پی آئی اے جہاز کی ہائی جیکنگ حکومتی سازش تھی یا الذوالفقار کا انتقام؟

2 مارچ 1981 کو جنرل ضیا دور میں پاکستان سے ہائی جیک ہونے والے ایک مسافر بردار طیارے کے بارے میں عام تاثر یہی پایا ہے کہ اسے میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے اپنے والد اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا بدلہ لینے کے لیے ہائی جیک کروایا کیوںکہ بھٹو نے اپنی شہادت سے قبل کہا تھا کہ اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو میرے بیٹے میرا انتقام لیں گے۔ دوسری جانب بے نظیر بھٹو کے نزدیک اس کی تشریح یہ تھی کہ انکے والد کی بیٹوں سے مراد پیپلزپارٹی کے کارکن تھے نہ کہ ان کے حقیقی بیٹے اور انتقام سے مراد ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ اور جمہوریت کی بحالی تھا۔
اسی طعح میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ پاکستانی طیارہ اغوا کرنے والے ہائی جیکرز دراصل ضیا کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ تھے، اور اس واقعے سے پیپلز پارٹی کو فائدے کی بجائے نقصان اور ضیاء الحق کی فوجی جنتا مزید مضبوط ہوئی۔ آج سے 40 سال قبل 1981 میں پیش آئے اس واقعہ سے نہ صرف فوجی آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد کو زبردست نقصان پہنچا بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی خسارہ اٹھانا پڑا۔ اس واقعے نے بھٹو خاندان میں بھی پھوٹ ڈالی اور اسے تقسیم کردیا۔ یہ دو مارچ 1981 کی بات ہے جب دوپہر دو بج کر پندرہ منٹ پر پی آئی اے کا طیارہ پی کے 326 کراچی سے پشاور کےلیے اڑان بھرتا ہے۔ جہاز میں عملے کے پانچ افراد سمیت 48 ملکی و غیر ملکی مسافر سوار ہیں۔ میانوالی کے اوپر پرواز کے دوران تین نوجوان اپنی سیٹوں سے اٹھتے ہیں، اور۔کاک۔پٹ میں گھس کر اسلحہ کے زور پر پائلٹ کو جہاز کا رخ موڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ شام پانچ بجے جہاز کابل کے ہوائی اڈے پر اتار لیا جاتا ہے۔طیارے کی ہائی جیکنگ کی خبر اگلے دن عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں نمایاں تھی۔ اغواکاروں کی شناخت ’الذوالفقار‘ اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ تین نوجوانوں کے طور پر کرائی گئی۔ سلام اللہ ٹیپو، ناصر جمال اور ارشد شیرازی نے مسافروں کی رہائی کے بدلے ملک کی مختلف جیلوں میں قید پیپلزپارٹی کے 54 سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اگلے تین روز تک حکومت پاکستان کے نمائندوں اور ہائی جیکرز میں بےسود مذاکرات ہوتے رہے۔ طیارے کے مسافروں میں کیپٹن طارق رحیم بھی شامل تھے جنہیں اغوا کنندگان نے جنرل رحیم الدین کا بیٹا ہونے کے شبہے میں قتل کر دیا۔اس قتل کے بعد کسی ممکنہ ری ایکشن کے خدشے کے پیش نظر سات مارچ کی صبح جہاز نے مسافروں سمیت شام کے دارالحکومت دمشق کا رخ کیا۔
یاد رہے کہ اس دور میں بھٹو حکومت کے خاتمے اور ان کی ضیا جنتا کے ہاتھوں پھانسی کے بعد احتجاج اور مظاہروں کی پاداش میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد مختلف جیلوں میں قید تھی۔ ان میں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین، سابق اسپیکر معراج خالد، سابق وزیر سید اقبال حیدر، میاں محمود علی قصوری اور سلمان تاثیر بھی شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم اسٹار محمد علی اور حبیب بھی سیاسی قید کاٹ رہے تھے۔
اس ہائی جیکنگ کے بعد عالمی میڈیا میں بھٹو کے بیٹوں مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو کے نام کی گونج پھر سنائی دینے لگی۔
لیکن پیپلز پارٹی کی تب کی قیادت یعنی نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے ہائی جیکرز اور الذولفقار نامی تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا۔ بالآخر 12 مارچ کو حکومت نے جہاز کے مسافروں کی رہائی کے بدلے 54 پاکستانی قیدیوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان 54 سیاسی قیدیوں کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعے 15 مارچ کو پاکستان سے شام بھیج دیا گیا۔
رہائی پانے والوں میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر غلام حسین بھی شامل تھے۔ غلام حسین کا اس وقت کے حالات اور اپنی رہائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاسی قیدیوں کو زبردستی شام بھیجا گیا تھا کیوںکہ ہم لوگ ہائی جیکنگ کے نتیجے میں رہا ہونے کو تیار نہیں تھے۔ ہمیں زبردستی ہتھکڑیاں لگا کر طیارے میں سوار کروا دیا گیا۔ میں نے زبردستی کرنے والے ایک اہلکار کے سر پر ہتھکڑی بھی دے ماری تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ اغوا شدہ طیارے کے مسافروں میں امریکی باشندے بھی شامل تھے، اس لیے ضیا حکومت نے دباؤ میں آ کر ہمیں شام بھجوا دیا۔
سابق طالب علم رہنما آصف بٹ بھی کوٹ لکھپت جیل لاہور سے رہا ہو کر دمشق جانے والوں میں شامل تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’کہیں سولیاں سر راہ تھیں‘ میں طیارے کے اغوا، شام اور کابل کے حالات اور پاکستانی جیلوں میں اپنی قید کی داستان بیان کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ رہائی پانے والے پی پی پی کے رہنما اور کارکنان 25 دن تک دمشق کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں مقیم رہے، جہاں مستقبل کے لائحہ عمل اور جدوجہد کے طریقہ پر اختلافات نے انہیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ الذوالفقار کے ساتھ مل کر ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف عسکری جدوجہد کےلیے رضامند 28 لوگوں نے کابل کا رخ کیا جب کہ باقیوں نے سیاسی پناہ کےلیے یورپ کا انتخاب کیا۔
ڈاکٹر غلام حسین کے مطابق انہیں اور دیگر 12 افراد کو اقوام متحدہ کی چھان بین اور ہدایت کے بعد پاسپورٹ جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ سویڈن منتقل ہوگئے۔ وہاں انہوں نے 1988 تک کا عرصہ سیاسی اور جمہوری جدوجہد میں گزارا۔
یاد رہے کہ کابل جانے والوں میں آصف بٹ، ارشد اعوان، اعظم چوہدری، لالہ اسد پٹھان، پرویز شنواری اور طارق بشیر چیمہ بھی شامل تھے جو آجکل وزٹ لیگ کے وفاقی وزیر ہیں۔
آصف بٹ کے مطابق انہیں شامی پاسپورٹ پر براستہ ہندوستان کابل لے جایا گیا۔ آصف بٹ کی کتاب کے مطابق ضیاء الحق کے طیارے پر ’سام سکس میزائل‘ سے حملے کا ٹاسک آصف بٹ، ارشد اعوان اور اعظم چوہدری کو دیا گیا۔ جسٹس مولوی مشتاق حسین کو نشانہ بنانے کےلیے لالہ اسد پٹھان کا انتخاب ہوا۔ اس مقصد کے لیے آصف بٹ، طارق بشیر چیمہ اور اسد پٹھان خفیہ طریقے سے پاکستان میں داخل ہوئے۔ لیکن بعد ازاں طارق چیمہ نے چوہدری ظہور الٰہی کے ذریعے سرنڈر کرکے خود کو حکومت کے حوالے کر دیا اور وہ آج دن تک گجرات کے چودھریوں کے ساتھ ہیں۔ آصف بٹ کے مطابق انہوں نے ضیاء الحق کے طیارے کو نشانہ بنانے کےلیے ایک مکان بھی کرائے پر لے لیا تھا، مگر بعد میں ان کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری سے یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔
آصف بٹ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے شاہی قلعہ لاہور میں دوران گرفتاری اپنے تمام منصوبوں کا انکشاف کیا تو پہلے انہیں سزائے موت سنائی گئی جو بعد میں عمر قید میں بدل دی گئی۔ لیکن 40 برس قبل پیش آنے والے اس واقعے کے مقازد اور اس کے کرداروں کے بارے میں آج بھی مختلف اور متضاد رائے پائی جاتی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر غلام حسین کا کہنا ہے کہ طیارہ ہائی جیکنگ اصل میں ضیاء الحق حکومت کی سازش تھی، یہ کام سلام اللہ ٹیپو سے لیا گیا۔ اس وقت کی حکومت طیارہ تباہ کرکے پیپلز پارٹی کو بد نام کرنا چاہتی تھی، مگر جہاز میں موجود امریکی باشندوں کی وجہ سے ایسا نہ کرسکی۔‘
میر مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو اپنی کتاب Songs of Blood and Sword میں لکھتی ہیں کہ اس سارے معاملے سے ان کے والد کا کوئی تعلق نہ تھا، یہ ہائی جیکنگ ضیاء الحق نے خود کروائی تھی تاکہ پیپلز پارٹی کو بد نام کیا جا سکے۔
فاطمہ بھٹو کے مطابق ہائی جیکرز خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ تھے، اس واقعے سے نقصان پیپلزپارٹی کا ہوا اور ضیاء الحق کی حکومت مزید مضبوط ہوئی جب کہ سارے معاشرے پر منفی اثرات پڑے۔
فاطمہ بھٹو کی معلومات کا ذریعہ ان کے والد کے دوست سہیل سیٹھی ہیں جنہوں نے انہیں بتایا کہ مرتضیٰ بھٹو کابل جا کر مسافروں کو ہائی جیکر سے چھڑانا چاہتے تھے۔
دوسری جانب آصف بٹ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جیلوں سے رہا ہو کر جب ہم دمشق پہنچے تو میر مرتضیٰ بھٹو اپنی کامیابی پر شاداں و فرحاں نظر آ رہے تھے۔
ایئر مارشل اصغر خان اپنی کتاب میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ہائی جیکنگ کا واقعہ اس وقت ہوا جب ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کا آغاز ہوا تھا۔ حکومت نے اس کا فائدہ اٹھا کر پیپلز پارٹی کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جس کا اثر یہ ہوا کہ آزاد کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم خان اس واقعے کو جواز بنا کر ایم آر ڈی سے علیحدہ ہو گئے تھے۔
لیکن اس واقعے سے منسلک بعض کرداروں کا خاتمہ بہت دردناک طریقے سے ہوا۔ طیارے کے ہائی جیکرز میں سے ایک سلام اللہ ٹیپو کو بعد ازاں افغان حکومت نے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پرویز شنواری آپس کی لڑائی میں قتل ہوئے۔ لالا اسد پٹھان کراچی پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔عبدالرزاق جھرنا، عثمان غنی، ادریس بیگ اور ادریس طوطی مختلف الزامات میں ضیا دور۔میں پھانسی پر چڑھا دیے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سابق مشیر راجہ انور کو خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ ہونے اور ان کے قتل کی سازش کے شبہے میں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے پل چرخی جیل کے اذیت ناک واقعات کا ذکر اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے پر ڈاکٹر غلام حسین وطن لوٹ آئے جب کہ آصف بٹ کو بھی جیل سے رہائی مل گئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو 1996 میں کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں جان کی بازی ہار گئے، جبکہ طیارہ اغوا۔خرنے والے بقیہ دو کردار ناصر جمال اور ارشد شیرازی ابھی تک جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
