گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان آج اہم مذاکرات، بریک تھرو کی امید
9 روز سے جاری ملک گیر ہڑتال کے تناظر میں گورنر ہاؤس سندھ میں وفاقی و صوبائی نمائندوں سے مذاکرات ہوں گے، مطالبات منظور نہ ہوئے تو احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

کراچی (نیوز ڈیسک) گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومت کے درمیان آج اہم مذاکرات ہونے جارہے ہیں، جن میں فریقین کی جانب سے مثبت پیش رفت اور ممکنہ بریک تھرو کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ مذاکرات دوپہر 3 بجے گورنر ہاؤس سندھ میں ہوں گے، جن میں وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور سندھ حکومت کے نمائندے شرکت کریں گے۔
ان کے مطابق گورنر سندھ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، پنجاب اور سندھ کے وزرائے ٹرانسپورٹ سمیت دیگر وفاقی اور صوبائی حکام بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔
ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی پُرامن ملک گیر ہڑتال گزشتہ 9 روز سے جاری ہے اور ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ مذاکرات کے نتیجے میں مسائل جلد حل ہوں گے اور ٹرانسپورٹ کا نظام دوبارہ معمول پر آسکے گا۔
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد نے ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی اور صرف حکومتی یقین دہانیوں پر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ گورنر ہاؤس سندھ میں ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ان کے جائز اور قانونی مطالبات تسلیم کرے گی۔
محمد اویس چوہدری کے مطابق اگر حکومت مطالبات منظور کرلیتی ہے تو ٹرانسپورٹرز کو ہڑتال کے خاتمے سے متعلق خوشخبری دی جاسکتی ہے، تاہم صرف زبانی یقین دہانیوں کی صورت میں احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر ہڑتال مزید 10 روز تک بھی جاری رکھی جاسکتی ہے اور ٹرانسپورٹرز کا مقصد صرف اپنے قانونی مطالبات کی منظوری ہے۔
محمد اویس چوہدری نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز متحد ہیں اور اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔
