کیا چودھریوں نے مولانا سے عمران کی چھٹی کا وعدہ کیا تھا؟

حکومتی اتحادی چوہدری برادران کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کے بعد مولانا فضل الرحمن نے بھی میدان میں آ کر چوہدری برادران سے کپتان کے استعفے کا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کر کے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے یہ ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے پچھلے برس اسلام آباد میں اپنا دھرنا چوہدری برادران کے اس وعدے پر ختم کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان تین مہینے کے اندر گھر چلے جائیں گے اور ملک میں نئے انتخابات کروا دئیے جائیں گے۔ مولا نا فضل الرحمان نے چودھری برادران سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان پاس میری جو امانت ہے اس کے متعلق اب واشگاف الفاظ میں اعلان کیا جائے۔ مولانا نے یہ بھی بتا دیا کہ چودھری برادران نے دھرنا ختم کروانے کیلئے کپتان سمیت تین شخصیات کے استعفے اور تین ماہ میں انتخابات کا وعدہ کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے اب یہ وعدہ پبلک کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نئی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے کہا ہے کہ انہوں نے دھرنا ختم کروانے کے لیے جو وعدہ کیا تھا اب اس سے پردہ اٹھانے اور اسے پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چوہدری پرویز الہی سے کہتا ہوں کہ وہ جس امانت کا ذکر کرکے اسے سینے میں چھپائے بیٹھے ہیں اسے سب پر عیاں کردیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے چوہدری پرویز الہی سے یہ مطالبہ کرنے کے لئے انتہائی موزوں وقت کا انتخاب کیا ہے۔ مولانا نے دھرنا ختم کرنے کے بعد کمٹمنٹ کے مطابق تین مہینے انتظار کیا اور جب ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ تحریک انصاف حکومت ہر طرف سے مشکلات میں گھری ہوئی ہے، مولانا نے لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگا دی ہے۔ موجودہ حالات میں تحریک انصاف حکومت کو سب سے بڑا چیلنج اپنی حکومت بچانے کا ہے کیونکہ مرکز اور پنجاب میں کلیدی اتحادی جماعت قاف لیگ کو کپتان اینڈ کمپنی سے سخت تحفظات ہیں اورمشترکہ دوستوں کی کوششوں کے بعد چوہدری برادران نے بڑی مشکل سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ملاقات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم مولانا فضل الرحمن نے اس کڑے وقت میں تحریک انصاف کو نئی مشکل میں ڈال دیا ہے اور دھرنے کے دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملاقات کرکے انہیں مستقبل کے حوالے سے یقین دہانی دلانے والے چوہدری برادران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سچ سب پر عیاں کریں کہ انہوں نے ہمارا دھرنا کس یقین دہانی پر ختم کروایا تھا۔ مولانا نے یہ بھی واضح کر دیا کہ چوہدری برادران نے یقین دہانی کروائی تھی کہ تین ماہ کے اندر اندر کپتان کی فراغت کے بعد عام انتخابات کروا دئیے جائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے چوہدری برادران کی مجبوریوں کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ چودھری برادران ٹھیک کہتے ہیں، ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ہماری تحریک کی وجہ سے حکومت کے اتحاد میں دڑاڑیں پیدا ہو گئی ہیں جو ہمارے مقصد کی جانب پیشرفت کی علامت ہے لہذا ہم نے ایک نئی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عمران خان کو گھر پہنچایا جاسکے۔
