گنے کی قیمت پر شوگر ملز، کسانوں اور حکومت کے درمیان تعطل برقرار

ملک میں جہاں ایک طرف صارفین مختلف اشیا کی اضافی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں وہیں گنے کی قیمت پر شوگر ملز، کسانوں اور حکومتی اتھارٹیز کے درمیان تعطل برقرار ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران مڈل مین اچھا منافع کما رہے ہیں کیونکہ نئے قوانین کے تحت صرف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادائیگیاں ضروری ہیں۔
ادھر وزارت صنعت و پیداوار حماد اظہر نے ہفتے کو اس بات کو تسلیم کیا کہ چینی کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھ رہی ہے جبکہ حکومت خام چینی پر درآمدی ڈیوٹیز ختم کرنے کا سوچ رہی ہے تاکہ ملک میں مناسب قیمتوں پر مناسب اسٹاکس کو یقینی بنایا جائے۔ایک نجی چینل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت نے اس سلسلے میں ایک سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بھیجی ہے۔انہوں نے گنے کی خریداری میں مڈل مین کے بڑھتے کردار کو تسلیم کیا اور کہا کہ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس پریکٹس کو ختم کریں۔بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے شوگر ملوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ پیدواری اعداد و شمار کا معلوم رہے۔
دوسری جانب پاکستان شوگر ملزم ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے چیئرمین اسکندر خان نے وزیراعظم کو خط لکھا جس میں انہوں نے چینی کی قیتموں کے معاملے پر توجہ دلائی اور مطالبہ کیا کہ مقامی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے چینی اور گڑ کی افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے اسمگلنگ روکیں۔پی ایس ایم اے کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت گڑ کنٹرول ایکٹ 1948 نافذ کرے جو گڑ کی پیداوار کے لیے صرف 25 فیصد کی اجازت دیتا ہے۔اپنے خط میں انہوں نے لکھا تاہم اس وقت پشاور وادی میں گنے سے تقریباً 100 فیصد گڑ کی تیاری میں منتقل کردیا گیا ہے جس میں سے زیادہ تر ملک سے باہر اسمگل ہوتا ہے۔
ادھر یہ تمام معاملات شوگر ایڈوائزی بورڈ کے حالیہ اجلاس میں بھی زیر غور آئے جہاں چاروں اطراف سے الزامات کی بوچھاڑ دیکھنے کو ملی جبکہ شوگر ملرز نے 200 روپے فی 40 کلو کی امدادی قیمت پر گنے کی ہموار فراہمی میں حکومت کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اپنے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی تو ملک میں آنے والے ہفتوں میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والی کمی کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران مختلف مارکیٹوں میں چینی کی قیمت 5 سے 6 روپے فی کلو تک بڑھ گئی جبکہ ریٹیلرز نے اتار چڑھاؤ پر تحفظات کا اظہار کیا۔
کراچی ریٹیل گروسرز گروپ کے چیئرمین فرید قریشی کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ریٹیل قیمت 95 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہول سیل قیمت 90 روپے ہے تاہم مارکیٹ میں یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ قیمتیں 100 روپے کلو تک جاسکتی ہیں‘۔دوسری جانب بڑے کرتا دھرتا کسی حل کی تلاش میں ناکام رہے اور وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزی کا اجلاس غیرنتیجہ رہا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے گنے کی امدادی قیمیت 200 روپے من (40 کلو) رکھے جانے کے باوجود سندھ میں اس وقت قیمت 300 روپے، پنجاب میں 270 سے 290 روپے اور خیبرپختونخوا میں 290 روپے ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار نے حساب کتاب لگایا تھا کہ 200 روپے من کی قیمت کی بنیاد پر چینی کی قیمت 75 سے 80 روپے کے درمیان ہونی چاہیے۔علاوہ ازیں سندھ کین کمشنر نے تسلیم کیا کہ صوبے میں قیمت 300 روپے سے زائد ہے چونکہ رواں سال گنے کی کمی رہی جبکہ ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ ‘یہ کسانوں کو فائدہ پہنچے گا‘۔اسی دوران شرکا نے اتفاق کیا کہ شوگر ملوں کے قریب مڈل مین کی نئی کلاس موجود ہے کیونکہ نئی قانون نے فروخت کنندگان کے لیے یہ لازمی کیا ہے کہ ان کا بینک آکاؤنٹ ہو جبکہ بہت سے کسانوں کا اکاؤنٹ نہیں۔
