کیا کپتان اپنی مرضی کانیا نیب چئیرمین لگا سکتے ہیں؟


اگرچہ ساکھ کے بحران کا شکار قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید کی ناقابل توسیع چار سالہ مدت ملازمت اکتوبر میں ختم ہو جائے گی تاہم وزیر اعظم عمران خان نے نئے نیب چئیرمین کے تقرر پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مشاورت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور انکا کہنا ہے کہ چونکہ شہباز نیب کے دائر کردہ کرپشن ریفرنسز میں ملزم ہیں لہذا ان سے اس معاملے پر مشاورت ممکن نہیں۔ یاد رہے کہ آئین کے مطابق چیئرمین نیب کی تقرری وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق چونکہ شہباز شریف نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کردہ متعدد کرپشن ریفرنسز میں ملزم ہیں اس لیے وزیر اعظم نے نیب چیئرمین کے تقرر کے لیے قائد حزب اختلاف سے مشاورت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزیر اعظم کس طرح نیب کے ملزم سے مشاورت کرسکتے ہیں ؟’ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے حکومت دیگر قانونی اختیارات پر غور کر رہی ہے۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت میں توسیع دینے یا اُنہیں دوبارہ تعینات کرنے سے متعلق حکومتی غور و غوض کے سوال پر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘میں اس سے انکار کروں گا نہ ہی اسکی تصدیق کروں گا’۔ اس معاملے پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا بھی کہنا ہے کہ نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا اور اور یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ جاوید اقبال کو عہدے میں توسیع دینی ہے یا نہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق چیئرمین نیب کا عہدہ ناقابل توسیع ہے اور اس کی مدت چار برس سے زیادہ نہیں بڑھائی جا سکتی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جسٹس جاوید اقبال کی زیر نگرانی قومی احتساب بیورو نے پچھلے چار برس میں تمام اسٹیبلشمنٹ اور حکومت مخالف سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کیے ہیں جن میں سے کوئی ایک بھی کیس ثابت نہیں ہو پایا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال اپنے عہدے میں توسیع کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی ائینی اور قانونی راستہ نہیں نکل پایا۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے مابین تعلقات کافی خراب ہیں جس وجہ سے وہ ایک دوسرے سے سے بات چیت کرنے پر بھی تیار نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ پچھلے دو برس میں نیب کے ہاتھوں شہباز شریف کی دو مرتبہ گرفتاری ہے جس کی ذمہ داری وہ عمران خان پر ڈالتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ نیب آرڈیننس کے تحت چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے وزیر اعظم کو قائد حزب اختلاف سے مشاورت کرنی پڑتی ہے۔ آرڈیننس کے مطابق صدر، قومی اسمبلی کے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے ناقابل توسیع 4 سالہ مدت کے لیے صدر کی متعن کردہ شرائط پر چیئرمین نیب مقرر کریں گے جنہیں سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار کے سوا کسی اور طریقے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔
قومی ادارہ برائے قانونی ترقی و شفافیت کے صدر احمد بلال محبوب نے بتایا کہ اگر حکومت چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت نہیں کرتی تو یہ ‘غیر قانونی’ عمل ہوگا۔حکومتی مؤقف کے مطابق قائد حزب اختلاف نیب کے ملزم ہیں، سے متعلق سوال کے جواب میں احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ ‘نیب کا ملزم ہونا یا ان پر الزام ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے، جب تک اپوزیشن لیڈر مجرم نہ ثابت ہوجائیں وزیر اعظم ان سے قانون کے مطابق معاملات پر مشاورت کر سکتے ہیں ‘۔انہوں نے مزید کہا کہ نہ صرف نیب آرڈیننس نے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ اس سے متعلق سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘قائد حزب اختلاف سے مشاورت کرنا کوئی انتخاب نہیں بلکہ یہ قانونی پابندی ہے’۔احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع یا دوبارہ تقرر سے متعلق آرڈیننس لانے یا ایسا کوئی قانون بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثہ جات، آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی اور رمضان شوگر ملز سے متعلق نیب کیسز کا سامنا ہے، وہ ان یفرنسز میں ضمانت پر ہیں جبکہ ان مقدمات میں ایک سال کی جیل بھی کاٹ چکے ہیں۔پی ایم ایل این، شہباز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف نیب کی کارروائی کو ‘نیب نیازی گٹھ جوڑ’ اور ‘سیاسی انتقام’ قرار دیتی ہے۔
اس ہی طرح دوسری بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر قیادت نیب سے ناخوش ہے اور کہتی ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر کام کررہا ہے۔ اس سے پہلے موجودہ چیئرمین نیب کا ایک خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو اسکینڈل بھی سامنے آچکا ہے جس پر اپوزیشن نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، وزیر اعظم کے ایک مشیر کے ٹیلیویژن چینل نے چیئرمین نیب کی متنازع ویڈیو چلائی تھی لیکن حکومت نے مشیر کو برطرف کرنے کے علاوہ کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال اس وڈیو کی وجہ سے بھی حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر صرف اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کرتے رہے ہیں۔

Back to top button