کیا پیپلز پارٹی کو الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ ملے گی؟

ملک میں جنوری کے آخری ہفتے میں الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد ملک میں سیاسی گہما گہمی بڑھ چکی ہے۔ جہاں ایک طرف مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے وطن واپسی کا رخت سفر باندھ لیا ہے اور 21 اکتوبر کو پاکستان آمد کا اعلان کر رکھا ہے وہیں لیگی حلقے نواز شریف کی وطن واپسی کو اپنی جیت کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی مبصرین کا بھی یہ کہنا ہے کہ ہواؤں کا رخ دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگلی حکومت مسلم لیگ ن کو دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق کردہ اثرورسوخ رکھنے والی اکثریتی چھوٹی اور علاقائی جماعتیں مسلم لیگ ن کے ساتھ الحاق پر مائل دکھائی دیتی ہیں۔ انھی حالات کی وجہ سے پیپلزپارٹی نے نون لیگ سے لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ شروع کر دی ہے اور پیپلزپارٹی قیادت نے اپنی توپوں کا رخ نون لیگ کی طرف موڑ رکھا ہے۔
دوسری جانب روزنامہ جنگ کی ایک تحریر کے مطابق تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پی پی پی کو اس ملک کے فیصلہ سازوں نے صرف اس وقت اقتدار دیا جب ملک یا تو دولخت ہوچکا تھا یا پھر تباہی کے دہانے پر تھا، معیشت جب جب زندگی اور موت کی کشمکش میں نظر آئی اس ملک کے کرتا دھرتا اس بات پر متفق ہوگئے کہ ایسے وقت میں صرف پی پی پی ہی ہےجو ملک کو متحد رکھ سکتی ہے۔ پی پی پی قیادت نے ہمیشہ سمجھوتا کیا کبھی وہ اس سمجھوتے کا شکار ہوکر جیل پہنچ گئی تو کبھی اقتدار تک پہنچ گئی۔ سمجھوتا کرنا پی پی پی کی ہمیشہ مجبوری رہی ہے کیونکہ ایک پرامن جمہوری جماعت سے دنگا فساد نہیں ہوسکتا۔
خیر پی پی پی کی تاریخ عجیب کشمکش کا شکار رہی ہے۔ جب جب پی پی پی نے ملک کے فیصلہ سازوں سے سمجھوتا کیا بدلے میں ایک نہ ایک بھٹو شہید ہوتا رہا لیکن لگتا ہے پی پی پی قیادت نے پاکستان بچانے کی قسم کھا رکھی ہے وہ ہر بار پرانے دھوکے بھول کر آگے بڑھتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ملک میں تصادم کی راہ نکالی گئی تو یقینی طور پر اس کا فائدہ بھارت کو ہوگا۔ کیونکہ پاکستان دشمن سڑکوں پر خون خرابہ چاہتے ہیں جس کے راستے میں پی پی پی سب سے بڑی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ پی پی پی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بس ایک یہ ہی پوائنٹ ہے جو دونوں کو ایک موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے۔
مبصرین کے مطابق ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پی پی پی کے مینڈیٹ پر شب خون مارنے کا سلسلہ بند کردیا جاتا لیکن ایک بار پھر لگتا یہی ہے کہ پی پی پی کے ساتھ فیصلہ سازوں نے پھر ہاتھ کردیا ہے۔ کیونکہ جس طرح سے موجودہ نگراں حکومت ن لیگ کی حمایتی بنی ہوئی ہے اس سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں پی پی پی کے خلاف اور ن لیگ کے حق میں کام کیا جائے گا کیونکہ موجودہ نگراں حکومت میں شامل بیشتر وزرا نواز شریف کےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور وزیر بننے سے پہلے شہباز شریف اور نواز شریف سے ملاقاتیں کرتے آئے ہیں اور جس طرح کے اقدامات الیکشن کمیشن آف پاکستان اٹھا رہا ہے لگتا یہ ہی کہ دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ انتخابات کوطول دینا یا ملتوی کرنا اس وقت ن لیگ کی ہی خواہش ہے جس پر مسلسل کام کیا جارہا ہے تاکہ کسی طرح نوازشریف کو میدان میں اتارا جائے اور ان کے لئے راہ ہموار کی جائے۔ ایسے میں پی پی پی قیادت مسلسل چلا چلا کر کہہ رہی ہے کہ انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ دیں کیوں کہ نگراں حکومت میں جب نواز شریف کے داست راست اور پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد بطور وزیر بیٹھےنظر آئیں گے تو آنے والے انتخابات کو کون مانے گا ؟ کیا یہ الیکشن کمیشن کی ذمے داری نہیں کہ ایسے تمام افراد کو کابینہ سے فارغ کردے تاکہ آنے والے انتخابات پر کوئی سوالیہ نشان نہ اٹھا سکے۔ لیکن پی پی پی قیادت کو چاہئے کہ اب کھل کر بات کرے اور ثبوتوں کے ساتھ بات کرے کہ کیسے اور کس نے کب کب اس کا کندھا استعمال کیا اور پھر پلٹ کر خبر تک نہ لی۔
