کیا ANP اور PTM ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہیں؟

ماضی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں منفی رائے اور تحفظات رکھنے والی عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے پی ٹی ایم کے بارے میں اپنا بیانیہ تبدیل کرتے ہوئے اس کے قریب آنا شروع کر دیا ہے جس کی بنیادی وجہ دونوں پختون جماعتوں کا نیشنلسٹ بیانیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس مشترکہ بیانیے کی وجہ سے یہ دونوں جماعتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت پشتون تحفظ موومنٹ کو ریاستی اداروں کا بغل بچہ قرار دیتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب وزیرستان کے علاقوں میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن چل رہا تھا اورعسکری حلقوں کو قبائلی علاقوں میں عوامی حمایت درکار تھی جس کے لیے فوج نے منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر وغیرہ کا سہارا لیا۔ چنانچہ اے این پی اس زمانے میں پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی لیکن حالیہ مہینوں میں اسٹیبلشمنٹ کے پی ٹی ایم مخالف اور پی ٹی ایم کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنانے کے بعد اب اے این پی کی قیادت نے پی ٹی ایم کی قیادت سے قربت پیدا کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے 14 جنوری کے روز پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ مںظور پشتین کی پشتون سیاسی لیڈران کو اتحاد کی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پی ٹی ایم کی جانب سے پشتونوں کے مسائل متفقہ طور پر حال کرنے کی پیشکش کو سراہتے ہیں۔ اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے جو مطالبات ہیں وہ اے این پی کے منشور کا حصہ ہیں اور انہوں نے روز اول سے اس تنظیم کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔ اسفندیار ولی کے بیان پر رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے ٹوئٹر پر پشتو میں لکھا کہ ’پشتونوں کا اتفاق ضروری ہے ورنہ ہم ختم ہو جائیں گے۔‘ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پی ٹی ایم کے حالیہ کامیاب بنوں جلسے میں منظور پشتین نے کہا تھا کہ وہ پشتونوں کے مسائل حل کرنے کےلیے پشتونوں کے سیاسی لیڈران جس میں اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، آفتاب شیرپاؤ وغیرہ کے ساتھ بیٹھ کر اتحاد و اتفاق سے آگے جانا چاہتے ہے۔
تاہم ماضی میں اے این پی کے رہنماؤں کی جانب سے پی ٹی ایم پر مخلتف الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ کچھ ماہ پہلے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’پی ٹی ایم پاکستانی اداروں کی سپورٹ سے چل رہی ہے اور یہی وجہ تھی کہ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی ایم سے وابستہ محسن داوڑ اور علی وزیر وزیرستان سے کامیاب ہوئے تھے۔‘ اسی طرح اسفندیار ولی خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’پی ٹی ایم پاکستانی اداروں کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پی ٹی ایم کو سپورٹ نہیں کرتے کیوںکہ اے این پی نے عدم تشدد کی بات کی ہے اور اسی پر ہمارا اور پی ٹی ایم کے درمیان اختلاف ہے۔‘
بعض تجزیہ کاروں کی رائے میں پی ٹی ایم ایک پشتون نیشنلسٹ موومنٹ ہے اور پشتونوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں لہذا یہی وجہ ہے کہ دیگر نیشنلسٹ پارٹیاں اس تنظیم کو اپنی سیاست کےلیے خطرہ سمجھتی ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل قریب میں اے این پی اور پی ٹی ایم مشترکہ نیشنلسٹ جدوجہد کے لئے ہاتھ ملا سکتی ہیں؟
تجزیہ نگاروں کے خیال میں پی ٹی ایم کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں زیادہ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اے این پی کی سیاست کی مخالفت کی ہے۔ یہی حال اے این پی کا بھی ہے۔ اے این پی کیلئے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ پی ٹی ایم کی قیادت کی طرح کھل کر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پبلک پوزیش نہیں لے سکتی۔ لہذا ان دونوں جماعتوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا تو مشکل نظر آتا ہے لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اختلافات میں پڑنے کی بجائے علیحدہ علیحدہ اپنی نیشنلسٹ موومنٹس کو آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button