کیا پاکستان کی مینگو ڈپلومیسی ناکام ہو گئی؟


بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس برس پاکستان کی مینگو ڈپلومیسی بری طرح ناکام ہوئی ہے اور امریکہ اور چین سمیت دنیا کے 32 ممالک کے سربراہان مملکت کو بطور تحفہ بھیجے گے پاکستانی آم وصول کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے مینگو ریلیشنز کے تحت 32 سے زیادہ ممالک کے سربراہان کو اعلیٰ ترین نسلوں کے مختلف آموں کے باکس  بھجوائے گے تھے لیکن امریکہ، کینیدا، چین، مصر، سری لنکا، نیپال اور دیگر کئی ممالک نے کرونا ایس او پیز کا حوالہ دیتے ہوئے بطور تحفہ بھیجے گئے آم قبول کرنے سے انکار کردیا۔ روزنامہ جنگ نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر عارف علوی  کی جانب سے  32 ممالک کے سربراہان مملکت اور سربراہان حکومت کو  چونسا، انور رٹور اور سندھڑی نسل کے میٹھے آم بھیجے گئے تھے۔ خبر کے مطابق آم کے یہ ڈبے امریکہ، چین، فرانس، کینیڈا، ایران، خلیجی ممالک، ترکی، برطانیہ، افغانستان ، بنگلہ دیش اور روس سمیت 32 سربراہان مملکت کو بھیجے گے تھے۔ رپورٹ کے مطابق جن ممالک نے صدر پاکستان کی طرف سے تحفہ قبول کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے،  ان میں امریکہ، کینیڈا، چین، نیپال ، مصر اور سری لنکا وغیرہ شامل ہیں۔
تاہم دوسری جانب پاکستانی دفترخارجہ نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ چین اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے پاکستان کی جانب سے ’مینگو ڈپلومیسی‘ کے تحت بھیجے گئے آم لینے سے انکار کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ہم نے میڈیا میں کچھ غیر ملکیوں کو پاکستانی آم بھجوانے کی رپورٹس دیکھی ہیں۔ ہم ان رپورٹس کو حقیقت کے برخلاف اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔ میڈیا نے غلط اور غیر ذمہ دارانہ خبریں چلائی۔وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہر برس پاکستان کے صدر بہترین اور معیاری آم بعض چیدہ چیدہ ممالک کو بھیجتے ہیں۔ یہ آم تجارتی سفارت کاری کے فروغ کے لیے اچھی ساکھ بنانے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق وزارت خارجہ آم بھیجنے کے لیے ممالک کی فہرست ان کے کورنٹائن حالات، صفائی ستھرائی اور پروازوں کی دستیابی دیکھ کر تیار کرتی ہے۔
تاہم روزنامہ جنگ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور چین سمیت متعدد ممالک نے آم کی ترسیل کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان سے کہا کہ وہ ‘قرنطینہ ضوابط’ کی وجہ سے آم نہ بھیجیں۔ چنانچہ بھارت کے این ڈی ٹی وی اور انڈین ایکسپریس سمیت متعدد ہندوستانی ذرائع ابلاغ اور میڈیا اداروں نے مذکورہ خبر کو بنیاد بناتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکا اور چین نے پاکستان کی ‘آم ڈپلومیسی’ مسترد کردی۔ تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کا اصرار ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کا سب سے بہترین اور ذائقے والا آم پیدا ہوتا ہے اور غیر ملکی سفارتخانے تو پورا سال بے تابی سے آم کے تحفے کا انتظار کرتے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی آم کی برآمدات 20-2019 میں بڑھ کر 10کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی ہو گئی تھی جبکہ اس سے پچھلے سال 7کروڑ 80 لاکھ کی آم کی برآمدات ہوئی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ اس برس تو پچھلے دو سالوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعداد میں آموں کی برآمدات کا امکان ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے کینہ رکھنے والے ممالک مینگو ڈپلومیسی ناکام ہونے کی جھوٹی خبریں چلا رہے ہیں۔

Back to top button