کیا یوسف رضا گیلانی صادق سنجرانی کو بھی پچھاڑ دیں گے؟


تین مارچ کو اسلام آباد سے سینیٹ کی سیٹ پر حفیظ شیخ کو غیر متوقع طور پر ہرانے والے سید یوسف رضا گیلانی کا اگلا مقابلہ 12 مارچ کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ساتھ ہونے جارہا ہے جس کے لیے اپوزیشن اور حکومت دونوں نے صف بندی شروع کر دی ہے اور سیاسی رابطے تیز کر دیے ہیں۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا 3 مارچ کی تاریخ دوبارہ دہرائی جائے گی اور 12 مارچ کو بھی اپوزیشن اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر عمران خان کے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو چت کر پائیں گے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 12 مارچ کو ہونے والے سینٹ چیئرمین کے الیکشن کے لیے دوبارہ بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صادق سنجرانی کو حکومتی امیدوار بنایا یے جبکہ غالب امکان یہی ہے کہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی ہی ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ چیئرمین کا الیکشن حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اگر صادق سنجرانی جیت گئے تو اپوزیشن اور اس کی تحریک بیک فٹ پر چلی جائے گی لیکن اگر یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوتے ہیں تو پھر عمران حکومت کے زوال کا آغاز ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ 100 ممبران پر مشتمل ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے کامیابی حاصل کرنے والے امیدوار کو 51 ووٹوں کا گولڈن نمبر حاصل کرنا ہوگا۔ سینیٹ انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف 25 ممبران کے ساتھ ایوان بالا میں سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹ انتخابات میں مزید چھ نشستیں جیتنے کے بعد 12 ارکان موجود ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے تین، جے ڈی اے اور پاکستان مسلم لیگ ق کا ایک سینیٹر موجود ہے۔ سینیٹ میں موجود 6 آزاد امیدواروں میں سے حکومتی اتحاد کو چار کی حمایت حاصل ہے، یوں آزاد امیدواروں کی حمایت کے ساتھ حکومتی اتحاد کی تعداد 46 بنتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ میں شامل پیپلزپارٹی کے سینیٹرز کی تعداد 21، مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کی تعداد 18 بنتی ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے پانچ سینیٹرز ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے دو دو، اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کا ایک سینیٹر موجود ہے۔ یوں حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کے پاس کُل 51 سینیٹرز موجود ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے تمام سینیٹرز نے اپوزیشن امیدوار کو ووٹ دیا تو دو آزاد اور جماعت اسلامی کے ایک سینیٹر کے ووٹ لیے بغیر بھی پی ڈی ایم چیئرمین سینیٹ منتخب کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
دوسری جانب حکومتی اتحاد اگر پانچ اپوزیشن سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومت اپوزیشن کو اپ سیٹ شکست دے سکتی ہے۔ یوں
سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے ایوان بالا میں سب سے بڑی جماعت بن جانے کا باوجود حزبِ اختلاف کے اراکین کی تعداد ایوان میں اس سے زیادہ ہے۔
لیکن سینیٹ انتخابات کے ہنگامہ خیز نتائج کے بعد کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ ہو گا۔ انکا کہنا یے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر بھی اپوزیشن کے ووٹ حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھے لیکن پھر خفیہ رائے شماری میں چودہ اپوزیشن اراکین نے صادق سنجرانی کو ووٹ دے کر بازی پلٹ دی۔ دوسری جانب اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ اب حالات بدل چکے ہیں اور حکومتی اراکین کی ایک بڑی تعداد وزیراعظم سے نالاں ہے جس کا مظاہرہ وہ سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں کریں گے جہاں خفیہ رائے شماری کے تحت ووٹ ڈالا جائے گا۔
سینیٹ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد حزبِ اختلاف نے وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے، جب کہ عمران خان نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جو وہ اوپن بیلٹ کی وجہ سے آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن ذیادہ تر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایوانِ بالا میں اکثریت نہ ہونے کے باعث موجودہ حالات میں حکومت کے لیے اپنے سینیٹ امیدوار کو کامیاب بنانا ممکن نہیں ہو گا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف سینیٹ انتخابات میں اپنی متوقع نشستوں سے کم نشستیں حاصل کر پائی اور موجودہ حالات میں حکومت کے لیے اپنی پسند کا چیئرمین سینیٹ منتخب کروانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں صادق سنجرانی کمزور امیدوار ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت سینیٹ انتخابات کے نتائج کے صدمے سے نکلنے اور اعتماد کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی ہے جس میں انہیں وقت لگے گا۔
‘پاکستان ٹو ڈے’ کے مدیر عارف نظامی کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس ایوانِ بالا میں چیئرمین منتخب کروانے کی اکثریت نہیں ہے، تاہم یہ اس صورت ہی ہو سکتا ہے کہ خفیہ رائے شماری میں نتائج کو بدلا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح 2019 میں صادق سنجرانی نے حزبِ اختلاف کی تحریکِ عدمِ اعتماد کو واضح اکثریت رکھنے کے باوجود ناکام کیا تھا، وہ جادو دوبارہ بھی سیکرٹ بیلٹ میں چل سکتا ہے۔عارف نظامی کہتے ہیں کہ اپوزیشن متحد دکھائی دیتی ہے اور ان کے پاس عددی اکثریت بھی ہے، اس لیے اپ سیٹ کا فارمولا صرف خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہی چل سکتا ہے۔ عارف نظامی کے بقول اکثریت رکھنے کے سبب یوسف رضا گیلانی اگر چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتے ہیں تو یہ حکومت کے لیے ایک سیٹ بیک ہو گا لیکن ایسا نہیں ہو گا کہ حکومتی امور اور قانون سازی رک جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button