جام کمال کو 15 دن کی ڈیڈ لائن دے دی گئی

حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کی حکومت بچانے کی کوششیں وقتی طور پر کامیاب ہوگئی ہیں اور ناراض حکومتی اراکین نے انہیں پندرہ روز کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس دوران وہ ان کے تمام تر تحفظات دور کریں گے۔
تاہم دوسری طرف صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ وہ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اس سلسلے میں پیچھےہٹنے کے حکومتی دعوے بے بنیاد ہیں لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کی جانب سے حکومتی اراکین اسمبلی کو منائے جانے کے بعد اب اپوزیشن کی جانب سے دائر کردہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا امکان ختم ہوگیا ہے۔ یاد رہے بلوچستان اسمبلی کے 16 اپوزیشن اراکین نے جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد فائل کی تھی۔ بعد ازاں اتنی ہی تعداد میں حکومتی اراکین نے وزیر اعلی کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا تھا، یوں اقتدار خطرے میں پڑ گیا تھا۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان نے صادق سنجرانی سنجرانی کو جام حکومت بچانے کا ٹاسک دیا تھا اور اب انکا دعویٰ ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین کو منانے کے لیے صادق سنجرانی نے ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو ان کے مطالبات کا جائزہ لے گی اور ان پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ وزیر اعلی نے یہ یقین دہانی بھی کروا دی ہے کہ آئندہ تمام فیصلوں میں حکومتی اراکین سے مشاورت کی جائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات اب بھی روشن ہیں اور جام کمال کی قسمت کا فیصلہ اس روز ہوگا جب ووٹنگ ہوگی۔ تاہم ترجمان بلوچستان حکومت سرفراز بگٹی نے وزیراعلیٰ جان کمال کو 15 دن کی مہلت دینے کی بات کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد انشااللہ ناکام ہوگی۔
بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کی حریفوں کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے باوجود مشترکہ اپوزیشن کی وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے پیدا ہونے والا بحران برقرار ہے اور اسکا کچھ بھی نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا اب بھی دعویٰ ہے کہ ان کے تحریک عدم اعتماد کامیاب کروانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں اراکین یا موجود ہیں جبکہ حکمران جماعت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس تحریک کو شکست دیں گے۔ تاہم ابھی تک ناراض سپیکر بلوچستان اسمبلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو منائی نہیں جا سکے جس کی وجہ سے پورا دن بھی ختم نہیں ہو پایا۔ اس وقت قدوس اور اور دو ماہ قبل صوبائی کابینہ سے مستعفی ہونے والے سردار محمد صالح بھوٹانی مشترکہ اپوزیشن کے اقدامات کے روح رواں ہیں۔ سردار بھوٹانی اور قدوس بزنجو کو راضی کرنے کی سنجرانی کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔
سیاسی مبصرین کی یہ رائے ہے کہ اگر تمام ناراض اراکین یا ان کی اکثریت کو دوبارہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی حمایت پر قائل نہیں کیا جاسکا تو وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک کی کامیابی کے امکانات قوی ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے لیکن وزیر اعلیٰ کے خلاف جو تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اس پر 16 اراکین کے دستخط ہیں۔بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد 65 ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے اراکین کی تعداد 42 ہے۔ اس وقت 65 اراکین کے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرانے کے لیے سادہ اکثریت یعنی 33 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے۔ حزب اختلاف کے رکن اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نصراللہ زیرے نے بتایا کہ حکومتی اتحاد میں بہت سارے لوگ ناراض ہیں اس لیے وہ بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں اراکین کی ناراضی کے باعث ہوسکتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے پہلے ہی وزیر اعلیٰ خود مستعفی ہو جائیں۔
