باجوہ اور عمران سے دوستی کا الزام، سدھو وزیر اعلیٰ نہ بن پائے


معروف بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو تب بھارتی پنجاب کا وزیر اعلی بننے کی دوڑ سے باہر ہو گئے جب ان کے سیاسی مخالفین نے ان پر وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دوستی کا الزام عائد کر دیا۔ بھارتی کرکٹر کو پنجاب کی وزارت اعلی کے لیے فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن بازی تب پلٹ گئی جب استعفی دینے والے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو پر جنرل باجوہ اور عمران خان سے دوستی کا الزام عائد کر کے ان کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ کانگرس پارٹی نے سدھو کی بجائے پنجاب کے نئے وزیرِ اعلیٰ کے لیے چرن جیت سنگھ چنی کے نام کا اعلان کر دیا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ چرن جیت سنگھ کو بھی نوجوت سدھو کی طرح پنجاب کے سابق وزیر اعلی امریندر سنگھ کا شدید سیاسی مخالف سمجھا جاتا تھا حالانکہ وہ انکی کابینہ میں وزیرِ روزگار تھے۔ سدھو اور چرن جیت کے قریبی تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چرن نے ہی نوجوت سنگھ سدھو کو پنجاب میں کانگریس کمیٹی کا صدر بنوانے میں مدد کی تھی۔ مگر جب فیصلے کا وقت آیا تو کیپٹن امریندر سنگھ نے سدھو پا جی کی مخالفت کرتے ہوئے چرنجیت سنگھ کو وزارت اعلی کے لیے نامزد کر دیا۔ اس موقع پر امریندر سنگھ نے سدھو پر طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کہ مجھے امید ہے کہ وہ پنجاب اور اس کے عوام کو سرحد پار سے بڑھتے ہوئے خطرے سے محفوظ رکھ سکیں گے۔ ایسا کہتے وقت ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا۔
اس سے قبل کیپٹن امریندر سنگھ نے بطور وزیرِ اعلیٰ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اُنھوں نے ایسے موقع پر استعفیٰ دیا جب پنجاب میں کانگریس کی اندرونی دھڑے بندی عروج پر پہنچ گئی تھی۔ استعفے کا اعلان کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پارٹی کو مسلسل اُنکی قیادت پر شک ہے جسکی وجہ سے وہ ہتک محسوس کر رہے ہیں۔
تاہم امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ وہ نوجوت سنگھ سدھو کو کسی بھی صورت وزیرِ اعلیٰ نہیں بننے دیں گے کیوں کہ اُن کے وزیرِ اعظم عمران خان اور پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ذاتی تعلقات ہیں جو بھارت اور اس کے عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریندر سنگھ نے کہا کہ اگر سدھو کو وزیرِ اعلیٰ بنانے کی کوشش کی گئی تو وہ ملکی مفاد میں ڈٹ کر اس کی مخالفت کریں گے۔ یاد رہے کہ بھارتی پنجاب میں اگلے سال فروری میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن ہوں گے اور اب سدھو پا جی کو وزارت اعلی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے اگلے سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ کانگریس پارٹی میں تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور یہ معاملہ ایک نیا رخ اختیار کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ نوجوت سنگھ سدھو اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جب سدھو نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تب سے یہ تنازع شروع ہے۔ اگرچہ انھیں کیپٹن امریندرسنگھ کی حکومت میں وزیر کا عہدہ بھی دیا گیا تھا لیکن دونوں کے درمیان خراب تعلقات کے بعد انھوں نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب سدھو کو وزارت اعلیٰ کی دوڑ سے باہر کرنے کے لیے امریندر سنگھ نے ان پر پاکستانی ایجنٹ ہونے کا الزام لگا دیا ہے۔ یاد رہے کہ سدھو کو وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ تب امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ انھیں پاکستان نہیں جانا چاہیے۔ لیکن سدھو نے ان کا مشورہ نہیں سنا اور پاکستان چلے گئے۔ اس کے بعد انہیں کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا جہاں سدھو آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بغلگیر بھی ہوئے تھے۔ میڈیا نے اسے جادو کی جھپی قرار دیا تھا۔ ایسا کرنے پر کیپٹن امریندر سنگھ نے نوجوت سنگھ سدھو پر کڑی تنقید کی تھی۔

Back to top button