بلوں میں چھپے ہوئے عمرانڈو رہنما کب سامنے آئینگے؟

جنوری کے آخری ہفتے یا فروری کے پہلے ہفتے میں عام انتخابات کے واضح امکانات کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے سیاسی محاذ سنبھال لیے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے چئیرمین اٹک جیل میں قید ہیں جبکہ عمرانڈو عتاب سے بچنے کیلئے بلوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آئندہ انتخابات میں ماضی کی دو بڑی سیاسی جماعتیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی ہی مد مقابل ہونگی یا تحریک انصاف بھی سیاسی میدان میں اپنی موجودگی کو ثابت کرے گی؟
تاہم وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابقپاکستان تحریک انصاف نے آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے پارٹی رہنماوں کو انتخابی مہم کے حوالے سے ہدایات وکلا کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اپنی انتخابی مہم کا آغاز الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی کردے گی جس کے لیے ضلعی عہدیداروں اور صوبائی صدور کو انتخابی مہم کے لیے تیاریاں شروع کرنے کا پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ضلعی اور ڈویژنل سطح پر ورکرز کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔ ملک بھر میں ورکرز کنونشن کے انعقاد کے لیے ذیلی تنظیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ 9 مئی کے واقعے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنما گرفتار ہیں یا تو روپوشی اختیار کر لی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے اب روپوش رہنماؤں کے لیے بھی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں ورکرز کنونشز کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا جس کے بعد تمام روپوش رہنما منظر عام پر آکر انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے روپوش رہنماؤں کو واضح ہدایات جاری کردی ہیں کہ انتخابی مہم میں کھل کر سامنے آئیں اور اگر ان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوگی۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف آئندہ چند روز میں پارٹی ٹکٹس جاری کرنے کے لیے بورڈ کا اعلان کرے گی جس میں صوبائی صدور اور پارٹی عہداران ممکنہ امیدواروں کے آن لائن انٹریو لیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جن حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ ارکان پارٹی ٹکٹ نہیں لیں گے وہاں سے نوجوان پارٹی ورکرز اور وکلا کو ترجیح دی جائے گی۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق موجودہ حالات اور کیسز کے تناظر میں عمران خان کی انتخابات سے قبل جیل سے رہائی ناممکن دکھائی دیتی ہے جبکہ تحریک انصاف بحیثیت جماعت الیکشن میں ضرور موجود ہو گی۔ تاہم الیکشن کمیشن میں انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے زیر سماعت کیس میں پی ٹی آئی پر پارٹی نشان اور بطور سیاسی جماعت پابندی کے امکانات بھی موجود ہیں۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت پارٹی کی صف اول کی قیادت جیل میں ہے، اور دوسرے درجے کے رہنما گرفتاریوں سے بچنے کے لیے روپوش جبکہ متوقع امیدوار تذبذب کا شکار ہیں۔پی ٹی آئی ابھی تک اپنی انتخابی مہم کے خدوخال واضح نہیں کر سکی اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ وہ ابھی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ابھی اس بات کا یقین نہیں کہ انتخابات ہوں گے، اور اگر ہوں گے بھی تو ان انہیں کس حد تک ان کا حصہ بننے کی اجازت ملے گی۔پی ٹی آئی کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اس کے امیدواروں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے لیے انتخابی مہم چلانا آسان نہیں ہو گا۔اس غیر یقینی کے باوجود پی ٹی آئی کو توقع ہے کہ پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں مہنگائی کی وجہ سے عوام کی بڑی اکثریت اس کے امیدواروں کو ووٹ دے گی اور یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ وہ انتخابی مہم چلاتے بھی ہیں یا نہیں۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن سے جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے لیے انتخابی مہم چلانا اتنا ضروری نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اس پوزیشن میں ہے کہ انتخابی مہم چلائے بغیر بھی جیت سکتی ہے۔‘پی ٹی آئی کے امیدواروں کو درپیش مشکل حالات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’ان کی جماعت کے پاس ہر حلقے میں کئی امیدوار موجود ہیں اور پارٹی جسے بھی امیدوار کھڑا کرا کرے گی وہ کامیابی حاصل کرے گا۔‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ڈی ایم کی بُری کارکردگی کی وجہ سے اس وقت ووٹروں کی 80 فیصد تعداد تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔‘
سینئر تجزیہ کار ضیغم خان ان توقعات سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ’پی ڈی ایم کی حکومت کی بُری کارکردگی کا فائدہ تو پی ٹی آئی کو ضرور ہو گا لیکن انہیں یہ الیکشن بحرانی کیفیت میں لڑنا پڑے گا۔‘ ’پی ٹی آئی کو انتخابی مہم کے بحران کا تو سامنا ہے ہی، اسے ’امیدواروں کے بحران‘ کا بھی سامنا ہے۔‘ضیغم خان کہتے ہیں کہ ‘پی ٹی آئی کے پاس حلقوں کے لیے امیدوار بھی نہیں بچے۔ جو زیادہ تعداد ہے وہ چھوڑ چکی ہے، اور جو تھوڑی تعداد بچی ہے وہ جیلوں میں ہے۔‘’ضیغم خان کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے امیدواروں کے لیے الیکشن میں جو فائدہ ہے وہ دوسری جماعتوں کی غیر مقبولیت ہے۔‘تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس وقت پی ٹی آئی پر جو مشکلات ہیں ان کاالیکشن میں اس کے امیدواروں کو نقصان بھی ہو گا
