کیا نون لیگ سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے پائے گی؟

مسلم لیگ ن نے الیکشن میں سندھ کو فتح کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ جہاں ایک طرف نون لیگ نے جے یو آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد کا دائرہ سندھ میں بھی پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے وہیں دوسری طرف عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے نون لیگ بڑے سیاسی اتحاد کی تشکیل کیلئے سر گرم ہے۔ تاہم  ابھی تک گیندیں ڈیموکریٹک الائنس جی ڈے اے نے تو الیکشن میں نون لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی حامی بھر لی ہے تاہم ایم کیو ایم سے نون لیگ کے تاحال معاملات طے نہیں ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق عام انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر سابق وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ (ن)شہباز شریف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان مثبت پیش رفت نہ ہوسکی .29 دسمبر کو ایم کیو ایم کے مرکز پر مسلم لیگ کے وفد کی ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ا نتخابات سے متعلق مشاورت کی گئی تاہم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ حل نہیں ہوسکا، جس کے بعد دونوں جماعتوں نے کمیٹیوں کو مذاکرات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے،ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ کسی بھی جماعت کوقومی، صوبائی اسمبلی کی سیٹیں کیسے دے سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق ایم کیو ایم نے مزید وقت مانگ لیا جبکہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان ایک اور بیٹھک لگے گی۔ ذرائع کے مطابق آئندہ بیٹھک میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر حتمی فیصلہ ہونے کا امکان ہے۔

 واضح رہے کہ شہباز شریف اور مصطفیٰ کمال نے حلقہ این اے 242 سے کاغذات نامزدگی جمع کروا رکھے ہیں۔ایم کیوایم پاکستان نے این اے 242 کی نشت پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے صاف انکار کردیا جبکہ ن لیگی قیادت کی طرف سے شہباز شریف کو کراچی سے جیتوانے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب لیگی قیادت کو سندھ میں ایک بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ جی ڈی اے نے آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن  کے ساتھ مل کرچلنے پر اتفاق کیا ہے ۔کراچی میں صدر مسلم لیگ ن شہبازشریف اور جی ڈی اے رہنما پیرپگاڑا کے درمیان ملاقات ہوئی ،جس میں دونوں جماعتوں نے انتخابات میں ایک دوسرے کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے ۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات ایک دوسرے کےساتھ مل کر لڑیں گے ، جہاں جس کو ضرورت ہو گی دوسرا اس کو سپورٹ کرے گا۔مسلم لیگ ن اور جی ڈی اے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی اے کے اس الیکشن پر کافی تحفظات ہیں، ہمارا 4جماعتی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا نظام بنے گا، پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی ہر جگہ سے الیکشن لڑرہے ہیں، ہم نے کسی کو الیکشن لڑنےسے منع نہیں کیا سب کا حق ہے۔ جی ڈی اے رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ شہبازشریف کی قیادت میں آئے وفد نے ہماری باتیں سنی غور سےسنیں، 35 سے 30فیصد ووٹ پیپلز پارٹی مافیا کو پڑتا ہے، ہمارا فوکس باقی 65فیصد ووٹ پر ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے 8فروری کو 15سالہ سسٹم کو تباہ کردیں گے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے فوری انتخابی اتحاد سے انکار اور جی ڈی اے اور جے یو آئی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بعد اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا نون لیگ سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟

Back to top button