PTI کے استعفے بیانات اوردستخط کا جائزہ لینے کے بعد منظورکیے

سپیکر  قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ  تحریک انصاف)کے اراکین کے استعفے ان کے بیانات اور دستخط کا جائزہ لینے کے بعد منظور کیے جبکہ کئی اراکین نے رابطہ کرکے بتایا کہ وہ استعفیٰ نہیں دینا چاہتے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے کہا کہ جب میں استعفے منظور کرتا ہو تو بھی شور مچ جاتا ہے اور جب نہیں کرتا تو بھی شور مچ جاتا ہے، یہ کیا بات ہے،ان سے سوال کیا گیا کہ عمران خان نے جب اسمبلی میں واپسی کا عندیہ دیا تو آپ نے استعفے منظور کرلیے، جس پر راجا پرویز اشرف نے کہا کہ جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا وفد مجھ سے ملنے آیا تھا تو اس وقت اس پر کام شروع ہوچکا تھا،

انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کے دستخط، بیانات اور سوشل میڈیا پر آکر جو بات کی اور ٹوئٹس کیں، ان سب کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا، میں تو اب بھی چاہوں گا کہ جن لوگوں کے استعفے منظور نہیں ہوئے ہیں وہ آئیں اور اسمبلی میں بیٹھیں، وہ اسمبلی میں کیوں نہیں بیٹھ رہے ہیں، جو لوگ آئے یا جنہوں نے میڈیا پر آکر استعفے سے متعلق کہا اور مجھے اطمینان دلادیا، میں نے مطمئن ہوکر ایسے ارکان کے استعفے منظور کرلیے ہیں، پی ٹی آئی کے کئی ارکان نے مجھے رابطہ کرکے کہا کہ وہ ابھی سوچ رہے ہیں۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے چند اراکین رابطہ کر رہے ہیں کہ وہ استعفے نہیں دینا چاہتے ہیں، کئی دوستوں نے فون کرکے مجھے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دینا چاہتے ہیں،رابطہ کرنے والے پی ٹی آئی اراکین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اب عام انتخابات کے علاوہ الیکشن بھی لڑنا نہیں چاہتے ہیں، عام انتخابات یا صوبوں میں انتخابات سے متعلق سوال پر  انہوں کہا کہ ہمارے پاس آئین ہے اور آئین جو کہتا اسی پر عمل کریں اور اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی، بطور اسپیکر میرے علم یہ بات نہیں ہے اس وقت انتخابات کے حوالے سے سیاسی جماعتیں کیا فیصلہ کر رہے ہیں، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو کرنا ہے۔

خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے 17 جنوری کو پی ٹی آئی کے 35 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرلیے تھے، جن اراکین کے استعفے منظور کیے گئے ہیں ان میں 33 ارکان کے ساتھ ساتھ خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین بھی شامل ہیں، استعفوں کی  منظوری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 35 اراکین قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا تھا۔

اس سے قبل میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے زمان پارک میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران قومی اسمبلی میں واپسی کا اشارہ دیا تھا، عمران خان نے اشارہ دیا ہے کہ ان کے اراکین قومی اسمبلی نگران حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بات چیت کے لیے ایوان میں واپس جاسکتے ہیں۔

دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے راجا پرویز اشرف کے اس فیصلے کو بڑی انصافی قرار دیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اسپیکر نے اپنے عہدے کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے، جب آپ ایک آئینی منصب پر ہوں تو آئین اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہیے، سیاسی لوگوں کی خواہشات پوری نہیں کرنا ہوتی ہیں بلکہ قانون کے مطابق چلنا ہوتا ہے، راجا پرویز اشرف نے جو کیا ہے وہ آئین سے بالا تر کام ہے، انہوں نے جو بھی کیا ہے وہ ہماری اسمبلی کی تاریخ میں بدنما داغ رہے گا۔

Back to top button