کیا پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں؟

حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بے نتیجہ اختتام کے بعد جہاں تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کروا کر 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کی استدعا کی ہے وہیں دوسری طرف حکومت سے مذاکرات کا آپشن بھی اوپن رکھا ہے۔ تاہم اس حوالے سے تمام اختیارات عمران خان کو تفویض کر دئیے گئے ہیں۔ اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اصل فیصلہ کریں گے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عملی جاری رہے گا یا ختم ہو چکا ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل میں دونوں فریقین کی نمائندگی کرنے والے کچھ افراد سے پس پردہ بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی نمائندے مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی والے اسی صورت مذاکراتی عمل میں مزید شرکت کریں گے جب عمران خان انہیں اس کی اجازت دیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ عمران خان نے اپنی پارٹی کے نمائندوں کو اجازت نہیں دی تھی کہ وہ قومی و صوبائی اسمبلیوں یعنی سندھ اور بلوچستان کی تحلیل کے حوالے سے 14؍ مئی سے آگے کی کسی تاریخ پر کسی طرح بھی اتفاق کریں۔ دوسری جانب، پی ڈی ایم کے نمائندے چاہتے تھے جولائی میں اسمبلیاں تحلیل کرکے ستمبر 2023ء میں انتخابات کرائے جائیں۔
مذاکرات میں شامل ایک نمائندے نے بتایا ’’ہم اس معاملے پر جون کے آخر میں اسمبلیاں تحلیل کرنے پر بات کیلئے تیار تھے کیونکہ اس وقت تک بجٹ منظور ہو جاتا، لیکن ہماری الگ الگ حدود تھیں۔‘‘ اپنی اپنی جماعتوں کی طرف سے مذاکرات میں شامل نمائندوں کے پاس الیکشن کی تاریخ اور دیگر متعلقہ معاملات پر بات چیت کے بارے میں معاملات اپنی پارٹی کی سینئر قیادت کو بھیجنے کے سوا کسی بات کو حتمی شکل دینے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔
ان جماعتوں کے نمائندوں سے بات چیت میں یہ معلوم ہوا کہ جو لوگ مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے وہ آپس میں پیچیدہ مسائل پر بات میں کافی مطمئن تھے لیکن ان کے ہاتھ بندھے تھے۔ مذاکرات میں شامل ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ ’’اگر مذاکرات میں شامل افراد کے پاس موزوں ترین معاملات پر کسی معاہدے کا مینڈیٹ ہوتا تو بات چیت کا مثبت نتیجہ نکل آتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین کے ہاتھ باندھ کر انہیں مذاکرات کیلئے ساتھ بٹھا دیا گیا کیونکہ ان کی متعلقہ جماعتوں کی قیادت نے ان کیلئے حدود طے کر رکھی تھیں۔
پی ٹی آئی کی طرف سے عمران خان وہ واحد شخص ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں جبکہ پی ڈی ایم کی طرف سے کمیٹی جس بات پر اتفاق کرتی وہ معاملہ پہلے پی ڈی ایم کی سینئر قیادت نواز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان کے پاس جاتا جو ’’ہاں‘‘ یا ’’نہ‘‘ میں جواب دیتے ہیں۔
مذاکرات کے تین مراحل کے دوران دونوں فریقین نے ایک موقع پر اتفاق کیا کہ ملک بھر میں صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی نشستوں پر ایک ہی تاریخ پر عام انتخابات ہوں گے۔ ان میں اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ پارلیمنٹ کو جب موقع ملا، آئین میں یہ شق شامل کی جائے گی کہ 90؍ دن کے بعد صرف ایک مرتبہ کیلئے پنجاب اور کے پی میں الیکشن کیلئے تاخیر کی جا سکتی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم والوں میں بات چیت کا تیسرا مرحلہ منگل کو ختم ہوا اور ایک دن پر الیکشن کرانے کے حوالے سے کوئی بڑا بریک تھروُ نہ ہو سکا۔
حکومتی اتحاد کی طرف سے کمیٹی کی قیادت کرنے والے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مذاکرات جاری رہنے کا اشارہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی قیادت سے دوبارہ بات کرنا ہوگی۔ ہمیں اتحادی جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت کرنا ہے تاکہ آئندہ دنوں میں مثبت پیشرفت ہو سکے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن اور نگراں حکومت کے قیام کے حوالے سے اتفاق ہونا بڑی پیشرفت ہے، اور یہ آئین اور الیکشن ایکٹ 2017ء کے مطابق ہے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کمیٹی کی قیادت کرنے والے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سپریم کورٹ سے رجوع کرکے مذاکرات کے حوالے سے تحریری رپورٹ پیش کرے گی تاکہ 14؍ مئی کو پنجاب میں الیکشن کے عدالتی فیصلے پر عمل ہوسکے۔ فریقین میں سے کسی نے مذاکرات کیلئے اگلی تاریخ نہیں بتائی، کسی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں۔ کیا مذاکراتی عمل جاری رہے گا؟
حکومتی اتحاد کو اس میں کوئی مسئلہ نہیں لیکن پی ٹی آئی کی طرف سے عمران خان فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات جاری رہیں گے یا وہ بات چیت کے عمل کے خاتمے کا اعلان کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکن ہے عمران خان سپریم کورٹ میں کیس کی اگلی سماعت کے بعد اپنے فیصلے کا اعلان کریں۔
