کیا نیا آرمی چیف بھی عمران خان کا دباؤ لینے پرمجبورہو گا؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کی طرف سے 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان صاف بتا رہا ہے کہ ان کی سیاست کا محور اب بھی اپنی مرضی کے آرمی چیف کی تقرری کے لیے حکومت پر دبائو ڈالنا ہے۔ لیکن عمران اب اس غلط فہمی سے نکل آئیں کہ وہ پاکستان کے سب سے پاپولر لیڈر ہیں اور نیا آرمی چیف لگوانے یا اسے ڈکٹیشن لینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ روزنامہ جنگ کے لئے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر نئے آرمی چیف کی تقرری پر کھڑے ہونے والے تنازع کی سنگینی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے صدر عارف علوی کو وارننگ دے ڈالی ہے کہ اگر آپ نے آرمی چیف کی تعیناتی میں گڑ بڑ کی تو پھر نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ ہم پاکستانیوں کو تو ایک دوسرے کو دھمکیاں اور گالیاں سننے کی عادت پڑ چکی ہے لیکن جب کوئی وزیر خارجہ اپنے ہی ملک کی افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر کو ’’تڑی‘‘ لگاتا ہے تو ساری دنیا کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔

حامد میر کہتے ہیں کہ اس ’’تڑی‘‘ کے کچھ دیر بعد میں نے حکومت کی ایک اہم شخصیت سے پوچھا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے صدر سے ملاقات کی تھی اور یہ تاثر دیا تھا کہ اب سب معاملات ٹھیک ہیں اور صدر کو آرمی چیف کی تقرری کے لئے جو بھی نام بھیجا جائے گا اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہی تھا تو پھر اگلے ہی روز وزیر خارجہ نے صدر کو دھمکیاں کیوں دیں؟ صدر صاحب اپنے آئینی عہدے کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آرمی چیف کی تقرری پر حکومت اور عمران کے مابین اتفاق رائے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے بھی عمران کو مشورہ دیا کہ نیا آرمی چیف مقرر کرنے کی بجائے جنرل قمر باجوہ کو کچھ عرصہ کے لئے توسیع دلوانے کی کوشش کی جائے اور مارچ یا اپریل 2023ء میں نئے انتخابات کے بعد نئی حکومت نئے آرمی چیف کا تقرر کرے۔ بقول حامد میر، مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے بھی پچھلے دنوں لندن اور راولپنڈی کے بہت چکر لگائے اور وہ بھی جنرل باجوہ کو توسیع دلوانے کے لئے سرگرم تھے۔ غور طلب نکتہ یہ تھا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے واضح کیا چکا ہے کہ جنرل باجوہ ان دنوں الوداعی ملاقاتیں کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے اندر سے انہیں توسیع دلانے کی کوشش بھی ہو رہی تھی۔ لہذا وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس دراصل اس کوشش کو مسترد کرنے کا اعلان تھا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے ساتھ ہی عمران خان کا یہ اعلان سامنے آگیا کہ وہ 26 نومبر کو راولپنڈی میں خطاب کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔ عمران کی طرف سے 26 نومبر کی تاریخ کا اعلان صاف بتا رہا ہے کہ ان کی سیاست کا محور بھی اپنی مرضی کے آرمی چیف کی تقرری یا نئے آرمی چیف پر دبائو ڈالنا ہے۔ لیکن عمران اس غلط فہمی سے نکل آئیں کہ وہ پاکستان کے سب سے پاپولر لیڈر ہیں نیا آرمی چیف ان سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہو جائے گا۔ انہوں نے جس اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر پچھلے کچھ ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اس بیانیے کا جنازہ انہوں نے خود نکال دیا ہے۔ پہلے تو فنانشل ٹائمز سے انٹرویو میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کرکے اپنے کئی مداحوں کو مایوس کیا اور پھر 19 نومبر کے خطاب میں کہا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ان کے خلاف سازش نہیں بھی کی تو دو خاندانوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے کیوں نہیں روکا؟

دوسرے الفاظ میں عمران خان کی فوج سے لڑائی کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام کیوں نہیں بنایا؟ جنہیں میر جعفر کہا، جن پر غداری کا الزام لگایا اور لفظ نیوٹرل کو گالی بنایا اب ان سے دوبارہ محبت کی پینگیں ڈالنے کی کوشش عمران کی سیاسی کج فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

حامد میر سوال کرتے ہیں کہ اگر عمران اتنے ہی پاپولر تھے تو قبل ازوقت انتخابات کیوں نہ کرا سکے؟ نہ فوری الیکشن کرا سکے، نہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوا سکے، نہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ لے سکے اور نہ اپنے پر قاتلانہ حملے میں مرضی کی ایف آئی آر درج کراسکے۔ آخر میں توشہ خانہ اسکینڈل کے گرداب سے نکلنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ حکومت کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ حکومت بھی اپنے تمام مسائل کا حل نئے آرمی چیف کی تقرری میں دیکھ رہی ہے حالانکہ آرمی چیف کے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ نہیں ہے جس کے ذریعے وہ حکومت کی مشکلات کا حل نکالیں گے۔

آرمی چیف کی ترجیح ریاست کا مفاد ہونا چاہئے حکومت کا مفاد نہیں۔ ریاست کا مفاد آئین کی بالادستی میں ہے۔ نیا آرمی چیف اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کر دے کہ وہ پاکستان کے آئین کے تابع ہے اور آئین سے زیادہ طاقتور نہیں تو پاکستان کے آدھے مسائل حل ہو جائیں گے۔

Back to top button