کیا کپتان اور اسٹیبلشمنٹ 18ویں ترمیم ختم کر سکیں گے؟

وزیر اعظم عمران خان کے اس تازہ بیان کے بعد کہ 18ویں ترمیم کی وجہ سے وفاق فنڈز کی کمی کا شکار ہے اور صوبوں کے وزرائے اعلی مختار کل بن کر بیٹھے ہیں، یہ بات واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اس ترمیم کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری گذشتہ کئی سالوں سے یہی بات بار بار دہراتے ہیں کہ پاکستان میں بڑی اپوزیشن جماعتوں کو صرف اس مقصد کے لئے احتساب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ 18 ویں ترمیم ختم کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔
یاد رہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کی آمدن بڑھ چکی ہے جبکہ وفاق کی آمدن میں کمی واقع ہوئی ہے اور وفاقی حکومت کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فوج کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کس طرح پورا کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ماضی قریب میں اٹھارویں ترمیم پر تنقید کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اب ملک کی کل آمدن کا 57 فیصد حصہ صوبوں میں آبادی کے تناسب سے تقسیم ہو جاتا ہے جبکہ وفاق کے پاس 43 فیصد بچتا ہے۔ اس کو رقم کی شکل میں دیکھیں تو پاکستان کی کل سالانہ آمدن تقریباً 4000 ارب روپے ہے جس سے وفاق کے پاس 2000 ارب رہتے ہیں جبکہ 2500 ارب صوبوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ وفاق کو اس رقم سے ہر برس بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات پورے کرنے ہوتے ہیں اور بیرونی قرضوں کی سالانہ قسطیں بھی ادا کرنی ہوتی ہیں۔ اسے حکومت بھی چلانی ہوتی ہے، اور ترقیاتی کام بھی کرنے ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کی حکومت دونوں چاہتے ہیں کہ صوبوں کے فنڈز کم کر دیے جائیں لیکن صوبے اس پر تیار نہیں ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیپلزپارٹی ہی نظر آتی ہے جس کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میں اس ترمیم کو پاس کروایا تھا۔ کیونکہ پنجاب میں عمران خان کی اپنی حکومت ہے لہذا اس حوالے سے اگر کوئی فیصلہ کرنا ہو تو مشکل نہیں ہے لیکن یہاں بھی نون لیگ اپوزیشن کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر وزیراعظم بننے والے عمران خان نے اپنے حالیہ دورہ کراچی کے دوران کھل کر یہ دکھڑا بیان کیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سے وفاق غریب ہو گیا ہے جبکہ صوبے امیر ہوگئے ہیں لہذا اس ترمیم کو ختم کیا جانا چاہئے۔
نے اپنے 18ویں ترمیم پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے عمل کو ایک منصوبہ بندی کے تحت عوامی مینڈیٹ کے بغیر معطل کرنے سے صرف تناؤ اور پریشانیاں ہی بڑھیں گی۔ عالمی اسباق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا عمل بڑی یا لسانی اعتبار سے منقسم ریاستوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے حکمران پہلے سے زیادہ جوابدہ بن جاتے ہیں اور اس کے ذریعے سیاسی میدان میں مختلف گروہوں کو جگہ ملنے سے تنازعات میں کمی آتی ہے۔ خطے میں خود مختاری کے تناظر میں دیکھا جائے تو 1940ء کی قراردادِ لاہور یہ ظاہر کرتی ہے کہ مسلم لیگ کی جانب سے مسلمانوں کو 2 قومی نظریے کی دعوت دراصل اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے وعدے کے ساتھ بوئے قومی تشخص کے تصور پر مبنی تھی۔
مسلمانوں کو 2 مختلف نظریات کی دعوتیں موصول ہوئی تھیں، ان میں سے ایک کانگریس کا نظریہ تھا جس کی بنیاد ہندوستانی ساختہ قومی تشخص تھا جبکہ دوسرا پاکستانی ساختہ قومی تشخص تھا۔ کانگریس نے مرکزیت پسند ریاست کی بات کی۔ 1940ء کی قرارداد میں اختیارات کی منتقلی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلمانوں نے مسلم لیگ کی دعوت قبول کی، جس کی وجہ شاید یہ تھی کہ تقسیم کی 2 بڑی بنیادوں میں سے جب ایک یعنی مذہب کا معاملہ حل ہوجائے گا تو ابھرنے والی ریاست میں زیادہ ہم آہنگی ہوگی اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے ذریعے لسانی گروہوں کو سیاسی میدان میں جگہ دے کر انہیں ساتھ لے کر چلا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ جمہوریت اور اختیارات کی منتقلی کے عمل کے بغیر تکثیریت تباہی اور اموات کی راہ ہموار کرتی ہے۔ 2008ء سے 2018ء کے بیچ پاکستان نے اختیارات کی منتقلی کے سلسلے میں اہم اقدامات کیے، اس دہائی کو سیاسی اور ہر اعتبار سے بہترین دہائی قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہی اقدامات میں 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، حزبِ اختلاف، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ قدرے نرم رویہ، اور 2013ء کے انتخابات کے بعد اقتدار کی پُرامن منتقلی شامل ہیں۔ مگر اس کے بعد سے یہ ثمرات ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ 2018ء کے انتخابات میں ایجنسیوں نے دھاندلی کروائی جس کے بعد سے ایک کمزور حکومت غیر منتخب قوتوں کے زیرِ اثر میڈیا، حزبِ اختلاف اور سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن میں مصروف ہے۔ 18ویں ترمیم سیاسی ارتقائی سلسلے کی وہ کڑی ہے جو اب تک باقی ہے۔ اس ترمیم کو واپس لینے سے ہمارے پاس جمہوریت کی آخری نشانی بھی ناپید ہوجائے گی۔ بغیر ٹھوس تجزیے یا بغیر شواہد کے اختیارات کی منتقلی کے خلاف شکایتوں کی مبہم فطرت اور جھوٹے دعوے ہی معاملات کو بد سے بدتر بناتے ہیں کہ وفاقی طرزِ حکومت اپنے اختیار سے باہر نکلتے ہوئے وفاق کو کمزور کر رہی ہے۔ مگر دنیا کے مضوط وفاقی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں نچلی سطح پر منتقل ہونے والے اختیارات کاغذ پر بھی بہت ہی کم ہیں اور عدلیہ، ایجنسیوں اور مرکز کی مداخلت کے باعث مزید محدود ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں نچلی سطح سے اختیارات واپس لینے کی نہیں بلکہ مزید اختیارات دینے کی ضرورت ہے۔
عالمی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ جب ایسے لوگ ریاست کے پیچیدہ معاملات سنبھالتے ہیں جنہیں صرف بموں اور بندوقوں کو سنبھالنے کی تربیت دی جاتی ہے تو وہاں مرکزیت پسندی اور تنازعات کا رجحان زور پکڑتا ہے۔ سویلین بالادستی اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے ہی پاکستان تنازع سے خود کو بچا سکتا ہے۔
