کیا پاکستان میں چینی اب بندوقیں اٹھا کر پھر رہے ہیں؟


بھارتی الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر چند تصاویر ڈال چلا کر یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں حال ہی میں چینی انجینئرز پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد اب چینی باشندے پاکستان میں اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے کھلے عام اسلحہ لے کر پھر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں پاکستان میں داسو ڈیم کے قریب ایک چینی انجینئیرز کی بس پر خودکش کار بم حملے میں 10 انجینیئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی خبر کے پس منظر میں پاکستان کی سکیورٹی صورتحال کی کوریج کرتے ہوئے انڈین اخبار ’انڈیا ٹوڈے‘ نے ایک خبر شائع کی جس کی سرخی کچھ یوں لگائی گئی ’بس حملے کے بعد پاکستان میں چینی ورکرز کو کلاشنکوف اٹھائے دیکھا گیا ہے۔‘ انڈیا ٹوڈے نے اس خبر میں لکھا کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایسی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں جن میں چینی ورکرز پاکستان میں کام کے دوران اے کے 47 لیے گھوم رہے ہیں۔‘
تاہم پاکستانی حکام نے بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں چینی ملازمین اکثر زیر تعمیر سی پیک کے منصوبوں پر کام کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص لباس یا حفاظتی سامان جیسے ہیلمٹ کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کا بھاری بھر کم کلاشنکوف پکڑ کر کنسٹرکشن سائٹ پر کام کرنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ مگر انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ اور بعض سوشل میڈیا صارفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ’چینی انجینیئرز اور ملازمین کی جانب سے اے کے 47 رائفل اپنے کندھوں پر اٹھا کر پھرنے کی تصاویر دونوں ملکوں چین اور پاکستان میں بڑھتے عدم اعتماد کے حوالے سے کئی سوال اٹھا رہی ہیں۔‘
تاہم پاکستانی حکام نے ان تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ یہ کئی سال پُرانی ہیں اور انھیں حالیہ واقعے کے پس منظر میں غلط انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔انڈیا ٹوڈے اور ریپبلک ٹی وی کی خبروں میں کہا گیا کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی باشندوں کا اپنی حفاظت کے لئے خود اسلحہ اٹھانا پاکستانی سکیورٹی حکام کی ناکامی اور ان کی صلاحیت پر سوال ہے کہ وہ چینی شہریوں اور املاک کی حفاظت میں ناکام رہے ہیں۔
ایک انڈین صارف، جن کی ٹوئٹر پروفائل پر بلو ٹِک بھی ہے، نے لکھا کہ ’چین نے اپنے شہریوں کو حکم دیا ہے کہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران کلاشنکوف اپنے پاس رکھیں حالانکہ چین پاکستان کے جنگجو جرنیلوں کو اتنے پیسے دیتا ہے۔‘ اگر سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹس اور انڈین مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کا جائزہ کیا جائے تو انھوں نے دو مخصوص تصاویر شائع کی ہیں۔ ان دونوں میں بظاہر چینی دکھنے والے شہری کندھوں پر کلاشنکوف لیے کھڑے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی زیر تعمیر منصوبے کے پاس کھڑے ہیں۔ لیکن پاکستانی حکام کے مطابق دونوں تصاویر میں ان افراد نے سائٹ پر تعمیراتی کمپنی کے کسی ملازم کا مخصوص لباس نہیں پہنا ہوا اور نہ ہی ان کے سروں پر حفاظتی ہیلمٹ ہے۔ ایک تصویر میں تو چینی شہری نے نیکر پہنی ہوئی ہے۔ مگر چونکہ یہ دونوں لوگ سروے اور ماپنے کے لیے استعمال ہونے والے آلے کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس لیے یہ لگتا ہے جیسے وہ سروے کے کام پر مامور انجینیئر ہیں۔
جب پاکستانی حکام نے ان تصاویر کو ریورس امیج میں چیک کیا تو معلوم ہوا کہ پہلی اے کے 47 اٹھائے اور شارٹس پہنے لڑکے کی تصویر دراصل ایک چینی بلاگ سے لے گئی ہے جو وہاں پانچ مئی 2020 کو شائع ہوئی تھی۔ جبکہ داسو ڈیم واقعہ جولائی 2021 میں ہوا ہے۔اس بلاگ میں کئی چینی ملازمین ملک کے باہر جانے سے پہلے اور بعد کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ یہ تصویر کس ملک کی ہے مگر اس بلاگ میں لکھا ہے کہ افریقہ جانے کے بعد تیز دھوپ سے ان اوورسیز چینی شہریوں کے ’رنگ سانولے ہو گئے ہیں۔‘
اس بلاگ میں اسی شخص کی مزید تصاویر بھی دیکھی جا سکتی ہیں جن میں انھوں نے وہی عینک اور شارٹس پہنی ہوئی ہیں۔ اس تحریر میں لکھا ہے کہ وہ ملک سے باہر جانے کے بعد پراجیکٹ سائٹ ٹیکنیشن سے پراجیکٹ لیڈر بن گئے ہیں۔
دوسری تصویر میں جیکٹ پہنے بظاہر ایک چینی شہری، جس کے پس منظر میں کسی پہاڑ کی چٹان ہے، ماپنے کا آلہ پکڑ کر تعمیراتی کام کا سروے کر رہا ہے اور اس نے کندھے پر بندوق لٹکائی ہوئی ہے۔ اس تصویر کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے گذشتہ سال اگست میں ایک چینی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ایسی تحریر شائع کیا گیا جس کا عنوان ‘انجینیئرنگ سروے کی مزاحیہ تصاویر’ ہے۔
مگر اس سے بھی پہلے سنہ 2018 میں اسے چینی سوال جواب کی ویب سائٹ جیہو پر شائع کیا گیا تھا۔ اس میں ین گونگ نامی اس شخص کا انٹرویو بھی موجود ہے جنھوں نے تصویر میں کلاشنکوف اٹھائی ہوئی ہے۔ اس میں وہ ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’بندوق کے ساتھ میں نے یہ تصویر اس وقت بنوائی تھی جب میں سنہ 2006 میں پاکستان میں تعمیراتی سروے کر رہا تھا۔‘ ’پہلے میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا مگر یہ پاکستان میں میری اچھی یادوں میں شامل ہے۔ پاکستان میں ہائے وے کی تعمیر میں سروے کا کام بہت اہم ہے۔‘
اس انٹرویو میں بتایا گیا کہ ان کی یہ تصویر سروے اور نقشہ سازی کے حلقوں میں کافی مقبول ہوئی تھی۔ جب ین گونگ سے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل اپنے تجربے اور اس بندوق کے پس منظر کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چین کے مقابلے پاکستان میں زیادہ انتہا پسندی ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستانی لوگ چینی شہریوں سے بہت اچھے سے پیش آتے ہیں۔‘ اس طرح ین گونگ کی تصویر کا بھی رواں ماہ داسو ڈیم کے قریب ہونے والے دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انڈین ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ رواں ماہ دھماکے کے بعد چینی حکومت نے سی پیک منصوبوں پر سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان سے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے 19 جولائی کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ اسے پاکستان میں چینی مسافروں کی بس میں دھماکے پر تشویش ہے اور ’چین کا کراس ڈیپارٹمنٹل جوائنٹ ورکنگ گروپ پاکستان کے ساتھ مل کر اس کی تحقیقات کر رہا ہے۔‘
ترجمان کے مطابق ‘ہمارے خیال سے یہ واحد واقعہ تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان اپنے ملک میں چینی شہریوں اور املاک کی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘
چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس میں واضح کیا تھا کہ داسو ڈیم کا منصوبہ سی پیک کا حصہ نہیں ہے مگر یہ چین اور پاکستان کے باہمی تعاون کا الگ منصوبہ ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ’سکیورٹی کے لیے مناسب اقدامات کے بعد اس پراجیکٹ پر کام بحال ہو جائے گا۔‘

Back to top button