ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے….تیرے بوٹ کے سبھی اسیر ہوئے

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
تیرے بوٹ کے سبھی اسیر ہوئے
تحریک انصاف کے بونگے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے ہاتھوں فوجی بوٹ لائیو ٹاک شو میں ٹی وی پر لہرانے کے بعد اب ہر جانب سے بوٹ بوٹ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ بوٹ کی کہانی فیصل واوڈا کی پیدائش سے کئی دہائیاں پہلے شروع ہوئی۔ سوویت کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل خروشیف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سوویت وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ فلپائن کے مندوب سمولانگ نے اپنے خطاب کے دوران خروشیف کی دکھتی رگ پر حملہ کیا کہ مشرقی یورپ کے ممالک روس کی غلامی کے چنگل میں سسک رہے ہیں۔ بس پھر کیا تھا خروشیف نے عین تقریر کے دوران سمولانگ کو روکا اور ہوا میں مکہ لہراتے ہوئے اسے امریکی پٹھو اور سامراجیوں کے بوٹ چاٹنے والا ٹٹو قرار دے دیا اور پھر اسے داد دینے کے انداز میں اپنا جوتا اتار کے ڈیسک پر زور زور سے مارنے لگے۔
12 اکتوبر 1960کو پیش آنے والے اس تاریخی واقعہ پر تیسری دنیا کے کئی سوویت دوست ممالک نے خروشیف کی جرات کی تعریف کی مگر مغربی اشرافیہ نے اس بدتہذیبی پر تھُو تھُو کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سفارت کاری کی روایات کے منہ پر جُوتا قرار دیا۔
اس واقعے کے 60 برس بعد ایک ٹاک شو میں وفاقی فیصل واوڈا کی جانب سے فوجی بوٹ دکھانے اور اسکی سیاسی اہمیت اجاگر ہونے کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت کے حوالے سے فوری طور پر یہ شعر ذہن میں آتا ہے:
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب تیرے بوٹ کے اسیر ہوئے
تادمِ تحریر آئی ایس پی آر نے فوجی جُوتے کی اس انداز سے تشہیر پر کوئی تعریفی یا تنقیدی ٹویٹ نہیں چلایا۔ اپوزیشن تو خیر اس وقت ہے ہی سو جُوتے اور سو پیاز والی پوزیشن میں۔
دراصل جُوتے اور پاکستانی سیاست کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ سات اپریل 2008 کو سندھ اسمبلی کے احاطے میں پیپلز پارٹی کے ایک جیالے آغا جاوید پٹھان نے سندھ کے سابق وزیرِ اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے منہ پر جُوتا جڑ دیا۔ دو چار دن ہا ہا کار ہوئی پھر سب بھول بھال گئے لیکن یاد رہے کہ وہ ایک عام جوتا تھا، کوئی فوجی بوٹ نہیں۔ ہمارے معاشرے میں مخالفین کو جُوتے دکھانا ایک عام بات ہے۔ کچھ غصے میں آجاتے ہیں اور کچھ نظرانداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مثلاً وزیرِ اعظم بھٹو نے پنجاب میں ایک جلسہ کیا تو کچھ شرکا نے ہاتھوں پر جوتے بلند کر دئیے۔ بھٹو صاحب نے صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے کہا، پہن لو پہن لو۔ مجھے معلوم ہے کہ یہاں اتنی غربت ہے کہ بہت سے لوگوں کے پاس جوتے تک نہیں۔ میں جلد ہی اس علاقے میں جوتوں کا کارخانہ کھول دوں گا۔ یوں تالیوں کی گونج میں ایک ناخوشگوار بات آئی گئی ہو گئی۔
فیصل واوڈا نے جو کیا ہے اس حرکت کے بعد کا اگلا مرحلہ تو یہی ہے کہ اب کوئی شخص پارلیمنٹ کے ڈیسک پر جُوتا بجا دے اور پھر کوئی اور کسی دن کسی معزز رکن کے سر پر جُوتا مار دے۔ اچھائی کا تو معلوم نہیں کہ کس رفتار سے پھیلتی ہے مگر بُرائی جُوتے کی اُڑان کی رفتار سے پھیلتی ہے۔ جب سب کچھ ہی جُوتے کی نوک پر ہو تو پھر ایک ٹاک شو میں جُوتا اٹھا کے میز پر رکھنا ہرگز ہرگز کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک نارمل حرکت لگتی ہے۔
بقول شخصے:
بوٹ رے بوٹ تیری کون سی کل سیدھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button