کیا پاکستان غیرملکی سیاحوں کے لیے محفوظ ہے یا نہیں؟

سیاحت کے فروغ کے امریکی جریدے کی جانب سے پاکستان کو سال 2020 میں سیاحت کے حوالے سے نمبر ون مقام قرار دیے جانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سیاحوں کےلیے ایک محفوظ ملک بن چکا ہے یا نہیں؟
پاکستان میں ریگستان، سرسبز و شاداب علاقے، میدان، پہاڑ، جنگلات، خوبصورت جھیلیں سب ہی کچھ ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران لاکھوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی شہری سیاحت کےلیے پاکستان ایک آرہے ہیں۔ لیکن ان غیر ملکی سیاحوں کو پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ اپنی سکیورٹی کا ہے۔ اب جبکہ پاکستان کو سیاحت کے لیے نمبر ون ملک قرار دیا جا رہا ہے تو حکومت پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان سیاحوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا ہے۔
گزشتہ دہائیوں میں ملک ميں عدم استحکام و دہشت گردی کی وجہ سے سياحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی، تاہم پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے حالیہ کچھ عرصے سے مثبت خبریں سامنے آرہی ہیں اور امید ہے پاکستان اپنی شناخت دوبارہ بحال کرلےگا۔ پاکستان میں 2019 میں ای ویزا اسکیم کے تحت 175 ممالک کےلیے ای ویزا کی سہولت دی گئی۔ اس کے علاوہ سیاحوں کےلیے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقے بھی کھولے گئے۔ پاکستان میں سیاحت کی صنعت کو سکیورٹی، رہائش، کھانے پینے، صفائی، معلومات کی عدم فراہمی اور ایمرجنسی سہولیات نہ ہونے کے مسائل در پیش ہیں جنہیں حکومتی کوششوں کے باوجود اب تک مکمل طور پر حل نہیں کیا جا سکا لیکن سب سے بڑا مسئلہ اب بھی سیاحوں کی سکیورٹی کا ہے۔ اگر ایک غیر ملکی شخص اسلام آباد سے گلگت جاتا ہے تو درجنوں مقامات پر اس کی چیکنگ کی جاتی ہے جس سے وہ گھبرا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہوٹلوں میں رہائش، صفائی اور کھانے پینے کے مسائل ہوتے ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر پوائنٹ پر سیاحوں کےلیے معلومات، جیسے نقشوں کی فراہمی کے مراکز نہیں ہیں۔ ملکی و غیر ملکی لوگوں کے لیے اہم مقامات پر ایمرجنسی کی سہولیات بھی دستیاب نہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ ایمبولنس یا ادویات حاصل کر سکیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے سیاحوں کو شمالی علاقوں میں جانے کی اجازت میں نرمی کی پالیسی اپنانے کے احکامات ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر توجہ نہیں دیں گے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بعض اوقات آدھی رات کو غیر ملکوں سیاحوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ اس ہوٹل سے نکلیں اور کسی دوسرے ہوٹل میں جا کر رہیں لہذا اس غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحت کو بحال کیا جاسکے جس کا واحد طریقہ سیاحوں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔
اسکے علاوہ پاکستان میں نئے اور دولتمند سیاحوں کی آمد کےلیے رہائش کی بہتر سہولیات درکار ہوں گی کیونکہ اکثر سیاح ایسے ہیں جنھیں پاکستان میں فراہم کرفہ سہولیات کے بارے میں کچھ حد تک اندازہ ہے۔ شمالی علاقہ جات میں کوئی صحیح معنوں میں فائیو سٹار ہوٹل نہیں ہے۔ انھیں اچھے ہوٹلوں میں کمرے نہیں ملتے۔ ان علاقوں میں زیادہ تر سڑکیں خراب، کچی یا زیرِ تعمیر ہیں۔
ماہرین کے نزدیک سیاسی و سکیورٹی صورت حال بھی اس حوالے سے اہم ہے کیونکہ بعض اوقات سیاح شہروں میں احتجاج یا دھرنے کی وجہ سے ڈر جاتے ہیں اور پاکستان آنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض سیاح پولیس اور خفیہ ایجنسیوں سے بھی نالاں نظر آتے ہیں۔ کئی سیاحوں نے سکیورٹی اداروں کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی بھی شکایت کی تھی۔
مثال کے طور ہر ایک خاتون سیاح نے کہا کہ انہیں ان کی حفاظت کے لیے ایک پولیس کانسٹیبل دیا گیا تھا۔ تاہم افسوس کی بات یہ کہ ان کی سیکورٹی پر تعینات کانسٹیبل نے ہی ان کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ اسکے علاوہ پاکستان میں ہوٹلوں کے کرائے بھی بہت زیادہ ہیں۔ غیر ملکی سیاح بجٹ بنا کر سفر کرتے ہیں۔ یہ ایک مخصوص بجٹ میں رہتے ہوئے اپنا ٹرپ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ سیاحت میں سب سے بڑا خرچہ رہائش کا ہوتا ہے۔ جو سیاح رہائش پر کم سے کم خرچنا چاہتے ہیں، ان کے لیے پاکستان میں یہی سب سے بڑا خرچہ بن جاتا ہے۔
مشہور سیاحتی مقامات جیسے کہ مری، ناران، کاغان میں لاہور اور کراچی سے آئے لوگوں سے بھی منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ ایسی جگہوں پر غیر ملکیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے۔ ان مقامات پر کسی بھی عام درجے کے ہوٹل کا کرایہ فی رات سات ہزار سے 20 ہزار پاکستانی روپے تک ہو سکتا ہے جو سیاحوں کے بجٹ کو ہلانے کےلیے کافی ہے۔ پاکستان ثقافتی لحاظ سے بھی سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے ہاں ہماری نسبت ’کھلا ماحول‘ ہے۔ یہ لوگ گھر کے باہر بھی بیوی کو اتنا ہی اپنا سمجھتے ہیں جتنا گھر کے اندر۔ ان کے ہاں چلتے ہوئے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنا، گلے لگانا یا گالوں اور ہونٹوں پر بوسہ دینا معمولی سی باتیں ہیں۔ ان کے محبت کے یہ انداز ہمارے لوگوں کو عجیب لگ سکتے ہیں۔ لہذا اس حوالے سے بھی عام افراد میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت پاکستان اگر سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو اسے ہر سیاح کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہو گا۔ پاکستان آنے والا ہر سیاح ہمارا سفارت کار ہے۔ اگر یہاں اسے اچھے حالات ملیں گے تو وہ اپنے وطن واپس جا کر اپنے دوستوں کو بھی یہاں آنے کی ترغیب دے گا۔ اگر اس کا تجربہ اچھا نہ رہا تو شاید وہ خود بھی کبھی واپس نہ آئے اور ہم یقیناً ایسا نہیں چاہتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button