجلس عاملہ نے ہی کیے ہیں۔
پاکستان میں مسلکی و فرقہ وارانہ گروہوں پر گہری نظر رکھنے والی محقق ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ساجد میر کی بار بار سینیٹر بننے کی ایک اہم وجہ ان کا نواز شریف کے ساتھ ذاتی مراسم کا ہونا ہے۔لیخن انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ساجد میر کو بار بار سینیٹر بنانے کی وجہ اہلِ حدیث مکتبۂ فکر کا ووٹ بینک ہرگز نہیں ہے۔ عائشہ صدیقہ کے بقول ساجد میر کے بار بار سینیٹر بننے کی بنیادی وجہ انکا سعودی کنکشن ہے۔عائشہ صدیقہ کے بقول سعودی عرب سے تعلقات کی بنیاد پر اہلِ حدیث مکتبۂ فکر خصوصاً مرکزی جمعیت اہلحدیث ووٹوں کے عددی اعتبار سے کمزور ہونے کے باوجود ملکی سیاست میں اہمیت کی حامل ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) ساجد میر کو پانچویں مرتبہ سینیٹر بنا رہی ہے۔
یاد رہے کہ سعودی علمائے کرام اور شاہی خاندان کے افراد کے ساجد میر کی جماعت سمیت پاکستان میں اہلِ حدیث مکاتیب فکر سے خصوصی روابط ہیں۔ سعودی عرب کے اہم سیاسی اور مذہبی رہنما دورۂ پاکستان پر ان جماعتوں کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی تقاریب میں شرکت بھی کرتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں خصوصاً پنجاب اور سندھ میں اہلِ حدیث گروہوں خصوصاً مرکزی جمعیت اہلِ حدیث اور جماعت الدعوۃ کا اثرو رسوخ گزشتہ چند سالوں میں کافی برھا ہوا ہے۔ پارلیمانی سیاست پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں یا علمائے کرام کو سینیٹر بنانے کا رحجان کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 1994 میں ساجد میر کو سینیٹ کا رکن بنانے سے یہ رحجان شروع ہوا۔ان کے بقول متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم تلے 2002 کے انتخابات میں کراچی سے مذہبی جماعتوں کو ریکارڈ ووٹ ملنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے کراچی سے مختلف فرقوں اورمسالک کے علمائے کرام کو سینیٹ کے اراکین بنا کر ایڈجسٹ کرنا شروع کیا گیا۔ تاکہ جماعت کو مذہبی ووٹ مل سکے۔
ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کراچی کے مذہبی رہنما عبدالخالق پیرزادہ، جعفریہ الائنس کے رہنما علامہ عباس کمیلی اور عالم دین مولانا تنویرالحق تھانوی سینیٹ کے اراکین منتخب ہو چکے ہیں۔ تحریکِ انصاف کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو 2018 میں خیبر پختونخوا سے ٹیکنو کریٹس کی نشست پر سینیٹ کے لیے نامزد کیا گیا مگر وہ صرف چار ووٹ حاصل کر سکے۔ رواں سال تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کی جانب سے جے یو آئی (س) کے موجودہ سربراہ مولانا حامدالحق کو سینیٹ کی نشست کے لیے نامزد کیا گیا مگر 25 فروری کو پی ٹی آئی کے دیگر خواہش مند امیدواروں کے ہمراہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے کرانتخابات سے دست بردار ہو گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button