پارلیمنٹ اور عدلیہ کی لڑائی میں جمہوری نظام لپٹنے کا خطرہ

کئی دہائیوں سے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں سیاست مخالف مہم جاری رکھی اور اب فوجی جرنیل اپنے ہی پیدا کردہ کرداروں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان روایتی سیاست دان نہیں ہیں، جو کہ اب اسٹیبلشمنٹ کو سو جوتے کھانے کے بعد سمجھ آ گئی ہے۔ ڈرانے دھمکانے والے پرانے ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں اور وہ تمام تجزیات جن کے مطابق ریاست عمران خان کو سبق سکھانے جا رہی تھی، غلط ثابت ہوئے ہیں۔ ڈیپ سٹیٹ کے اندر پیدا ہونے والی تقسیم اور تفاوت اس زلزلے کا مرکز ہے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی رضا رومی نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ رضا رومی کا مزید کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے مابین پیدا ہونے والا موجودہ بحران، انتظامیہ اور عدلیہ کی باہمی چپقلش اور سپریم کورٹ کے اندر جاری لڑائی کے نتیجے میں سامنے آنے والا موجودہ خلفشار مکمل طور پر غیر معمولی ہے۔ یہ حقیقت کہ ایک پارلیمنٹ ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مسترد کرنا درست سمجھتی ہے، ایک چیف جسٹس ہے جو عدالت کے سینیئر ججوں کی باتوں پر توجہ دینے کو تیار نہیں اور اس پر روز بروز بگڑتی معاشی صورت حال اس گہری بدحالی کی علامتیں ہیں جو عمومی طور پر پاکستانی ریاست کے درپے ہے اور اب ڈیپ سٹیٹ بھی اس سے محفوظ نظر نہیں آتی۔ جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ نئے مواقع اسی قسم کے بحرانوں سے ہی جنم لیتے ہیں۔ تاہم، بے یقینی کی موجودہ صورت حال سے کوئی موقع بھی برآمد ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ یہ محض اشرافیہ کے مابین اقتدار پر قبضے کی جنگ ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رضا رومی بتاتے ہیں اپریل کے وسط میں فوجی حکام کے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد نے چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججز کو سکیورٹی خطرات سے متعلق بریفنگ دی اور بتایا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات 14 مئی کو کیوں نہیں کرائے جا سکتے۔ اس کے بعد پچھلے ہی ہفتے کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال اپنی پوزیشن سے تھوڑا سا پیچھے ہٹے اور سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے معاملات سلجھانے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کو رپورٹ دینے کا حکم دیا۔ یہ اقدام غیر معمولی ہے کیونکہ عدالتوں کی جانب سے سیاسی اداکاروں کو بنیادی مذاکرات کرنے کی ہدایت جاری کرنا نرم الفاظ میں بھی بے قاعدگی کی ایک مثال ہے۔ یہی بات بنچ میں شامل اختلاف کرنے والے ججز پہلے ہی اپنے فیصلوں میں کہہ چکے ہیں کہ سیاست دانوں کو اپنے معاملات خود سلجھانے دیں اور عدلیہ کو ان معاملات سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔جہاں پنجاب میں انتخابات ابھی تک غیر یقینی کا شکار ہیں، ایک اہم سوال جس پر سپریم کورٹ نے توجہ نہیں دی وہ یہ ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں صوبائی انتخابات کے حوالے سے اتنی ہی فکرمند کیوں نہیں ہے؟ سپریم کورٹ نے جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات کو بھی قابل غور نہیں سمجھا کہ صوبائی اسمبلیوں کو ان کی مدت سے پہلے کیوں تحلیل کر دیا گیا تھا اور کیا عدالتوں کو کسی ایسی سیاسی حکمت عملی پر عمل درآمد کا ساتھ دینا چاہیے جس سے منتخب حکومت کو اقتدار میں رکھنے کے عوامی حق پر منفی اثر پڑتا ہو؟
انتخابات کے انعقاد کے لئے آئین کی طرف سے مقرر کردہ 90 دن کی میعاد پہلے ہی گزر چکی ہے۔ عدالت کی مداخلت اور پارلیمنٹ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اس پر ردعمل سے ایک اور خطرناک نظیر قائم ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ آئینی اصول و ضوابط کو مصلحت کی بنا پر رد کیا جا سکتا ہے۔
رضا رومی کے بقول اس سے قبل پارلیمنٹ کی ایک میڈیا کیمروں سے دور بریفنگ میں آرمی چیف نے سکیورٹی خدشات سے متعلق گفتگو کی تھی۔ حکومت نے یہ کہہ کر اس موقع سے فوراً بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ صوبائی انتخابات میں تاخیر کے حکومتی فیصلے پر پارلیمنٹ اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان حرکتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے کچھ ایسے اقدامات ہیں جو نئی فوجی قیادت کو فوری طور پر اٹھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سابق وزیر اعظم عمران خان، ان کے اتحادیوں اور سول سوسائٹی کے بعض ایسے حلقوں کی جانب سے جو عمران خان کے حمایتی ہیں، فوج کے ادارے کو سختی سے چیلنج کیا جا رہا ہے۔
رضا رومی بتاتے ہیں کہ ‘ڈیپ سٹیٹ’ کی اصطلاح عام طور پر انٹیلیجنس کے ایسے نظام کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو نظر نہ آتے ہوئے کام کرتا ہے، جس کے پاس سیاست دانوں، پالیسیوں اور تحریکوں کو بنانے یا ختم کرنے کی بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ لیکن 2023 میں ڈیپ سٹیٹ سے مراد محض روایتی عادی مجرم نہیں ہیں۔ اس میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران، سویلین اور فوجی انٹیلی جنس ادارے، ریاست کی نگرانی میں پرورش پانے والے میڈیا پرسنز جو ہاتھوں سے نکل گئے اور بظاہر ‘ففتھ جنریشن وار فیئر’ کا مقابلہ کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ترتیب دیا گیا انفارمیشن انفراسٹرکچر شامل ہے۔ مؤخرالذکر انفراسٹرکچر بھی رستہ بدل کر اب آزادانہ طور پر آپریٹ کر رہا ہے اور گذشتہ ایک سال میں اس پر قابو پانے کی تمام تر کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں۔
‘ پاکستان میں ‘ففتھ جنریشن وار فیئر’ اب اپنے ہی بنانے والوں کے ہی گلے پڑ گئی ہے۔ ریٹائرڈ فوجی افسران حاضر سروس آرمی چیف کو لعن طعن کر رہے ہیں اور ڈیپ سٹیٹ تک رسائی کے حامل ماضی کے دفاعی تجزیہ کار ایک بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں کہ فوج میں مختلف رینکس کے اہلکار عمران خان کا ساتھ چھوڑنے والے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے سے ناخوش ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر بیانات دیے جا رہے ہیں، میمز بنائی جا رہی ہے اور دو نمبر ویڈیوز جاری کی جا رہی ہیں جن میں پاکستان کے سب سے مضبوط سمجھے جانے والے ادارے پر بھرپور غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔لیکن پراپیگنڈا کے ذریعے انتشار پیدا کرنے کا یہ سلسلہ محض پی ٹی آئی تک ہی محدود نہیں ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل رہنما بھی ججوں، خود چیف جسٹس اور جرنیلوں کی ایک منتخب فہرست کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں وہ ولن سمجھتے ہیں۔
رضا رومی کہتے ہیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ انتخابات کب ہوں گے یا عمران خان دوبارہ اقتدار میں آئیں گے یا نہیں۔ خود پسند اور ایڈونچر کے شوقین چند جرنیلوں کا تازہ ترین تجربہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اس افراتفری میں امید کی کرن فقط یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو شاید احساس ہو گیا ہو کہ اسے پہلے ادارے کے اندر موجود گڑبڑ کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن 23 کروڑ پاکستانیوں کے لئے شکستہ حال معیشت اور تباہ شدہ سیاسی نظام فوجی اسٹیبلشمٹ کے ادارہ جاتی مفادات کی نسبت کہیں زیادہ باعثِ پریشانی ہیں۔
پنجاب میں قبل از وقت انتخابات کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ درحقیقت اکتوبر میں بھی انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ انتشار میں مبتلا ہے، عدلیہ کے اندر دھڑے بندی ہے اور ڈیپ سٹیٹ اقتدار حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ انتخابات تب ہوں جب نئے چیف جسٹس عہدے پر براجمان ہو چکے ہوں۔ عمران خان اور طاقتور حلقوں میں ان کی پشت پناہی کرنے والے عناصر جلد انتخابات کروانا چاہتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عمران خان جلد سے جلد حکومت میں آ سکیں۔ موجودہ حالات میں فوجی اسٹیبلشمنٹ جو کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے اس کی کچھ حدود ہیں۔
اس رسہ کشی سے مختصر مدت میں یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ پرویز مشرف کے دور کے بعد شروع ہونے وال ہائبرڈ جمہوریت کا تجربہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ انتخابات کے انعقاد کے لئے ریاست کے مختلف اداروں اور سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل طویل مدتی نگران حکومت ایک آپشن کے طور پر لمبے عرصے سے زیر غور ہے۔ ‘نظام’ کا یوں بنا کسی بڑے دھماکے کے منہدم ہو جانے سے جو صورتحال پیدا ہوگی وہ ایک مکمل فوجی قبضے کی نسبت آسانی کے ساتھ سنبھالی جا سکے گی۔کیا سیاست دان نوشتۂ دیوار پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
