گورنرکا ایڈوائس میں الیکشن کی تاریخ نہ لکھنا چیلنج کر یں گے

تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی کیس مجھے نہیں کر سکتا، نااہل کر بھی دیا گیا تب بھی لوگ پی ٹی آئی کے نظریے کو ووٹ دیں گے، گورنر پنجاب نے ایڈوائس میں انتخابات کی تاریخ نہ لکھ کر آئین کی خلاف ورزی کی یہ اقدام عدالت میں چیلنج کریں گے۔
لاہور میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے اسمبلی تحلیل کے بعد بھیجی گئی ایڈوائس میں انتخابات کی تاریخ نہ لکھ کر آئین کی خلاف ورزی کی، گورنر پنجاب کے اس اقدام کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اگر ملک میں صاف شفاف انتخابات نہ ہوئے تو سری لنکا جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے تاہم اگر جنرل الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ بھی ہوا تو سڑکوں پر احتجاج کا کوئی آپشن زیر غور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کے بارے میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ وہ ساری تباہی کا ذمہ دار ہے، مسلم لیگ (ن) کے اندر توڑ پھوڑ کے حوالے سے سنجیدہ آوازیں سننے کو مل رہی ہیں، مسلم لیگ ن کی موروثی سیاست کے خلاف پہلی آواز چوہدری نثار نے بلند کی، ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ڈی ایم مشترکہ طور پر عوام کے سامنے بے نقاب ہورہی ہے، پی ڈی ایم مکمل طورپر فیل ہوچکی ہے، ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں، پی ڈی ایم نے مشترکہ طور پر عوام کے وسائل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا، صرف تحریک انصاف کی حکومت ہی ملک کو ان بحرانوں سے نجات دلا سکتی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ یہ حکومت طویل مدت تک چلنے سے پاکستان میں سری لنکا جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، پنجاب اسمبلی کی تحلیل پی ڈی ایم کے لئے ایک ایسا شاٹ ہے جس کی گونج صدیوں تک انہیں سنائی دے گی، نواز شریف قطعا! سیاست دان نہیں۔
بلوچستان کے مسائل سے متعلق عمران خان نے کہا بلوچستان کے لیے صرف اور صرف سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا، میرے پاس ابھی بہت سے ایسے کارڈ باقی ہیں جب کھیلوں گا تو پی ڈی ایم کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے، اگر مجھے نا اہل کر بھی دیا تو لوگ تحریک انصاف کے نظریے کو ووٹ دیں گے۔
