کیا پاکستانی ہاتھی زندہ کمبوڈیا پہنچ پائے گا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر دارالحکومت کے مرغزار چڑیا گھر میں 35 سالوں سے نامساعد حالات میں زندگی گزارنے والے ہاتھی کو اب کمبوڈیا میں قائم جانوروں کی پناہ گاہ میں منتقل کرنے کے لیے سفر کے قابل قرار تو دے دیا گیا ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ‘کاون’ نامی ہاتھی کو کمبوڈیا منتقل کرنے کا عمل محفوظ ہے اور کیا وہ اپنی منزل پر زندہ بچ پائے گا؟ یاد رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد کے چڑیا گھر سے منتقلی کے عمل کے دوران دو شیر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
1985 میں سری لنکن حکومت نے ضیا الحق کے دورہ سری لنکا کے دوران جذبہ خیرسگالی اور دونوں ممالک کے بہترین تعلقات کی علامت کے طور پر ہاتھی کا بچہ ‘کاون’ بطور تحفہ دیا تھا۔ تاہم گزشتہ 35 برسوں میں نامساعد حالات میں تنہا رہنے والے ہاتھی ’کاون‘ کو جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی جانب سے ’دنیا کا سب سے تنہا ہاتھی‘ قرار دیا گیا ہے اور اسے بہتر جگہ منتقل کرنے کے لیے امریکی گلوکارہ چیر سمیت مہم چلانے والے چار سالوں سے لابنگ کر رہے ہیں۔ جانوروں کی فلاح کے لیے مہم چلانے والے گروپ ’فور پاز‘ کے ترجمان مارٹن بیوئر نے کہا ہے کہ کاون کو حکومت کی جانب سے کمبوڈیا منتقل کرنے کی اجازت ملنے کے بعد بالآخر سفر کرنے کے لیے طبی طور پر موزوں قرار دے دیا گیا ہے اور زیادہ امکان ہے کہ اسے کمبوڈیا میں جانوروں کی پناہ گاہ منتقل کیا جائے گا جہاں اسے دوسرے ہاتھیوں کی صحبت اور بہتر حالات میسر ہوں گے۔
مارٹن نے بتایا کہ ’فور پاز‘ سے وابستہ جنگلی حیات کے ماہرین نے مقامی حکام کی دعوت پر ہاتھی کا طبی معائنہ کیا۔ کاون کا 4 ستمبر کو چڑیا گھر میں مکمل طبی معائنہ ہوا جہاں اس میں غذائیت کی کمی کی نشاندہی کی گئی۔ ڈاکٹرز کے مطابق غذائیت کی کمی اور جسمانی سرگرمی نہ ہونے کی وجہ سے کاون میں موٹاپے کی علامتیں ظاہر تھیں۔ اس کے علاوہ اس کے ناخن پھٹے ہوئے اور خراب ہوچکے ہیں جو اس کے پنجرے کے نامناسب فرش اور عمارت کی ساخت کے باعث ہوئے ہیں۔مارٹن نے مزید کہا کہ ’طبی معائنے کے بعد تصدیق ہو گئی ہے کہ کاون سفر کرنے کے قابل ہے، جسے اب ممکنہ طور پر کمبوڈیا میں جانوروں کی پناہ گاہ میں منتقل کرنے کے عمل کو حتمی شکل دینے کے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘ تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہاتھی کا نیا سفر کب شروع ہو سکے گا اور یہ کتنا محفوظ ہو گا؟
خیال رہے کہ مرغزار چڑیا گھر کو رواں سال اسلام آباد ہائیکورٹ نے نظام میں غفلت اور ناقص حالات کی بنا پر بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ چڑیا گھر کو بند کرنے کے عدالتی فیصلے سے پہلے بھی مرغزار میں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ اسے سخت تنقید کا سامنا تھا۔ یاد ریے کہ حالیہ برسوں میں یہاں سے 500 سے زیادہ جانوروں کے لاپتہ ہوئے جبکہ 2016 سے اس چڑیا گھر میں دو درجن سے زیادہ جانور ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ کاون کو منتقل کرنے کے لیے مہم چار سال سے چلائی جا رہی ہے اور مشہور شخصیات، خاص طور پر چیر کی طرف اسے اجاگر کرنے سے اس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ کاون کو 1985 میں سری لنکا کی حکومت نے بطور تحفہ پاکستان کو دیا تھا۔ یہ نر ہاتھی ہمیشہ سے اتنا تنہا نہیں تھا اور کئی سالوں تک اپنی مادہ ساتھی ’سہیلی‘ کے ساتھ اس چھوٹی سی چاردیواری میں رہا تھا، تاہم پھر ’سہیلی‘ کی 2012 میں موت واقع ہوگئی تھی۔ معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مرغزار چڑیا گھر میں تنہائی اور نامناسب حالات میں رہنے والا کاون جذباتی مسائل کے ساتھ ساتھ جسمانی نقصان کا بھی شکار ہوا۔ ڈاکٹرز نے قرار دیا تھا کہ جسمانی اور طرز عمل کی تقویت سے محرومی کے ساتھ ساتھ کسی ساتھی کی عدم موجودگی کے نتیجے میں کاون ناقابل یقین حد تک بور ہو گیا ہے۔
کاون کی منتقلی کی تحریک 2015 میں اس وقت شروع ہوئی جب اسلام آباد کے پر فضا مرغزار چڑیا گھر سے کاون کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں وہ کبھی کسی دیوار سے سر ٹکریں مارتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی زنجیروں میں جکڑا کھڑا ہوتا ہے۔یہ تصاویر اور ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو جانوروں سے محبت کرنے والوں کو بے قرار کر گئیں اور وہ اس بے زبان کی رہائی کے لیے بے چین ہو گئے۔کچھ طلبا و طالبات نے دنیا بھر کی توجہ کاون کی حالت زار پر مرکوز کرنے کے لیے باقاعدہ ایک مہم شروع کی اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔انھوں نے فیس بک پر ’فری کاون دی ایلیفنٹ‘ پیج بنایا جس پر دس ہزار سے زائد فیس بک صارفین کاون کی سپورٹ اور تازہ صورت حال سے باخبر رہنے کے لیے موجود ہیں۔عالمی سطح پر اس مہم میں تیزی اس وقت آئی جب امریکی پاپ گلوکارہ شیر اس مہم میں شامل ہوئیں اور باقاعدگی سے ٹویٹ کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ کاون کی رہائی کے حوالے سے ’دی آئی آف دی سٹارم، فری کاون‘، ’ایلیفنٹ فریڈم فائٹر‘ سمیت کئی پیج سرگرم ہیں جن پر ہزاروں لوگ روزانہ تبصرہ کرتے ہیں اور کاون کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان نوجوانوں نے کاون کی رہائی کے حوالے سے دنیا بھر کے ہم خیال لوگوں کو اکھٹا کرنے اور متعلقہ اداروں پر دباﺅ بڑھانے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کی تھی۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر تمام طبقہ فکر کے افراد اس مہم میں شامل ہو گئے۔ یونیورسٹی، کالجز کے طلبہ و طالبات کے ساتھ سکولوں کے ننھے منے بچوں نے بھی بینر پکڑ کر اپنے ’پسندیدہ ہاتھی‘ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ عالمی سطح پر اس مہم میں تیزی اس وقت آئی جب امریکی پاپ گلوکارہ شیر اس مہم میں شامل ہوئیں اور باقاعدگی سے ٹویٹ کرتی رہیں۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ایک پٹیشن پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کاون کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
تاہم دوسری طرف تحفظ حیوانات کے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان سے وابستہ عظمیٰ خان کے مطابق کاون کی رہائی بلاشبہ اچھا فیصلہ ہے اور پاکستان کی جانب سے دنیا بھر کے جانوروں سے محبت کرنے والوں کو اس سے ایک اچھا پیغام ملا۔ مگر اس حوالے سے خطرات بہت زیادہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’اسے یقیناً کسی پنجرے میں ہی رکھ کر لے جایا جائے گا جس کے لیے باقاعدہ کاون کو ٹریننگ دینی ہو گی جس کے لیے خاصا وقت درکار ہے۔ خیال رہے کہ کاون کی روانگی کے لیے عدالت نے 30 ستمبر تک کا وقت دیا گیا ہے تاہم عظمیٰ سمیت دیگر ماہرین کے نزدیک یہ وقت بہت کم ہے کیونکہ جس پنجرے میں کاون کو لے جایا جائے گا اس پنجرے سے اسے مانوس اور عادی ہونے میں وقت لگے گا۔ماہرین کے مطابق اس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کاون کو ٹریننگ دینی ہو گی۔ پنجرے میں رہنے کا وقت بتدریج بڑھایا جائے گا تاکہ اچانک اقدام سے جانور ذہنی تناﺅ میں نہ آ جائے۔ عظمیٰ بتاتی ہیں کہ ’عمر رسیدہ ہونے کے باعث کاون کو بے ہوش بھی نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اس منتقلی میں خاصے خطرات ہوں گے اور اگر یہ تجربہ ناکام ہو جاتا ہے تو اس کا کون ذمے دار ہو گا؟‘
یاد رہے کہ کاون ایشیائی ہاتھی ایلیفس میکسیمس نامی نسل سے ہے جسے ایشیاٹک ایلی فینٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے قدرتی مسکن ایشیا کے کئی ممالک میں ہیں لیکن تاریخی طور پر اس کے پاکستان میں پائے جانے کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملتے۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزویشن آف نیچر آئی یو سی این نامی ادارے نے اپنی مرتب کردہ خطرے سے دوچار جان داروں کی فہرست ’ریڈ لسٹ‘ میں اس نسل کو معدومیت سے دوچار قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق ایشیائی ہاتھیوں کی اوسط عمر اسیری میں 45 سے 50 سال کے درمیان ہے جبکہ جنگل میں یہ 60 سال زندہ رہ سکتے ہیں۔عظمیٰ کہتی ہیں کہ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کاون نے اپنی زندگی کا ایک بڑاحصہ گزار دیا ہے اس لیے یہ بھی امکان ہے کہ وہ نئی زندگی اور نئے ماحول میں خود کو نہ ڈھال سکے لہٰذا بہتر ہے کہ اس کے لیے یہیں بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔
