بلاول کا دورہ بھارت، پاکستان کیلئے اتنا اہم کیوں؟

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کے تناظر میں بلاول بھٹو زرداری کے دورۂ بھارت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ گو کہ دونوں ملکوں نے اس دورے کے دوران دو طرفہ ملاقاتوں کے امکان کو رد کیا ہے، تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ وزیرِ خارجہ بلاول کا بھارت جانا ہی اہم ہے۔بلاول گزشتہ بارہ برس میں بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ ہیں۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب بھارت کی جانب سے 2019 میں کشمیر کی خود مختار حیثیت کے خاتمے کے بعد سےدونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اپنے بھارتی ہم منصب سبرامنیم جے شنکر کی دعوت پر چار اور پانچ مئی کو سیاحتی شہر گوا میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شریک ہورہے ہیں۔ بھارت اس وقت ایس سی او کے وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کا سربراہ ہے۔پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق بلاول بھٹو جمعرات کی سہ پہر بھارت کی ریاست گوا کے ایئر پورٹ پر چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے پہنچیں گے جہاں وہ ایک رات قیام کے بعد جمعے کو واپس پاکستان روانہ ہوں گے۔ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بلاول بھٹو کی بھارتی ہم منصب کے ساتھ کوئی سائیڈ لائن ملاقات طے نہیں ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ حالات اور انتخابی سال ہونے کے باعث اس دورے سے زیادہ توقعات نہیں لگائی جاسکتیں تاہم یہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے پہلے قدم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سفارتی امور کی ماہر بھارتی صحافی شیتل راجپوت کہتی ہیں کہ بھٹو خاندان کی بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک تاریخ ہے اور بلاول بھٹو کے دورے کو نئی دہلی میں اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ شیتل کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو شملہ معاہدے کے لیے بھارت آئےتھے اور ان کی والدہ بینظیر بھٹو نے بطور وزیرِاعظم جب دورہ کیا تو گاندھی خاندان نے ان کی والہانہ میزبانی کی تھی۔وہ کہتی ہیں کہ اس بنا پر بلاول بھٹو کے دورۂ بھارت کی نہ صرف تاریخی اہمیت ہے بلکہ سفارتی سطح پر بھی اسے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
شیتل راجپوت نے کہا کہ اگرچہ یہ دوطرفہ دورہ نہیں ہے اور اس میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سائیڈ لائن پر ملاقات کے امکانات بھی محدود ہیں تاہم اس کے باوجود آتے جاتے جب دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کا آمنا سامنا ہوگا تو ساری توجہ اانہی پر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا میڈیا بلاول بھٹو کے دورے کو کافی اہمیت دے رہا ہے اور یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اپنے بیانات کے لیے مشہور پاکستانی وزیر ِ خارجہ بھارت کی سرزمین پر نرم لہجہ اپنائیں گے۔
شیتل راجپوت کہتی ہیں کہ روایتی حریف ممالک کے درمیان تعلقات میں فوری بہتری ممکن نہیں ہے اور وہ بھی ایسے حالات میں جب دونوں ملکوں میں قومی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی بعض ریاستوں میں اس وقت بھی انتخابات ہورہے ہیں اور پاکستان میں بھی انتخابی ماحول بنا ہوا ہے تو تعلقات میں بہتری کے حوالے سے کسی بڑی پیش رفت کا امکان نہیں پایا جاتا ہے۔
پاکستانی صحافی اور تجزیہ نگار محسن رضا خان کہتے ہیں کہ اتحادی حکومت میں شامل مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کا یہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت سے تعلقات معمول پر لائے جانے چاہئیں اور اس حوالے سے وہ کوشش بھی کرتے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت بھی بطور ایس سی او میزبان چاہتا ہے کہ وزرائے خارجہ اجلاس کامیاب ہو جو کہ پاکستان کی شرکت سے ہی ممکن ہوسکے گا۔
محسن رضا کہتے ہیں کہ پاکستان سے تعلقات میں بہتری لانا بھارت کی معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ اس صورت میں اسے واہگہ کے ذریعے وسطی ایشیائی ملکوں تک آسان رسائی مل سکے گی۔محسن رضا خان نے کہا کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے کاکول ملٹری اکیڈمی سے خطاب سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ پاکستان کشمیر پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا، تاہم فوج نے بظاہر بلاول بھٹو کے دورۂ بھارت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
بھارتی صحافی راجیش بادل کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کی والدہ بینظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کے ساتھ مل کر دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی کوشش کی تھی لیکن وہ ادھوری رہی۔ تاہم امید ہے کہ اس دورے کے ذریعے بات چیت کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کی نئی دہلی میں کوئی شنید نہیں ہے اور نہ ہی پس پردہ رابطوں کی کوئی اطلاع ہے۔راجیش بادل نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام چاہتے ہیں کہ تعلقات میں بہتری آئے لیکن مقتدر قوتیں ایسی کسی بھی کوشش کو متاثر کردیتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس بلاول بھٹو نے اقوامِ متحدہ ہیڈکوراٹر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ’گجرات کے قصائی‘ کے الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ اسی طرح بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاناما میں اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ بھارت کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کرنے والے پڑوسی کے ساتھ بات چیت کرنا بہت مشکل ہے۔
