نون لیگ سے شین کو الگ کرنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہے

حمزہ شہباز شریف کی 20 مہینوں بعد ضمانت پر رہائی سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ مفاہمت پر یقین رکھنے والے حمزہ اور ان کے والد شہباز شریف کو صرف نواز شریف سے دور کرنے کے لئے جیل میں ڈالا گیا وہیں گذشتہ ڈھائی سال میں یہ حقیقت بھی آشکار ہوگئی کہ ن لیگ سے ش کو الگ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اس نکتے پر متفق ہیں کہ ن سے ش نکالنے والوں کو اب سمجھ جانا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں میں سے نئی سیاسی جماعتیں نکالنے کا عمل بارہا دہرایا گیا مگر کامیاب نہیں ہوا۔ وقتی طور پر کنگز پارٹیاں بھی بنا دی جاتی ہیں اور پی پی پی سے پیٹریاٹ کو بھی جنم دلوا دیا جاتا ہے لیکن ایسے پیدا ہونے والی سیاسی جماعتیں کچھ ہی عرصہ میں ہوا میں تحلیل ہو کر تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ سینئیر صحافی انصار عباسی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور ان کے ہمنواوں کو امید تھی کہ شہباز شریف فیملی کے نواز شریف اور مریم سے سیاسی حکمت عملی کے اختلاف کو ہوا دے کر اور ان پر کرپشن کے مقدمات قائم کرکے ن لیگ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیں گے مگر یہ چال بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔
مسلم لیگ نواز سے مسلم لیگ شہباز تو نہیں نکلی جس کی شیخ رشید صاحب کو بہت امید تھی اور جس کے لئے سر توڑ کوشش بھی گئی لیکن یہ ضرور ہوا ہے کہ حمزہ شہباز کوئی دو سال جیل میں گزارنے کے بعد ضمانت پر رہا ہو گئے۔ شہباز شریف جنہیں نیب نے تیسری مرتبہ جیل بھیجا، جس کی بظاہر وجہ تو کرپشن کے کیس رہے لیکن اصل وجہ وہی ہے جس کی شیخ رشید بارہا گوائی دے چکے۔ انصار عباسی کے بقول اگر مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمہ کے ساتھ ہی ن سے ش نکل جاتی تو شہباز شریف کو کسی مقدمے کا سامنا کرنا پڑتا اور نہ ہی اُن کو بار بار نیب کے ذریعے جیل بھیجا جاتا۔ انکے مطابق 2018 کے الیکشن سے پہلے شہباز شریف کی ایک اہم شخصیت کے ساتھ میٹنگ ہوئی جس میں شہباز کی مفاہمت کی پالیسی کی تعریف کی گئی جس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کا اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے اداروں کے ساتھ اختلاف کی صورت میں روا رکھے جانے والے رویے پر اصولی اختلاف ہے جسے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں بھائی گڈ کاپ، بیڈ کاپ کھیل رہے ہیں۔اس پر شہباز شریف سے کہا گیا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کو چھوڑ دیں جس کے جواب میں اُنہوں نے کہا یہ کام میں نہیں کر سکتا۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد ہی شہباز شریف کو پہلی بار نیب نے ایک مقدمہ میں گرفتار کر لیا اور یہ سلسلہ اُن کی تیسری بار گرفتاری تک جاری رہا۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ شہباز شریف اب بھی جیل میں ہیں لیکن ن سے ش کے نکلنے کا عمرانی خواب ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ جو مقدمات اُن کے خلاف بنائے گئے، اُن کے متعلق جو کچھ لاہور ہائی کورٹ نے اُن کی یا شریک ملزمان کی ضماتیں لیتے ہوئے کہا، اُس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح نیب نے یہ کیس کچھ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے بنائے ورنہ بڑے بڑے الزام لگائے گئے، کبھی کہا گیا کہ لاہور، پنڈی اور ملتان میٹرو میں اربوں کھا گئے، اورنج لائن تو بنائی ہی اربوں کے کمیشن کے لئے گئی، آشیانہ ہائوسنگ اسکیم، صاف پانی اسکیموں میں بھی اربوں کھا گئے لیکن کسی ایک کیس میں بھی نیب کوئی ثبوت نہ لا سکا اور لاہور ہائی کورٹ نے چند ایک کیسوں میں یہاں تک کہہ دیا کہ بادی النظر میں نیب نے وہ کیس بدنیتی میں بنائے۔
انصار عباسی کے بقول نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف اگر کوئی کیس بنتا ہے تو وہ منی لانڈرنگ کا ہے لیکن یہ بنیادی طور پر ٹیکس اور ایف بی آر کا معاملہ ہے جہاں بڑے بڑے کاروباری افراد کی طرح شریف فیملی نے بھی اپنے کاروبار سے پیسہ بہت کمایا لیکن ٹیکس کم دیا جس کے لئے ٹی ٹی، حوالہ اور ہنڈی کے ساتھ ساتھ باہر سے Remittances کے ذرائع استعال کرکے بلیک منی کو وائٹ کیا جاتا ہے۔ تقریباً ہر حکومت نے بلیک منی کو وائٹ کرنے کے لئے قانونی طریقے بھی نکالے اور اب بھی تعمیراتی انڈسٹری کو جو ایمنسٹی دی گئی ہے، اُس کا مقصد بلیک اکانومی کو وائٹ کرنا ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں اب شہباز شریف کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے؟ اس بارے میں تو بعد میں ہی پتا چلے گا لیکن نیب کے دائرہ کار میں وہ منی لانڈرنگ کے کیس آتے ہیں جن میں نیب کے پاس یہ ثبوت موجود ہو کہ منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کیا گیا پیسہ غیر قانونی ذرائع سے کمایا گیا تھا یعنی کمیشن اور کک بیکس کے ذریعے کمایا گیا پیسہ لانڈر کیا گیا۔ ابھی تک نیب کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کر سکی کہ شہباز شریف نے کسی بھی حکومتی ٹھیکے سے کوئی کمیشن یا کک بیکس لئے۔
انصار کہتے ہیں کہ بہرحال حکمرانوں کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ سب ٹیکس دیں لیکن اس کے باوجود اس قسم کی منی لانڈرنگ کا معاملہ ایف بی آر کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں شریف فیملی کو کسی حد تک گھسیٹا جاسکتا ہے لیکن ان کی بنیاد پر ن لیگ سے ش لیگ پیدا کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔
