کیا پابندی سے تحریک لبیک قابو میں آ جائے گی؟

کپتان حکومت کی جانے سے تحریک لبیک پر پابندی لگانے کے فیصلے پر ماہرین نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کئی شدت پسند مذہبی تنظیموں پر پابندی عائد گئی لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے کیونکہ کسی تنظیم پر پابندی عائد کرنے سے کئی گنا ذیادہ موئثر حربہ اس تنظیم کی سربراہی کرنے والوں پر پابندی لگانا ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی تنظیم پر پابندی لگائے جانے کے باوجود وہ کسی اور نام سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دیتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحریک لبیک کی مین سپریم قیادت پر پابندی عائد کی جائے۔
یاد رہے کہ مذہبی جماعت تحریک لبیک کی جانب سے ملک گیر پر تشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد وزارت داخلہ نے 14 اپریل کو اس تنظیم پر انسداد دہشت گردی قانون 1997 کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی سفارش پر کیا گیا اور اس پر عملدرآمد کے لیے سمری کابینہ کو منصوری کے لیے بھیج دی گئی ہے جس کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے دی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر انسدادہشگردی کے قانون 1997 کی شق نمبر 11 B کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں 78 تنظیمیں اور ہیں جن پر اس قانون کے تحت پابندی عائد ہے۔
اس قانون کے تحت جب کسی جماعت یا تنظیم پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اسے فرسٹ شیڈیول کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے اور فہرست میں شامل تنظیم کے تمام سیاسی دفاتر سیل کر دیے جاتے ہیں اور ان میں موجود تمام آفس ریکارڈ اور مواد بھی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے تمام مالی اثاثے بھی منجمد کر دیے جاتے ہیں اور تنظیم کو الیکشن یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی، نہ ہی یہ تنظیم کسی فلاحی یا مذہبی مقاصد کے لیے مالی امداد اکھٹا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا یا کوئی بھی فرد جو کالعدم تنظیم کے پیغام کو پھیلانے میں مدد فراہم کرے گا اس کے خلاف بھی کاروئی کی جا سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق تحریک لبیک پابندی لگنے کے 30 دن کے اندر اس فیصلے کے خلاف وزارت داخلہ میں اپیل دائر کر سکتی ہے۔اپیل کا وزارت داخلہ کی ایک کمیٹی جائزہ لے گی اور اگر اس نے بھی اپیل مسترد کر دی تو اس فیصلے کے 30 دن کے اندر تحریک لبیک ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ماضی میں بھی متعدد سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ انسداد دہشتگری کے ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسن غنی کے خیال میں تحریک لبیک کے خلاف یہ پابندی شاید زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے۔ خرم اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت کو تنظیم کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روکنے میں متعدد چیلینجز کا سامنا ہوگا۔ سب سے پہلی دشواری تو یہ ہے کہ ماضی کی طرح بہت زیادہ امکانات ہیں کہ یہ تنظیم کسی دوسرے نام سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں قوانین میں ایسی تبدیلیاں لائی گئی ہیں جو تنظیموں کے نام بدل کر کام کرنے سے روکنے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ جماعت الدعوۃ ،لشکرِ طیبہ یا دیگر کلعدم تنظیموں کی طرح اس تنظیم کے باقاعدہ فلاحی اور امدادی ادارے موجود نہیں جس کی وجہ سے حکومت کے لیے تنظیم کے مالی اثاثوں کا پتہ چلانا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ مالی طور پر تحریک لبیک کا زیادہ تر انحصار ایسے مخیر خضرات کے چندے پر ہے جو آج تک سامنے نہیں آئے اور جس کا شاید ریکارڈ موجود نہ ہو ۔ ان لوگوں کی نشاندہی کرنا اور ان کی امداد کو تنظیم تک پہنچنے سے روکنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلینچ ہوگا۔
اسی طرح تحریک لبیک پاکستان سے جڑے مدارس کی نشاندہی بھی حکومت کے لیے ایک مسئلہ ہوگی کیونکہ جب بھی تحریک لبیک کی جانب سے مظاہرے کیے گئے ان میں بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے مدارس کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لیکن اب یہ جاننا کہ در اصل کتنے اور کون سے ایسے مدارس ہیں جو اس تنظیم کے ساتھ منسلک ہیں اور پھر ان کے خلاف کارروائی کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ نظیم سوشل میڈیا پر بھی بہت سرگرم اور متحرک ہے اور اپنے نظریات کو اس کے ذریعے عام کرنے میں کوشاں ہے لہذا سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کو کنٹرول کرنا اور نفرت آمیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلینچ ہوگا۔
اسلام آباد نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں انسداد دہشتگری کے پروفیسر ڈاکٹر خرم اقبال کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس طرح کی تنظیموں کو کالعدم قرار دینا اور ان پر پابندی عائد کرنا انکی سرگرمیاں روکنے میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوا کیونکہ یہ تنظیمیں پابندی عائد ہونے کے بعد کسی نئے نام سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دیتی ہیں۔ انکے مطابق تنظیم پر پابندی عائد کرنے سے کئی زیادہ موثر اقدام شخصیات پر پابندی عائد کرنا ہے کیونکہ پاکستان میں اس وقت کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو تنظیم کے افراد کو الیکشن لڑنے سے روکے لہذا اس پابندی کے بعد تحریک لبیک بطور سیاسی جماعت تو شاید الیکشن میں حصہ نہ لے سکے لیکن اس تنظیم کے افراد آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ انکا کہنا افراد اور تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا ایک جامع نظام موجود ہے لیکن اکثر ہی حکومت بغیر تیاری کے اور اجلت میں شخصیات اور تنظیموں پر پابندی عائد کرتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ماضی میں یہی حکومت 2018 میں بھی صرف ایک معاہدے کے نتیجے میں تحریک لبیک کے لوگوں کے نام فورتھ شیڈیول سے نکالنے پر آمادہ ہوگئی۔ اس طرح لگائی اور ہٹائی جانے والی پابندیاں کبھی موثر ثابت نہیں ہوتیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی پر عملدرآمد کا دارومدار اس بات پر منحصر کہ حکومت اس تنظیم کی سرگرمیاں روکنے میں کتنی سنجیدہ ہے کیونکہ حکومت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں تحریک لبیک کو سپورٹ کرنے والے افراد آج بھی موجود ہیں۔ اگر حکومت ان کی سرگرمیاں کو روکنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ تشدد پر اکسانے اور تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرے اور ان کے خلاف مقدمے درج کر کے انھیں سخت سزائیں دلوائی جائیں۔ ورنہ ماضی کی طرح یہ پابندی بھی تنظیم کی سرگرمیوں کو روکنے میں کوئی خاطر خواہ بدلاؤ نہیں لائے گی۔
