کیا ڈالر پھر روپے کی پھینٹی لگانے والا ہے؟

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کے سلسلے کو بریک لگ چکی ہے اور اب ایک بار پھر روپیہ تنزلی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ چند روز پہلے تک پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری تھا۔ کریک ڈاؤن، ریاستی اداروں کی طرف سے مبینہ طور پر غیر قانونی زرمبادلہ کی تجارت اور مرکزی بینک کے ذریعے ایکسچینج کمپنیوں کے اندر ریگولیٹری اصلاحات کا نفاذ سے پانچ ستمبر کے بعد سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 10 فیصد کا اضافہ ہو چکا تھا۔ دوسری طرف حکام کی جانب سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کو ڈھائی سو کی سطح پر لانے کو ہدف بنانے کے حوالے سے مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر قیاس آرائیاں کی جا رہی تھں۔ اگرچہ ان افواہوں کی تصدیق کرنا ناممکن تھا، لیکن ان کا اثر ہو رہا تھا اور اس کے نتیجے میں روپے کی اٹھان کا سلسلہ لگاتار جاری تھا۔ تاہم اب ایک بار پھر ڈالر نے اپنے قدم دوبارہ جمانے شروع کر دئیے ہیں۔
دوسری جانب گولڈمین گروپ نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر میں غیر ملکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں روپے کی قدر میں بہتری عارضی ثابت ہوسکتی ہے، جس کی وجہ ملک کے مالیاتی خطرات ہیں۔ڈان اخبار میں شائع بلوم برگ کی رپورٹ میں گولڈمین کے تجزیہ کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پربُلند شرح سود، صرف دوطرفہ فنانسنگ اور آئی ایم ایف کے ساتھ قلیل مدتی انتظام کی وجہ سے روپے کی قدر میں حالیہ اضافہ قلیل مدت کیلئے رہے گا
خیال رہے کہ یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل چوتھے روز کم ہوئی، اور یہ گزشتہ روز 0.07 فیصد تنزلی کے بعد 280 روپے 9 پیسے تک پہنچ گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ اس کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 20 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوارن 22 کروڑ ڈالر گر کر 7 ارب 49 کروڑ ڈالر رہ گئے، جولائی کے وسط سے ہفتہ وار بنیادوں پر یہ کمزور ترین صورتحال ہے، جس وقت آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی جانب سے فنانسنگ کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر 8 ارب 73 کروڑ ڈالر ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ ستمبر اور اکتوبر کے دوران زیادہ تر روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا، اور اسے دنیا کی بہترین کرنسیوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔کرنسی ماہرین خبردار کرتے رہے ہیں کہ روپے کی قدر میں اضافے کی بنیادیں کمزور ہیں اور اس رجحان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
5 ستمبر کو ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح 307 روپے 10 پیسے پر آگئی تھی، بلیک مارکیٹ کے خلاف ملک کے مالیاتی ریگولیٹر اور سیکیورٹی اداروں کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں روپے کی قدر میں تیز رفتار بہتری دیکھی گئی۔6 ستمبر سے 16 اکتوبر کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں روزانہ اضافہ دیکھا گیا، مجموعی طور پر ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر 10.9 فیصد بڑھ کر 277 روپے 3 پیسے تک پہنچ گئی۔تاہم مرکزی بینک زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر نہیں کر سکا، اور آئی ایم ایف سے قلیل مدتی قرض معاہدے کے تحت صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے رقم موصول ہوئی۔مرکزی بینک بینکنگ مارکیٹ سے ڈالر خریدتا رہا، لیکن قرض اور سود کی ادائیگی کے سبب انخلا زیادہ رہا۔
واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ 18 ماہ سے سیاسی اور معاشی بےیقینی قائم ہے جبکہ عام انتخابات کا انعقاد اگلے برس ہونے کی توقع ہے، اسی طرح اداروں کی فروخت سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی محدود ہیں۔ملک نے مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں کو کچھ منافع بخش مہنگے یونٹس فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کے درمیان اس خطے میں پیدا ہونے والے بحران نے ان منصوبوں میں تاخیر پیدا کر دی ہے۔
