کیا ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی نیچے آنے والی ہے؟

آنے والے دنوں میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی کا امکان ہے بعض معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق سال 2024 میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی نیچے آ سکتی ہے جس سے نہ صرف زرمبادلہ کی صورتحال بہت ہو گی بلکہ مہنگائی میں بھی کمی واقع ہو گی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے رواں ماہ 11 تاریخ کو قرض کی اگلی قسط کی منظوری کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت میں کمی کا امکان ہے اور یہ ڈالر کی قیمت فوری طور پر 270 روپے یا اس سے نیچے آسکتی ہے۔
پاکستان کو جہاں آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر ملنے والے ہیں وہیں دوسری جانب ڈالر کی قیمت میں کمی کا ایک اور سبب بھی ہے۔پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 15 دسمبر کے بعد اب تک 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔دو ارب ڈالر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر کا حجم 8.2 ارب ڈالر ہوگیا جب کہ مجموعی ذخائر 13.2 ارب ڈالر ہیں۔پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی تیزی سے کم ہوا ہے جس کے سبب ڈالر کا اخراج کنٹرول ہوا ہے اور روپے کی قدر میں میں اضافہ ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا، ایک سال میں ڈالر کی قیمت 226 روپے سے بڑھ کر ستمبر میں 308 تک پہنچی چکی تھی، جس کے بعد ڈالر کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئیں تو ڈالر کی قیمت 269 روپے تک آ گئی۔ تاہم سال کے اختتام پر ڈالر کی قیمت اضافے کے بعد 278.73 روپے رہی۔ اس طرح مجموعی طور پر ایک سال میں ڈالر کی قیمت میں 52 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ سال 2022 میں ڈالر کی قیمت میں 48 روپے، جبکہ سال 2021 میں صرف 20 روپے سے بھی کم کا اضافہ ہوا تھا۔
تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ سال 2024 میں ڈالر کا متوقع طور پر کیا ریٹ رہے گا۔ کیا’2024 میں ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی کم ہوسکتی ہے‘
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق اگر عام انتخابات کا انعقاد وقت پر ہو اور تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرلیں تو اس سے ملک میں سیاسی استحکام کے ساتھ معاشی استحکام بھی آئے گا، اسی طرح اگر اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو سال 2024 میں ڈالر کی قیمت 250 روپے سے بھی کم ہو سکتی ہے، لیکن اگر انتخابات نہ ہوئے یا کسی بڑی جماعت نے نتائج تسلیم نہ کیے تو ڈالر بے قابو ہوسکتا ہے اور پھر اس کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، معیشت کا دروازہ سیاست کے دروازے سے گزر کر آتا ہے۔
ملک بوستان نے مزید کہا کہ حکومت نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی تشکیل دی ہے جس کے تحت آئندہ 10 سال میں 112 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان آئے گی جس کے معاہدوں پر دستخط بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد اور اس کے نتیجے میں سیاسی استحکام ہو، اسی کے ساتھ ان ممالک نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنی ہے جس سے ڈالر کے ریٹ میں مزید کمی ہو جائے گی۔
ملک بوستان نے کہا کہ اس وقت پاکستانی شہریوں کے علاوہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک کی نظر عام انتخابات پر ہے، اب یہ سیاست دانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ملک کو اس مشکل سے نکالنے میں کیسے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق سال 2023 پاکستانی عوام کے لیے مہنگائی کے حوالے سے بدترین سال ثابت ہوا ہے، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے تجاوز کرگئی، سال 2024 میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کچھ کمی متوقع ہے تاہم بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، اگر آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو 700 ملین ڈالر کا قرض مل جاتا ہے تو شرح سود نیچے آئے گی جس سے مہنگائی میں کمی ہوگی۔
شہریار بٹ نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث پاکستان میں ایکسچینج ریٹ مستحکم ہوگیا ہے، جب سے افغانستان اسمگل ہونے والے ڈالرز کو روکا گیا ہے ڈالر کافی نیچے آیا ہے، اگر حکومتی اقدامات اسی طرح جاری رہتے ہیں تو روپیہ مزید مستحکم ہو جائے گا اور اگر دوست ممالک کی سرمایہ کاری آتی ہے تو سال 2024 میں ڈالر کا ریٹ 260 روپے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری کے لیے دوست ممالک کی سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے، جولائی 2024 تک پاکستان کو 4 ارب ڈالر چاہئیں، اور مالی سال 2024-25 کے لیے مزید 20 سے 25 ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی تو اس کے لیے ہمیں بڑے آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت ہو گی۔
